کیا ہونے جا رہا ہے؟

AGHA WAQAR AHMED

کیا ہونے جا رہا ہے؟

حکومت  وقت  اپنی نادانیوں اور کم  علمی یا سیاسی  سوجھ بوجھ  نہ رکھنے  کا مظاہرہ  کر رہی ہے  اور کوئی  بھی  اسمبلی  آج تک  جب سے  پاکستان  معرض وجود میں آیا ہے اپنے سیشن میں  بل  پیش کر  کے  اسے  ” کاز لسٹ”  سے  منہا  نہیں کرتی  یہ حماقت  اس قومی اسمبلی  سے ہو گئی  جبکہ  معاملہ  انتہائی  نازک  اور  پیچیدہ تھا۔

ایف سی  آر  کا قانون انگریز  کا بنایا  وہ کالا  قانون  ہے  جس  میں  نہ تو قبائلی علاقے  کے رہائشی  پاکستان  کی  قومی  و صوبائی اسمبلی میں  اپنے  ووٹوں  سے منتخب  کر کے  کوئی  نمائیندہ  بھیج سکتے ہیں اور نہ ہی  قبائلی  علاقہ  کے  شہریوں  کو یہ حق  حاصل ہے  کہ وہ  حصول  انصاف  کے لئے  ہائی کورٹ  یا سپریم کورٹ  تک رسائی  حاصل کر سکیں  بلکہ  انگریز نے اپنے  پٹھوؤں  کو وہاں  پر  ملک اور  سردار  نامزد  کر دیا  اور “عام  عوام “کو مجبوراََ ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا  اور یہ سلسلہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے  کے باوجود 70 سال سے جاری و ساری ہے  ۔

ایف  سی  آر  کے تحت  آنے والے علاقے  جو قبائل کے زمرے میں آتے ہیں  وہاں پر مقامی با اختیار  افراد جو کہ پولیٹیکل ایجنٹ  کہلاتے ہیں  وہ کسی  بھی  فرد کو بغیر کسی وجہ و ثبوت  کے  نا صرف  گرفتار  کر سکتے  ہیں بلکہ  انہیں  مالی و جانی  سزائیں  دینے کا بھی  اختیار  رکھتے ہیں ۔

 یہ حقیقت  اس  جدید  دور  میں بھی  پڑھے لکھے  طبقے  کو بھی معلوم نہیں کہ قبائل اور فاٹا کے اندر آنے والے  علاقوں میں پاکستان کا قانون  نا فذالعمل نہیں  بلکہ وہ آزادی پاکستان کے ستر سال بعد بھی  انگریز کے بنائے ہوئے کالے قانون  ایف  سی آر  کے زیر اختیار ہیں ۔

نہ تو انہیں پاکستان میں  دیگر علاقوں میں  مقیم افراد کی  طرح اظہار رائے کا حق  حاصل ہے اور نہ ہی  پاکستان کے قوانین کے مطابق ان کے کوئی  حقوق ہیں  اور وہ آج تک قبائلی سرداروں ، ملکوں اور پولیٹیکل  ایجنٹوں کے رحم و کرم پر ہیں  جنہوں نے اپنے مفاد پرست  افراد پر مشتمل جرگے  تشکیل دیئے ہوئے ہیں  جو ان کی زندگی اور موت کے فیصلے کرتے ہیں ۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک افواج کے  تمام آپریشن آج تک ہوئے  وہ فاٹا کے انہی علاقوں میں ہوئے  جن کو کرنے کے لئے ان علاقوں کو  پاکستانی حدود مانا گیا  مگر کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں کہ  جب ان علاقے کے افراد کو کشمیر دفاع کی لیے استعمال کرنا ہو یا پاک افواج  نے کوئی آپریشن کرنا ہو تو وہ علاقے اور ان کی حدود پاکستانی حدود ہو جاتی ہے  مگر جب انہی افراد کو اپنے حقوق حاصل کرنے ہوں  تو وہ  ایف سی آر کے تحت  پاکستانی عدلیہ سے رجوع نہیں کر سکتے کیونکہ  ایف سی آر کے قانون کے تحت  وہ  ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواست دینے کے اہل نہیں ۔

بادی النظر میں  یہ افراد  پاکستانی شہریت کے مکمل حقوق سے محروم ہیں  مگر ان پر یہ واجب ہے  کہ حکومت پاکستان یا پاک افواج جو حکم دے اسے من وعن  تسلیم کریں جس کی ایک زندہ مثال ماضی قریب میں  32لاکھ آئی ڈی پیز  کا  علاقہ غیر سے پاک افواج  کے آپریشن کے بعد  پاکستان  میں قائم ک آئی ڈی پیز  کیمپوں  رہائش  اختیار کرنا اور ان کی حدود  کے اندر پابند رہنا اور انہیں یہ حقوق حاصل نہیں تھا کہ  وہ اپنے کیمپوں سے نکل کر  پاکستان کے کسی  آزاد  علاقے میں رہائش  اختیار  کر سکتے یا سفر کر سکتے  اور ان کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ بھی نہیں  بلکہ نادرا کے ڈیٹا بیس میں وہ  پاکستان کے شہری  ہی نہیں اور ان کا شناختی کارڈ   بھی کسی بھی پاکستانی شہری کے شناختی کارڈ  سے مختلف ہے ۔

