اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پے بجلیاں

utility stores corporation lahore
utility stores corporation lahore

تحریر و تحقیق

آغا وقاراحمد

یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن جو درمیانے طبقے کے لوگوں کے لیے زولفقارعلی بھٹو نے 1971 میں قائم کیا تھا اس سے پہلے پہ کارپوریٹو سٹور کے نام سے ہوا کرتا تھا چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی غریب عوام کے لیے بنی تھی اس لیے زولفقار علی بھٹو نے غریب عوام کو اس میں ایک راشننگ سسٹم اچھا دینا چاہا جس کے لیے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن  بنا دیا یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن  آج کل زیراعتاب ہے جہاں ایک طرف ان کی یونین یا صاحب اقتدار افراد کے درمیان سبسیڈی جو پچھلے4 سال سے نہیں دی گئی اُس کا جھگڑا ہےاس کی تباہی کی وجوہات اس سبسڈی کے علاوہ کچھ اہم چیزیں ہیں جس کو ہم باوثوق زرائع سے ہم آپ تک پہنچاتے ہیں۔

یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن جب اپنے عروج پر تھی سپلائر کو جو پرابلم تھی اور جو ہم نے مشاہدہ کیا وہ آپ کی نظر کرتے ہیں سب سے پہلے اس کی تباہی  کے زمے دار وئیر ہاوس انچارج ہیں جو ہر کمپنی سے کمیشن مانگتے ہیں اور آرڈر نہ دینے کی دھمکی دیتیں ہیں اس کو رشوت دینے کے بعد کمپنی پرچیز آرڈر کے لیے جا تی ہیں، اور پرچیز آرڈر ٹائپ کر کے دینے والا بھی رشوت مانگتا ہے،  اوراب اگر اس سے آگے چلا جائے، تو رشوت دے دی وئیر ہاوس انچارج نے ڈیمانڈ بنا دی پرچیز آرڈر ٹائپ کرنے والے نے پرچیز آرڈر ٹائپ کر دیا اور آ ر ایم ای اے زیڈ ایم نے سائن کر دیا۔

یوٹیلٹی سٹور کے نام پر مال ایشو بھی ہوتا ہے اور ان کی فروخت بھی ڈال دی جاتی ہےلاہور جیسے بڑے شہر میں ان دوکانوں کا سامان دے دیا جاتا ہے اور وہی پر وہ بکتا ہے اور مندی کے دنوں میں دالیں،آٹٓا اور چینی لوکل مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں اگر لاہور جیسے بڑے شہر میں کراچی ، راولپنڈی ،پشارو، ملتان ،فیصل آباد، گجرانوالہ اور گجرات میں اس طرح کی گھوسٹ شاپس موجود ہیں تو پھر اس محکمے کا اس کارپورہشن کا بغور مطالعہ کرنا پڑے گا کہ نہ صرف دوکان پر بیٹھنے والے افراد بلکہ  ان کے اوپر متعین آر ایم زیڈ ایم بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں اور کیا ان دوکانوں کا وجود کاغزات کی حد تک ہے اس میں یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کی یونین بھی ملوث ہےجب تک تحقیقات اس بنیاد پر نہیں ہوگی اس کارپوریشن کو تباہی سے بچانا ممکن نہیں۔

اگلا جو قدم ہے، اس میں وہ سامان مزید رشوت دے کر دوکانوں پر سپلائی کر دیاجاتا ہے تو دوکان دار اپنی مرضی سے اس کی قیمت بڑھا کے لکھتے ہیں، یعنی کہ یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کی تباہی میں دوسرا حصہ داروہ دوکاندار اور شاپ مینجر ہے جو 95 روپے کی چیز کو 125 روپے میں فروخت کرتا ہے اور 110 روپے والی چیز کو بھی 125 روپے میں فروخت کرتا ہے اور اگر اس کو کمپنی روکے تو وہ کہتا ہے، کہ میں ڈیمانڈ ہی نہیں لکھو گا آپ کے سامان کی آپ جائے بھاڈ میں جب حالات اس قدر خراب ہو جائیں کہ ایک وئیر ہاوس انچارج سے شروع ہوں اور ایم ڈی پر جاکر ختم ہوں۔

 یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کی بربادی میں ایک اہم رول ایسی دوکانوں کا بھی ہے جن کا حقیقت میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں جن کو ہم گھوسٹ شاپس کہیں گے، گھوسٹ شاپس میں نہ صرف اس دوکان کا کرایہ بلکہ بہاں پر جن افراد کو رکھا جاتا ہے ان کی تنحواہیں بھی اس علاقے کے متعلقہ افسران میں تقسیم ہوتی ہیں، اور ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان بھر میں 1 ہزار سے زیادہ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن ایسے بھی ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔

