پتنگ کا نشان کون استعمال کرے گا؟ ایم کیو ایم پھر اختلافات کا شکار

Who will use the kite mark?
Who will use the kite mark?

:کراچی

عام انتخابات 2018 میں پتنگ کا نشان کون استعمال کرے گا؟ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا بہادرآباد اور پی آئی بی گروپ پھر آمنے سامنے آگئے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پتنگ کا نشان ایم کیوایم پاکستان کو الاٹ کیا تاہم الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد پتنگ کے نشان پر دونوں دھڑوں نے اپنا دعویٰ کردیا ہے۔

ایم کیو ایم بہادرآباد کے رہنما فاروق ستار کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے پتنگ کا نشان ان کی درخواست پر ایم کیو ایم کو الاٹ کیا۔

فاروق ستار نے اپنی ٹوئٹ میں الیکشن کمیشن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسری جانب بہادرآباد گروپ کا دعویٰ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پتنگ کے نشان کے لیے متحدہ کے دونوں دھڑوں نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم پی آئی بی نے امیدواروں کے انتخاب کیلئے پارلیمانی بورڈ بھی تشکیل دے دیا ہے اور یہ فاروق ستار نے تشکیل دیا ہے۔

پارلیمانی بورڈمیں شاہدپاشا، عبدالوسیم، جاویدکاظمی، ارشدشاہ اور منوہر لعل شامل ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم بہادرآباد کے سینیئر کنوینر عامر خان نے  کہا ہے کہ پتنگ کا نشان الاٹ ہونے پر اللہ کے حضور سر بسجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنان اور عوام اللہ کا شکر ادا کریں اور پورے جوش وخروش سے انتخابات کی تیاری شروع کریں۔

ایم کیو ایم پاکستان کا تنظیمی بحران

رواں برس فروری کے آغاز میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کا نام سینیٹ امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر پارٹی میں اختلافات نے سر اٹھایا جو بحران کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔

رابطہ کمیٹی نے کامران ٹیسوری کی رکنیت معطل کی تو فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو معطل کردیا، بعدازاں سینیٹ انتخابات کے لیے فاروق ستار گروپ اور رابطہ کمیٹی اراکین کی جانب سے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔

اسی دوران رابطہ کمیٹی نے پارٹی سربراہ فاروق ستار کو قیادت سے نکال دیا اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو بھی خط لکھا گیا جسے بعدازاں واپس لے لیا گیا۔

اس طرح ایم کیو ایم پاکستان دو گروپوں یعنی پی آئی بی گروپ اور بہادرآباد گروپ میں تقسیم ہوگئی۔

قیادت کی اس جنگ میں فاروق ستار کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کا اعلان کیا گیا، جس کے نتیجے میں فاروق ستار بھاری اکثریت سے ایم کیو ایم کے کنوینر منتخب ہوئے، جسے بہادرآباد دھڑے نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔

26 مارچ کو الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پی آئی بی گروپ کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا اور فیصلہ سنایا کہ فاروق ستار اب ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر نہیں رہے، جسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے فاروق ستار نے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here