مبینہ طور پر یہ کہنے میں کوئی بعید نہیں کہ  بادی النظر میں قومی اسمبلی کا موجودہ سیشن  آخری سیشن ہو گا  اور  اس کے بعد قومی اسمبلی کا  کوئی سیشن ممکن نہیں  کیونکہ حکومت کی بد نیتی کی واضح مثال  ایف سی  آر کے قانون میں ترمیم کرنے کا بل  اسمبلی میں لانا ہے  اور بے وجہ اسمبلی کے   سیشن شروع   ہونے سے پہلے  اس کو  “کاز لسٹ ” سے نکال دینا  اور اس پر حسب اختلاف  کاکلّٗی طور پر فیصلہ کرلینا کہ جب تک  ایف سی   آر کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اور اس بل کو دوبارہ اسمبلی میں  زیر بحث نہیں لایا جائے گا تب تک وہ اسمبلی کےسیشن  میں  شرکت نہیں کریں گے  بلکہ اس سلسلے میں ہونے والے احتجاج  اور دھرنوں میں بیٹھ کر اپنے اجلاس کی کاروائی کریں گے ۔

قومی اسمبلی کے  اسپیکر ایاز صادق کا  ایک نجی ٹی،وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے  اس خدشے کا اظہار کیا کہ  یہ اسمبلی اپنی مدت پوری  نہیں کرے گی  یہ اس شک کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت در حقیقت خود اسمبلی کی مدت  مکمل کرنا نہیں چاہتی  اور اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی  ترکی سے پاکستان آنے کے بجائے لندن تشریف لے گئے  کہ وہ سپریم کورٹ کے مطابق  گارڈ فادر سے ملاقات کریں  اور اس کے بعد  ایف  سی  آر کا فیصلہ ہوئے بغیر  اسمبلیاں تحلیل  کر دیں  یا ایسے حالات  پیدا کر دیں  جن کی وجہ سے اسمبلیاں تحلیل کرنی پڑیں کیونکہ  حال ہی میں حکومت پاکستان پر امریکہ کا شدید دباؤ ہے کہ  شاہد خاقان عباسی کے دور حکومت میں ہی اسمبلی میں بل پیش کیا جائے جس کی روح سے  پاکستان میں سزائے موت کا قانون ختم ہو  کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ  ناموس رسالت  کے مقدمے میں  سزا یافتہ سکینہ بی بی کو رہا کیا جائے جس کو عرصہ دراز سے سزائے موت کا حکم ہو چکا ہے  مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوا  اور اس کو بچاتے بچاتے سلمان تاثیر  اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا  اور  ناموس رسالت کی تبدیلی کے بعد  یہ نئی تبدیلی لانا مسلم لیگ ن کے لئے  زہر کی حیثیت  رکھتی ہے   مگر وہ اپنے آقاؤں سے وعدہ کر چکے ہیں  کہ اسمبلی میں وہ نیا بل لائیں گے  جبکہ سیاسی ہواؤں کا رخ  مخالف سمت میں ہے  تو اسمبلیاں تحیل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے ۔

گزشتہ دو سال سے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے  کہ کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جائے  اور ان کا نام سیاسی شہیدوں کی لسٹ میں  شامل ہو جائے  کہ یہ سیاسی شہید ہونے کی بنیاد پر  عوام کو دوبارہ گمراہ کر کے ووٹ حاصل کر سکیں  مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا  اور اگر اس بار کچھ ہوا تو وہ  قطعاََ مارشل لا نہیں ہو گا  بلکہ اسمبلیاں  تحلیل  ہونے کے بعد  جو عبوری حکومت  بنے گی وہ 90 دن  سے زیادہ عرصہ کے لئے  معرف وجود میں آئے  اور میں پہلے بھی دسیوں بار تحریر کر چکا ہوں کہ  وہ حکومت در حقیقت  عرصہ 3 سال  پر محیط  ہو گی  اور جس کا نام احتساب دور حکومت رکھا جائے گا۔ جس درمیان قوم کا پیسہ لوٹنے والے  افراد کو بلا تفریق عدلیہ کے  سامنے پیش کیا جائے گا   اور پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ  ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی  جس سلسلے میں آئین کی شق نمبر  190 میں مکمل طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان  کے پاس  یہ پاور موجود ہے  ۔

خدا نخواستہ یہ سب کچھ ہوا تو  اس کی ذمہ داری بھی  بالواسطہ طور پر ان کم عقل  اور عدالتی نا اہل  سیاستدانوں کے جتھے پر جائے گی۔

پر ان عقل کے اندھوں کو سمجھائے گا کون ؟؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here