 اور ہر قدم پر رشوت ،دغا بازی،فراڈ، بےایمانی، کا راج ہے جس کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن برباد ہوا ہے، اب دوکاندار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ چیزیں بھی فروخت کریں جو یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

تو وہ غیر رجسٹرڈ چیزیں بھی دوکان پر رکھتا ہے اس پر قیمت لگاتا ہے اور اسے فروخت کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک اور المیہ ہے، جب کوئی عید تہوار آتا ہے تو کمپنیاں اسپیشل ڈسکاونٹ دیتی ہیں ان دنوں میں دوکاندار وئیر ہاوس سے مال اٹھاتا ہے  اور اپنے پاس رکھ لیتا ہےاور اسکی جھوٹی سیل شو کرتا ہے اور سامان لوکل مارکیٹ میں سیل کر دیتا ہے اور نفع کماتا ہے یوٹیلٹی سٹور میں دو حصے ہیں ایک برینڈڈ وئیر ہاوس اور اور ایک نان برینڈڈ وئیر ہاوس اب برینڈڈ وئیر ہاوس میں جن چیزوں کے نام ہیں وہ جاتی ہیں جبکہ نان برینڈڈ وئیر ہاوس میں چینی،آٹٓا اور دالیں وغیرہ جاتی ہیں۔

 چینی،آٹا اور دالیں وغیرہ سستے داموں لے کر اوپن مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچنا، اور اس بربادی میں سٹور انچارج اہم حصہ دار ہے، جبکہ وہ کہتا ہے کہ ہمارے یہاں کا ایریا مینجر ہوتا ہے جو ہر شاپ سے پیسے اکھٹے کر کےریجنل سیلز مینجر کو دیتا ہے، اور ریجنل سیلز مینجر زونل مینجر کو دیتا ہے۔

کیونکہ یوٹیلٹی سٹور کی شاپس کرائے کی بلڈ نگ میں قائم کی گئی ہیں، وہ جو عمارت کرائے پر لیتے ہیں اگر اسکا کرایہ 10 ہزار ماہانا ہے تو وہ 25 ہزار رو پے پر لیں گے، جو کے ان کے کسی افسر کے رشتے دار کا ہوگا اس کو نفع پہنچانے کے لیے اس کو دُوگنی قیمت پر حاصل کرتے ہیں،اور ایڈوانس بھی زیادہ دے دیتے ہیں جس سےسارا بوجھ یوٹیلٹی سٹور پر پڑ جاتا ہے۔

یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن میں جہاں ہر ریجن میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں روپے کے  ڈیزل اور پیٹرول کے جعلی بل لگائے جاتے ہیں اور ڈیلی ویجز مزدورں کے نام پر رقم حاصل کی جاتی ہے وہی ریجن کے آفیسر پیمنٹ آفٹر سیل کی بنیاد پر رجسٹرڈ اشیا کی رقوم زاتی استعمال میں لاتے ہیں اور تین ماہ کی کلوزنگ پر سٹوک زیادہ  ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ پر چیزز بند ہو گئی ہے اور سٹاک موجود نہیں تو یہ آفسران اپنے گھر یا گاڈیاں بیچ کر سپلائر کو ادائیگیا ں کرے گیں یہ مسائل بھی حل طلب ہے؟

ہیڈ آفس میں بیٹھے افسران اپنے جرائم  پر پردہ  ڈالنے کے لیے ایک دوسرے کو آوٹ آف ٹرن ترقیاں دیتے ہیں وہ بھی اپنے انجام کو تیار رہیں۔

اس محکمے میں ایک اور رونا بھی ہےاگر جو بندہ چوری کرتے پکڑا جائے یا کوئی کمپنی اس کی شکایت کر دیتی ہے تو اس کو کوئی آرڈر نہیں ملتا،پکڑے جانے ولے بندے کو ہیڈ آفس بھیج دیا جاتا ہے، مطلب یوٹیلٹی سٹور میں اگر کوئی بندہ کرپشن کرتے پکڑا جائے تو اسے ہیڈ آفس بھیج دیا جاتا ہے، جو کہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے، اس کے علاوہ آوٹ آف ٹرن پوسٹنگ بھی تباہی کی ایک بڑی زمہ دار ہے۔

اب ہیڈ آفس میں آئیں جب دالیں، چاول،چینی، آٹا انکا ٹینڈ ر ہوتا ہے تو ٹینڈ ر ہونے کہ بعد ٹینڈ ر کھولنے والہ جو بااختیار آفیسر ہےچاہے وہ جنرل مینجر ہو وہ اسی وقت اس میں دفتر کے خرچے کی مد میں ریٹ بڑھا دیتا ہے ، اب جس ادارے کو ہر کوئی لوٹ رہا ہے اس کو کنٹرول کرنا مشکل کام ہے۔

