یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان تباہی کے دہانے پر

Utility Stores Corporation of Pakistan to the edge of destruction
Utility Stores Corporation of Pakistan to the edge of destruction

تحریر وتحقیق

آغا وقار احمد

واٹس ایپ نمبر03214376553

آج میری تحریر میں ربط نہیں ہوگااور عین ممکن ہےکہ میں کالم کی حثیت سے ایک اچھا کالم نہ لکھ پاوں مگر میں اس بات پر مطمئن  ہونگا کہ میرے دل میں بہت سے چھپےہوئے راز ہیں اور جو حقیقت ہے اس کو آپ کی نظر کروں اور آج کا موظوع بھی کوئی سیاسی نہیں ہیں مگر سیاست سے اس کا گہرا ربط ہے۔

ملک میں ایک ایسی سازش چل رہی ہے جو عمران خان اور اس کی پالیسیوں کو برباد کرنے کی وجہ بن سکتی ہے اوریہ سازش پروان چڑھ رہی ہے اس کو پروان چڑھانے والوں کو خود بھی احساس نہیں کہ وہ درحقیقت عوام میں  عمران خان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔

یہ سازش یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کو ختم کر کے عوام کے اندر عمران خان کاغلط تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف  غریب عوام کی مشکلات کو محسوس نہیں کرتی کیونکہ اس کے دو پہلوں ہیں جہاں ایک طرف اس محکمے میں کام کرنے والے افراد اور ان کے روزگار کا مسئلہ ہے وہی عوام الناس تک سستی اشیا مہیا کرنے کا ایک سلسلہ ہے جو بند ہوتا نظر آرہا ہے اور اس سازش میں پاکستان  کے اندرموجود انڈ سٹری کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے کہ وہ فیکٹریاں جو یو ٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو مال سپلائی کرنے  میں مصروف تھیں ان کونہ صرف پچھلے ڈیڑھ سال میں ادائیگی نہیں کی جارہی بلکہ اب تو انہیں آرڈر ملنے بھی بند ہو گئے ہیں اور ان حالات میں وہ انڈ سٹریاں بھی  اپنے ملازمین کو  نوکریوں سے فارغ کر رہی ہیں۔ جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ادائیگیاں کی جارہی ہیں جو ڈالر کی شکل میں اپنے نفع کو پاکستان سے باہر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

اور اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ یہ وہ سرکاری محکمہ تھا جو وینڈر کے سیلز ٹیکس کی مد میں 17 فیصداور انکم ٹیکس کی مد میں ساڈھے 4 فیصد اکٹھا کر کے گو رنمنٹ کو جمع کرواتا تھا  اور یوٹیلٹی سٹور کار پوریشن کی جو سیل تھی وہ 85ارب روپے سالانہ تک تھی! یوٹیلیٹی سٹورکارپوریشن آف پاکستان نے 2009 سے لے کر2017 تک 55 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومت پاکستان کوجمع کرایا  لیکن جب سے یہاں پر بیٹھیں ہوئے چند نا خداوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ادائیگیاں کر کے اور لوکل  انڈسٹری کو ادائیگی روک کےبرباد کیا اس کے بعد پوزیشن یکسر بدل گئی اور اب حالات یہ ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنی آرڈر لینے کو تیار نہیں ہے اور لوکل مینوفیکچروں کو یو ٹیلیٹی سٹور آرڈر دینے کو تیار نہیں ہے  حالانکہ یہ ایک ایسا  نیٹ ورک ہے جس کو پاکستان کے ہر کونے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یو ٹیلیٹی سٹور کارپوریشن  آف پاکستان ایک ایساچین سٹور ہے جوگلگت سے لے کر خضدار تک اور خضدار سے لے کر بد ین تک بد ین سے لے کر خیبر پختونخوا کی انتہائی آخری حد تک اور  آزاد کشمیر تا پنجاب اور پاکستان بھر کی ہر جگہ پر موجود ہے  اور اس وقت اس کی پانچ ہزار چھ سو دُوکانیں چل رہی ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ 5600 دوکانیں ہیں آفس ہیں سٹاف ہیں اور ٹوٹل ملازمین کی تعداد 13000 ایک سو کے قریب ہے اور ان ٹوٹل ملازمین کی تنخواہیں 60 کروڈ روپے  مہینے سے زیادہ نہیں جبکہ یہ اپنی سیل کر کر کے اپنی  تنخواہیں نکالتا ہے بلکہ یہ پرافٹ کے زمرے میں اپنی تنخواوں سے 10 گناہ زیادہ پرافٹ جنریٹ کرتا رہا ہے۔

اب بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے دور کے کچھ آفیسرحضرات اس میں موجود ہیں جنہیں ایک خاص ٹاسک دیا گیا ہے اور یہ بات بھی بادی النظر میں زرائع سے معلوم ہوئی ہے  کہ اس کے سابقہ ایم ڈی فواد حسن فواد کے مقرر کردہ تھے۔

