جب ہم پارلیمنٹ کو گالی دیں گے تو کسی ادارے پر اس کا احترام لازم نہیں، خواجہ آصف

When we abolish Parliament, its respect is not necessary on any institution, Khawaja Asif
When we abolish Parliament, its respect is not necessary on any institution, Khawaja Asif

:اسلام آباد

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ جب ہم پارلیمنٹ کو گالی دیں گے تو کسی ادارے پر اس کا احترام لازم نہیں۔

گزشتہ روز عمران خان نے لاہور میں متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسے سے خطاب میں پارلیمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں جو ایک مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے عمران خان کے بیان پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی طاہرالقادری کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کنٹینر پر چڑھنے والے کا پاکستان سےکوئی تعلق نہیں ہے، وہ کینیڈین شہری ہے، انہوں نے مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے جب کہ ہماری عوام تہم پرستی کا شکار ہے، وہ مذہب کو تماشہ بنانے والوں کے پیچھے چل پڑتی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فیصلے جلسوں میں نہیں ایوان میں ہوتے ہیں، یہ کامیابی کا نہیں ناکامی کا راستہ ہے، آپ کبھی ان راستوں سے ایوان میں نہیں آسکتے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ الیکشن آنے والے ہیں میدان سجے گا، ہر ایک کو مہم چلانے کا حق ہے، گالی دینے کا حق کسی کو نہیں اور نہ اس کی اجازت دیں گے۔

پی ٹی آئی اراکین پر بھی شدید تنقید

انہوں نے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جتنی بے حیائی کے ساتھ یہ لوگ واپس آئے ہیں اس ایوان نے اتنی بے شرمی کبھی نہیں دیکھی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ شاہ محمود قریشی نے اسپیکر سے کہا تھا کہ استعفوں پر کارروائی نہ کرنا، کیا یہی ان لوگوں کا حوصلہ ہے؟ اس وقت جو ان کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ اسی پارلیمنٹ کی وجہ سے ہے، نہیں تو کیا آبرو ہے، چھ سات پارٹیاں بدلتے ہیں، ادھر سے نکل کر ادھر چلے جاتے ہیں، ان کے اپنے ضمیر نہیں اور ایوان کے تقدس کو جھنجھوڑتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کا آئین کا سب سے مقتدر ادارہ پارلیمنٹ ہے اگر ہم نے اس کی حرمت کی حفاظت نہیں کرنی تو کسی اور ادارے سے اس کی عزت کی توقع نہ کریں، جب اس ادارے سے طاقت حاصل کرنے والے اسے گالی دیں گے تو کسی اور ادارے پر یہ لازم نہیں کہ وہ اس کا احترام کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس ایوان نے عزت دی، کوئی بھی شخص پارلیمنٹ پر لعنت بھیجے گا، وہ اسے گالی دے کر اپنی عزت میں اضافہ نہیں کررہا بلکہ اپنے گھٹیا پن اور بازاری ہونے کا اظہار کررہا ہے۔

خواجہ آصف نے عمران خان کے بیان پر مشترکہ تحریک استحقاق لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو اسحاق کمیٹی میں بلانا چاہیے، اگر یہ نہیں آتے تو کمیٹی چیئرمین قانونی اختیارات کے تحت بلائیں، اگر پھر نہ آتے تو گرفتار کرکے لائیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here