اسی یوٹیلٹی سٹور پر ایک ایم ڈی آئے وہ بہت عقلمند اور ایماندار تھے اور انہوں نے سی ایس ڈی سے تین سال کام سیکھاہوا تھا، انکا نام جنرل فاروق تھا، انہوں نے آتے ساتھ ہی ان کے مینول اکاونٹ کو کمپیوٹرائزڈ کیا،اور ان کے سپلائر کے اکاونٹ کو کمپیوٹرائزڈ کیا اوراس کے بعد انہوں نے دوکانوں کی سیل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا تھا ، لیکن جب یونین والوں نے دیکھا کے یہ کیا ہو رہا ہے تو انہوں نے اُ سکو یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن سے باہر نکال پھینکا۔

ہمارے ایک سنیئر دوست صحافی سہیل بھٹی صاحب یوٹیلٹی سٹور پر بہت کام کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کی یہ محکمہ بند نہ ہو لیکن اس محکمے کو چلانے کے لیے جہاں پیسوں کی ضرورت ہے، وہاں یہ بات بھی زہن میں رکھیں انہوں نے 17 ارب روپےاپنے سپلائر کا بھی دینا ہے اور اس کے بعد اگر یونہی حساب رہا ،اسی طرح آرڈر ہوئیں اسی طرح سٹاف کا رویہ رہا وئیر ہاوس انچارج سے لے کر اوپر ایم ڈی تک تو پھر کس طرح یہ چل سکے گا یہ لوٹ کا بازار کس طرح ختم ہو سکے گا، یہ وہ سوال ہے جو حل طلب ہیں جو اسکا حل نکالے گا وہ اس کا اصل حل ہو گا کہ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن حقیقت میں چل سکے۔

 جب سپلائر محفوظ ہوں گے تو ادارہ چل سکے گا نہیں تو ادارے کو فی الفور بند کر دیا جائےگا، چونکہ سپلائر کا ماہدہ حکومت پاکستان کی منسٹری آف انڈسٹری سے ہےاس لیے منسٹری آف انڈ سٹری ان کے واجبات ادا کرے۔

 میری منسڑی آف انڈ سٹری سے یہ درخواست ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے سپلائر کی ادائیگیاں فوری طور پر کریں اور اس کے بعد یو ٹیلٹی سٹور کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ سے پوچھیں کہ ہر وہ کمپنی جو رجسٹرڈ ہے اور اس نے ایک ڈیپازٹ رقم دی ہوئی ہے جو کم سے کم 5 لاکھ روپے فی کمپنی ہے اور جس کی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اس کی رقم کا تحفظ بھی کیا جائےاور اس اماونٹ کو فکس ڈیپازٹ کروا دیا جائے۔

آج تک ہوتا یوں آیا ہے کہ جب بھی گورنمنٹ نے ان کی مدد کی تو انہوں نے اپنے اخراجات میں اس کو تقسیم کر لیا اور حد تو یہ ہے کے اس عید پر بونس بھی بانٹ دیا گیا جبکہ یہ مقروض تھا تمام سپلائرز کا، ان حالات میں سپلائرز کے پیسے کا تحفظ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کمپنیاں جو یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو مال دیتی ہیں ان کے ادارے اگر بیٹھ گئے تو پاکستان میں اکانومی کو ایک جھٹکا لگے گا جس سے لاکھوں افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

 اگر حالات ایسے ہی رہے جیسے اب ہیں تو جن کمپنیوں، فرموں اور اداروں نے یو ٹیلٹی سٹور کارپوریشن کو مال دیا ہوا ہےاور انہیں آج تک پیمنٹ نہیں ملی، اور پیمنٹ نہ ملنے کا یہ سلسلہ پچھلے ڈیڈھ سال سے جاری ہے تو اس سےادارے بھی بیٹھ جائیں گے اور ان اداروں سے وابستہ افراد بھی بے روزگار ہوجائیں گے اس لیے منسٹری آف انڈسٹری کو چائیے کہ یو ٹیلٹی سٹور کارپوریشن میں رجسٹرڈ کمپنیاں جن کا پیسہ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن نے دینا ہے سب سے پہلے ان کے نام کے ڈائریکٹ چیک بنا کے ان کی رقمیں تقسیم کریں اور ان آفیسر حضرات کے ہاتھوں میں وہ رقم جانے نہ دی جائے جس کا غلط استعمال ہونے کا خطرہ ہے جب سپلائی کرنے والی کمپنیاں اپنے واجبات وصول کریں گی تو آئندہ بھی وہ مال دیں گی اور ادارہ چلے گا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here