ذمہ دار کون؟

AGHA WAQAR AHMED

ذمہ دار کون؟

آج 16 دسمبر کی صبح سرد موسم، یکبخت ہوائیں، خون جما دینے کو تیار تھیں، معصوم بچے یونیفارم پہن کہ اینے سکول بیگ کندھے پر لادے خوشی خوشی اپنے سکول کی طرف گامزن تھے، کچھ بچے اپنے والدین سے سردیوں کی چھٹیوں میں سیروتفریح کا پروگرام بناتے ہوئے اور کچھ سکول بس میں قومی ترانے گنگناتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن تھے۔

سب بچوں کی ذین میں ایک چیز مشترک تھی کہ انھوں نے سکول کے ایڈیٹوریم میں 24 دسمبر کو ہونے والے فنکشن کی ریہرسل کرنی ہے اور 25 دسمبر سے تعطیلات کا آغاز ہو جانا ہے۔

جو بچے اپنے والدین کے ساتھ سکول آتے تھے ان میں سے بیشتر کے والدین نے بچوں کو سکول کے دروازے پر اتارا ، ایہیں پیار کیا اور خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔

بسوں پر آنے والے بچوں کے والدین بھاری بھرکم بیگ اٹھائے سڑک کے کنارے کھڑے بس کا انتظار کر ریے تھے۔ اور ان میں سے بیشتر اپنے والدین کو چھٹیوں کے پروگرام کے ساتھ ساتھ واپسی پر گھر آنے پرپسندیدہ کھانے کی فرمائش کر ریے تھے کہ امی آج بہت سردی ہے جب ہم گھر آئیں تو ہمارے من پسند کا کھانا پکائیں اور بچوں کی مائیں اپنے دلاروں کو مثبت میں سر ہلا کر خدا حافظ  کر کے گھروں کو چلی گئیں۔

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کی یہ خدا حافظ ان کی زندگی کا آخری خدا حافظ ہو گا۔

آرمی پبلک سکول کے اساتذہ اور ملازمین اپنی ڈیوٹیوں پر مامور تھے اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قیامت صغٰری برپا ہونے والی ہے۔ جس کی ذمہ دار ہم سب پاکستانی ہیں۔ کیوں کہ ہم وہ مجرم ہیں جنہوں نے ایک خود ساختہ امیرالمومنین جنرل ضیاالحق کے دور میں اسلام کے نام پر دنیا بھر سے اسلامی جہادیوں کو اکٹھا کیا اور اپنا پیٹ کاٹ کر چندے اور ان کے مدارس کو پاکستانی بجٹ سے رقم نکال کر نہ صرف ان کی کفالت کی بلکہ ہمارے عسکری اداروں نے انہیں ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس کیا اور انہیں استعمال کرنے کے طریقے سکھانے کے لئے تربیتی کیمپ کھولے اور جہاد کا مفہوم غلط بیان کر کے ان کو اس قدر خوفناک کمانڈو بنا دیا کہ بعد میں وہ افراد خود سر ہو گئے اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات سے باہر نکل گئے۔

ان کی تربیت پر مامور جنرل حمید گل، جنرل درانی اور کرنل امام وہ قابل ذکر افراد ہیں جنہوں نے یہ وحشی گروپ تشکیل دیا اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ کرنل امام کی موت انہیں طالبان کے ہاتھ سے ہوئی جو تربیت دینے والوں کی خوفناک انجام تھا۔

جہادی تنظیموں کی تشکیل، اسلحہ اور ہتھیار چلانے کی تربیت اور دولت کا انبار جہاں ہم نے ان کو دیا وہیں پر سعودی عرب اور مشرق وسطی کے ممالک ہم سے دو قدم آگے تھے۔

میں سقوط ڈھاکہ پر تحریر کر رہا تھا کہ 17 دسمبر کو اپنے کالم میں یہ متعین کر سکوں کہ اس کا ذمہ دار سیاستدان ہیں یا پاک افواج؟؟؟ اسی اثنا میں ٹیلی ویژن پر ایک خبر نشر ہوئی اور میرے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا اور میں کچھ بھی تحرہر کرنے سے قاصر رہا کیوں کہ آرمی پبلک سکول کے ۱۴۴ معصوم بچے اور چند اساتذہ درنرہ طالبان کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے۔ آج آرمی پبلک سکول کے 3 سال مکمل ہوئے اور سقوط ڈھاکہ کو 46 مکمل ہوئے مگر افسوس کہ میرے جیسے قلم کار یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ان دونوں واقعات کا ذمہ دار کون ہے؟؟؟؟

 فیصلہ آپ کریں اور اگر آپ کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے میں کامیاب ہو جائیں تو میری بھی رہنمائی فرمائیں کیوں کہ ضربِ عضب اور ردالفساد اگر 2008 میں شروع ہو جاتا تو یہ ننھے پھول آج ہم میں موجود ہوتے مگر اس وقت کے سیاستدانوں نے پاک افواج کو یہ عمل شروع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اے کاش ہمارے سیاستدانوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی تربیت ہو تو ملک ان ناگہانی افاات سے محفوظ رہ سکتا ہے مگر ان عقل کے اندھے سیاستدانوں کو سمجھائے گا کون؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here