جواب دے گا کون؟

PETROL PUMP ACTION
PETROL PUMP ACTION

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے جب 22 پٹرول پمپ کی نیلامی کیلئے اخبارات میں اشتہارات دیے تواس میں انہوں نے عوام کو تاثر دیا کہ یہ لگے لگائے پٹرول پمپ کی نیلامی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ہی اشتہار میں یہ بھی مینشن کر دیا کہ شرائط سپریم کورٹ سے نامزد ہیں۔ تو کیا سپریم کورٹ یہ بات قبول کرنے کو تیار ہے کہ نیلامی کرنے سے پہلے ایل ڈی اے کیساتھ نیلامی کی شرائط تہہ کی گئی تھیں؟
کروڑوں روپے اشتہارات پر خرچ کیے اور یہ ایک اپنی تاریخ کی مختلف قسم کی نیلامی تھی جس میں سے کسی شخص نے بھی نیلامی کی رقم ایل ڈی اے کو جمع نہیں کروائی مگر ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نیلامی میں شریک فرد بولی دے رہے ہیں اور نیلامی کی جا رہی ہے بیشک کہ وہ ناکام ہوئیلیکن بولی تو دی گئی۔
اگر بولی دی گئی تو اسکی نیلامی کی رقم ایل ڈی اے کے کس اکاؤنٹ میں جمع ہوئی؟ کیا ایل ڈی اے ان کال ڈپوزٹروں کی فوٹو کاپی سپریم کورٹ پاکستان کو دیکھا سکتے ہیں؟
میرے مطابق انہوں نے اس شوٹنگ میں جن بندوں کو بٹھایا وہ ان کے اپنے ہی آدمی تھے اور ان سے کوئی کال ڈپوزٹ لیے بغیر صرف عدالت کو دیکھانے کیلئے نیلامی ہو چکی ہے، اسکے لیے یہ عمل کیا۔
یہ عمل ایک فرد یا 22 پٹرول پمپ کے مالکان کیساتھ دھوکا دہی نہیں بلکہ یہ سپریم کورٹ کیساتھ دھوکا دہی ہوئی جس کو ایک منظم طریقے سے ڈی جی ایل ڈی اے نے ایک مخصوص طریقے سے سرانجام دیا۔
ڈی جی ایل ڈی اے ناصرف عوام الناس کو دھوکا دہی دینے کی ملزم ہے کیونکہ اس نے اشتہارات میں یہ تاثر دیا تھا کہ پٹرول پمپ بِک رہے ہیں بلکہ وہ سپریم کورٹ کیساتھ بھی دھوکا دہی اور جھوٹ بولنے کے جرم میں ملوث ہے۔ کیوں نا سپریم کورٹ پاکستان توہینِ عدالت کے تحت ڈی جی ایل ڈی اے کو ٹرائل کرے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو میرے دماغ میں جنم لے رہے تھے اور میں نے عوام الناس کو بتا دیا اور اب آپ خود بتائیں اسکا جواب دے گا کون؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here