کیونکہ فواد حسن فواد کا اس ادارے میں اہم  کردار تھا اس لیے آج بھی اس کے وفادار جو درحقیقت نواز شریف کے وفادار ہیں وہ پاکستان مسلم لیگ کے ایک خاص ٹارگٹ پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حالاات مزید ناسازگاری کی طرف رواں دواں ہیں اور عین ممکن ہے کہ حکومت وقت کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے۔

اس سے پہلے کہ حکومت کوئی غلط فیصلہ کرے ہمیں چاہیے کہ ہم ارباب اختیار کو  اس بات پر امادہ کریں  کہ وہ ایک دفعہ یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کی پچھلے دس سال کی بیلنس شیٹس اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ادارہ ہمیشہ  ضرورت کے وقت کام آیا زلزلہ ہو یا سیلاب آئے فوراَ اس ادارے سے امدادی سامان اُٹھایا اور عوام میں تقسیم کردیا گیا مگر سابقہ 10 سال سے حکومتی اداروں نے یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کی ادائیگی نہیں کیں جو کہ 26 ارب روپے سے زائد بنتی ہیں اور اگر عید کے موقع پر دی گئی اسکیم  اور آفت زدہ علاقوں میں امدادی سا مان کی رقم ادا کردی جائے تو ادارہ خود مختار ہوجاتا ہے اور تمام سازشی  افراد اپنی موت خود مر جائیں گے اور عمران خان کے خلاف سازش ناکام ہوجائے گیں۔

یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان اگر چار ارب روپے کا مقروض ہے تو اس کی اپنی پراپرٹیز بھی دو سو ارب روپے کی ہیں اور اس ادارہ نے حکومت وقت کے دوسرے اداروں سے 26 ارب روپے سے زیادہ کی رقوم وصول بھی کرنی ہیں۔

آج تک یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان اس مقام تک نہیں پہنچا تھا کے  وہ مکمل طور پر بند ہوجائے لیکن پرچیز آرڈر جاری نہ ہونے اور حکومت کے اداروں سے واجب ادا رقم وصول نہ ہونے کی وجہ سے سیل ختم ہوگئی اور سٹاف ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا جب آپ ان کو فروخت کرنے کے لیے کچھ نہیں دیں گے تو وہ کس طرح سیل جنریٹ کریں گیں۔

اب بھی وقت ہے کہ اگر ارباب اختیار چیف جسٹس آف پاکستان ،چیئرمین نیب اور پرائم منسٹر آف پاکستان ، یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان  کے ساتھ ہمدردی دیکھاتے ہوئے اس کو ان مشکلات کے سمندر سے باہر لانے کے لیے سہارا دیں تو یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو چند ماہ میں اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا۔

کوتاہیاں ہر انسان سے ہوتی ہیں اور ہر محکمے میں ہوتی ہیں ان کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے ایک آخری مواقعہ یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کو دینا پاکستان تحریک انصاف کا فرض ہےاور  پی ٹی آئی گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ  یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کو قرض کی صورت میں ایک خاص اماونٹ دیں جو کہ یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان  ایک سال کے اندر نفع کی صورت میں کما کر اُتار سکتا ہے باقی مجھ سے زیادہ قابل افراد بیھٹے ہوئیں ہیں جو آپ کو مزید تفصیل  دے دیں گے  لیکن میری نظر میں ان دوکانوں کو اچھے  راشن ڈیپوں کی طرح استعمال کر سکتے ہیں اورغربت کارڈ  مہیا کر کے سستے داموں غریب افراد کو  پرچون کا سامان فراہم کر نے کا زریعہ یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کو بنا یا جا سکتا ہے۔

اگر پاکستان میں کوئی آفت زلزلہ، طوفان ،سیلاب آتا ہے تو یہ محکمہ بغیر پیسے لیے فوری طور پرحکومت پاکستان کی مدد کر تا ہے اور راشن مہیا کرتاہے جس کی ادائیگیاں آج تک نہیں ہوئیں اور اب تک اس محکمے نے حکومت پاکستان سے 26ارب روپے لینے ہیں اورصرف آج تک یہ چار ارب روپے کا مقروض رہ گیا ہے ان حالات میں ہم اگر پاکستان میں کسان کی مدد کرنا چاہتے ہیں  تو اس سلسلے ہیں بھی انہیں کارڈ جاری کیے جائیں  اور کھاد کی تقسیم اصل زمیدار تک  یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کے زریعے کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔

امید ہے کہ آپ میرے اس بے ربط کالم کو پڑھیں گے  اور اس کی غلطیاں مجھے معاف کرتے ہوئے حقائق کے نزدیک طر پہنچنے کی کوشش کریں گے  کہ اس وقت حقیقی طور پر اس ادارے  کو سہارے کی اشد ضرورت ہے (شکریہ) ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here