اسنیپ چیٹ فلٹرز جیسا نظر آنے کیلئے نوجوان پلاسٹک سرجری کروانے لگے

Young People are getting plastic surgery to look like snap chat filters
Young People are getting plastic surgery to look like snap chat filters

:کیلفورنیا

کچھ عرصہ قبل تک تو صرف نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے سیلفی کے شوق پر ہی بات کی جاتی تھی، لیکن حقیقت میں یہ بات سیلفی سے بھی کہیں آگے بڑھ چکی ہے اور مغرب میں اب نوجوان اسنیپ چیٹ فلٹرز جیسا نظر آنے کے لیے پلاسٹک سرجری کروانے لگے ہیں۔

ماہرین نے اسے ذہنی عارضہ قرار دیتے ہوئے ‘اسنیپ چیٹ ڈس مورفیا’کا نام دیا ہے۔

 ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس نئے رجحان کے تحت نوجوان اپنے موبائل فون پر فلٹرز لگاتے لگاتے اصل زندگی میں بھی ویسا ہی دکھائی دینے کی خواہش کرنے لگتے ہیں، جو بلاشبہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔

انسائیڈ ایڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک 32 سالہ ڈریس ڈیزائنر جیسیکا رچ بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں، جنہیں اپنی اصل لُک کے بجائے اسنیپ چیٹ فلٹرز کے بعد نظر آنے والی تصویر زیادہ پسند ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پلاسٹک سرجری کروانے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ اسنیپ چیٹ کے بیوٹی فلٹرز کے ذریعے ہونٹوں کو بڑا، ناک کو چھوٹا اور جلد کو صاف ستھرا دِکھایا جاسکتا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی میں شعبہ ڈرماٹولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر نیلم واشی کے مطابق لوگ اب ایسی سرجریز کروانا چاہتے ہیں، جن کے بعد وہ سیلفیز میں بہتر نظر آسکیں اور گزشتہ دو برس کے دوران اس رجحان میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا، لوگ نہ صرف تصاویر میں اپنی ظاہری شکل و صورت کو بہتر بنانے کے لیے کاسمیٹک سرجری کرواتے ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ بالکل ویسا ہی دکھائی دیں، جیسا کہ فلٹر شدہ تصویر میں نظر آتے ہیں۔

تاہم کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فلٹر شدہ تصاویر سے خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات قائم ہورہے ہیں۔

نیلم واشی کے مطابق اس سارے عمل میں کچھ رِسک بھی ہوتے ہیں، لوگ ایسا ناک بنانا چاہتے ہیں کہ وہ سیلفی میں اچھے لگیں، جس کے لیے آپ کو ناک کا سائز چھوٹا کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ حقیقی زندگی میں ابنارمل لگتا ہے، حتیٰ کہ سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جب اس حوالے سے موقف لینے کے لیے اسنیپ چیٹ کی پیرنٹ کمپنی سے رابطہ کیا گیا تو کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کے فلٹرز صرف اسٹوریز اور اپنے آپ کے اظہار کے لیے تفریح کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here