سلمان مجاہد بلوچ پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور بلیک میل کرنے کی ایک اور شکایت سامنے آ گئی

Woman claims MQM’s Salman Mujahid sexually assaulted, blackmailed her
Woman claims MQM’s Salman Mujahid sexually assaulted, blackmailed her

:کراچی

سلمان مجاہد بلوچ پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور بلیک میل کرنے کی ایک اور شکایت سامنے آ گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق معروف سماجی کارکن صارم برنی نے ایم کیو ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہدبلوچ پر لڑکی سے زیادتی کا الزام لگا یا ہے۔صارم برنی کا کہنا ہے کہ سلما ن مجاہد بلوچ نے ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ اب اسے بلیک میل بھی کر رہے ہیں۔

متاثرہ لڑکی نے انصاف کے حصول کے لئے ہم سے رابطہ کیا ہے۔صارم برنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ لڑکی کی شادی کرنے پر اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروائی ہے۔جب کہ لڑکی کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کو بھی اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اور مجھے 17سال کی عمر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔علینہ نامی خاتون کا کہنا ہے کہ سلمان مجاہد نے مجھے بھانجی بنا کر نوکری کا جھانسہ دے کر اسلام آباد بلایا اور زیادتی کا نشانہ بنایا ۔

FIR Copy

جس کی ویڈیوز بنا کر مجھے بلیک میل بھی کیا گیا۔جب کہ دوسری طرف سلمان مجاہد بلوچ کا کہنا ہے کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں اور یہ سارا گیم پلان میرے خلاف فاروق ستار کو جوائن کرنے کے بعد شروع کیا گیا ہے۔جب کہ میری سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔اس کے علاوہ سلمان مجاہد بلوچ نے یہ بھی کہا کہ میں نے اس لڑکی کی والدہ کے علاج کے لئے 40لاکھ روپے بھی دئیے اور مجھے مدد کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے۔

FIR

سلمان مجاہد بلوچ نے کہا ہے کہ خاتون نے میری خلاف 4جنوری کو درخواست درج کروائی جب کہ میں 16دسمبر کو ان کے خلاف ایک درخواست درج کروا چکا ہوں۔اور یہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔سلمان احمد بلوچ نے اپنے ساتھ لڑکی کی تصویر کو بھی جعلی قرار دیا ہے۔سلمان مجاہد بلوچ کے خلاف تھانہ گلشن اقبال میں میں لڑکی کو زیادتی کا نشا نہ بنانے اور ملیک میل کرنے کی وجہ سے درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔متاثرہ لڑکی کی طرف سے صارم برنی نے درخواست درج کروائی۔صارم برنی کا کہنا ہے کہ ایسے شخص کو ایم کیو ایم سے نکال دینا چاہئیے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی سلمان احمد بلوچ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کارکنان کو ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کروا چکی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here