’سول بالادستی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ادارے حدود سے تجاوز نہ کریں‘

'Will not withdraw from civil power, institute do not exceed their limits'
'Will not withdraw from civil power, institute do not exceed their limits'

:لاہور

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہےکہ ہم ملک میں سول بالادستی اور آئین کی حکمرانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب کہ آئین کی حکمرانی کا مطلب ہےکہ تمام ادارے آئین کےمطابق کام کریں اور حدود سے تجاوز نہ کریں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں کوئی گھبراہٹ نہیں، (ن) لیگ ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، پی پی اور پی ٹی آئی سمیت باقی سیاسی گروپ الگ الگ کوشش کرکے دیکھ چکے لیکن (ن) لیگ کو گرا نہیں سکے۔

ملک میں اینٹی اور پرو نوازشریف سیاست چل رہی ہے، سعد رفیق

سعد رفیق نے کہا کہ سیاسی مخالف سمجھتے ہیں ہمیں گرانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ملنا چاہیے، ہمارے بعض مخالف ایسے ہیں کہ ہمیں گرانے کے لیے اگر انہیں شیطان سے بھی اتحاد کرنا پڑا تو کرلیں گے۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان میں اینٹی بھٹو اور پرو بھٹو سیاست ہوتی تھی، اب اینٹی نوازشریف اور پرو نوازشریف سیاست چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ بنیادی طور پر آئین اور ووٹ کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، آئین کی حکمرانی کا مطلب ہےکہ تمام ادارے، پارلیمنٹ، عدلیہ، مسلح افواج سمیت مختلف سول بیورو کریسی کے ادارے آئین کےمطابق کام کریں اور حدود سے تجاوز نہ کریں۔

خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ ملک میں آئین کی حکمرانی کی بات کرنا آسان نہیں، اس کی اپنی ایک قیمت ہے جو ہم ادا کرچکے اور کررہے ہیں لیکن سول بالادستی اور آئین کی حکمرانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف سیاسی صف بندی ہورہی ہے جو مخالفین کا حق ہے، اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا لیکن دین، مذہب اور ناموس ریاست پر بھی سیاست کی جارہی ہے اس پر اعتراض ہوتا ہے۔

پیپلزپارٹی دیہی سندھ کی جماعت بن چکی، وزیر ریلوے

وزیر ریلوے نے کہا کہ آصف زرداری بہت شاطر اور سمجھدار آرمی ہیں لیکن ان کے اپنے مسائل ہیں، ان کے بہت ویک پوائنٹ ہیں، کرپشن کے الزامات اور بہت کیسز ہیں، ان کی پارٹی ختم ہوچکی ہے جو لاکھوں ووٹوں سے سیکڑوں پر آچکی ہے، پیپلزپارٹی اب دیہی سندھ کی جماعت بن چکی ہے، ہمیں اس بات کی خوشی نہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں ختم ہونے سے سوسائٹی کو نقصان ہوتا ہے۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اورعمران خان میں مقابلہ ہے کہ کون بڑی گالی دیتا ہے اور کون زیادہ الزام لگاتا ہے، یہ لوگ گالی دینے اور زیادہ ووٹوں کےچکر میں حدود سے آگے نکل جاتے ہیں، ہمیں نقصان پہنچانے کی خواہش میں پاکستان اور جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اب لیٹ ہوگئی ان کی بس مس ہوگئی ہے، پیپلزپارٹی کا اسلام آباد والا جلسہ اچھا تھا لیکن ان کی نوجوان قیادت پر بہت بوجھ ہے۔

ملک میں کچھ سیاسی روبوٹس ہیں، رہنما مسلم لیگ (ن)

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پیپلزپارٹی پنجاب میں زیادہ سرگرمیاں کرے اور ہمارا مقابلہ کرے، ان کے جلسوں کا ہمیں فائدہ ہی ہوتاہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ سیاسی کردار اور کچھ روبوٹس ہیں، کچھ روبوٹس طاہرالقادری سےملتے ہیں، ملکی سیاست میں چوہدری برادران کا رول روبوٹس کا ہے، کراچی کی ایک جماعت خود مانتی ہے کہ وہ روبوٹ ہے، روبوٹ کی سیاست نے ہمیشہ ملکی سیاست کو خراب کیا، پتا نہیں روبوٹس کا ریموٹ کنٹرول کس کس کے پاس ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ قادری صاحب کو حالات کی نزاکت کا اندازہ ہونا چاہیے، وہ اپنےفیصلے خود کریں تو زیادہ بہتر کرسکتے ہیں، طاہرالقادری کا نکتہ اختلاف ان کا حق ہے، ماڈل ٹاؤن میں ان کی جماعت کے لوگ جاں بحق ہوئے، اس قضیہ کا فیصلہ عدالت میں ہوگا، اس حوالے سے رپورٹ کا قانونی اثر نہیں، مقدمات چل رہے ہیں انہیں چلنے دیا جائے اور عدالتوں کو فیصلے کرنے دیں۔

عدالتوں کے فیصلے اچھے لگیں یا برے، انہیں ماننا پڑتا ہے، سعد رفیق

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے حکومتوں کے خلاف اور حق میں بھی فیصلے کیے، عدالتیں عدالتیں ہیں، ان کے فیصلے اچھے لگیں یا نہیں لیکن انہیں ماننا پڑتاہے، لہٰذا چوک چوراہوں پر دھرنے نہ دیئے جائیں اس سے لوگوں کی زندگی عذاب نہ کریں، اختلاف حکومت کے ساتھ ہے مگر زندگی عوام کی اجیرن کی جاتی ہے، اس طرح کی ڈرٹی پولیٹکیس نہیں کرنا چاہیے۔

عام انتخابات سے متعلق سعد رفیق نے کہا کہ اللہ کرے انتخابات وقت پر ہوں، لیکن انتخابات کا تعلق آئینی ترمیم کے ساتھ ہے، حلقہ بندیوں کے لیے پیپلزپارٹی سینیٹ میں ووٹ ڈالنے سے گریزاں ہے، اگر قانون سازی نہیں ہوتی تو الیکشن تاخیر سے ہوسکتے ہیں، الیکشن میں تاخیر ہوئی تو کتنی ہوگی اس کی کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here