امن مذاکرات کا انحصار طالبان کے رویے پر ہے: امریکی وزیر خارجہ

US, Taliban keep open door to talks after summit scrapped
US, Taliban keep open door to talks after summit scrapped

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اب بھی افغان طالبان کے ساتھ امن سمجھوتا کرنا چاہتا ہے لیکن ہم اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک طالبان سمجھوتے پر عمل درآمد سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کرتے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اور کپمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔

ڈونلد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری کر کے اپنی پوزیشن خراب کر لی ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات کی منسوخ کا زیادہ نقصان امریکا کو ہی ہو گا، ہم نے گزشتہ 18 سالوں میں واضح کر دیا ہے کہ اپنا ملک کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتے، امید ہے کہ امریکا سمجھوتے پر دوبارہ آمادہ ہو جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی قبل ازیں افغانستان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔

اب امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکا اب بھی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات چاہتا ہے۔

مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ جیسا کہ آپ نے دیکھا، اگر طالبان اچھا برتاؤ نہیں کرتے اور سمجھوتے پر عمل درآمد نہیں کرتے تو امریکی صدر بھی ان پر دباؤ کم نہیں کریں گے۔

نہوں نے کہا کہ اگر طالبان افغان قیادت کے ساتھ نہیں بیٹھتے، شدت پسند کارروائیوں میں کمی نہیں لاتے اور القاعدہ سے تعلق ختم نہیں کرتے تو ہم ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کر سکتے۔

مائیک پومپیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کو امریکی سرزمین پر مدعو کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان کے ساتھ ملاقات پر کافی وقت سے کام چل رہا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر یہ ملاقات ہو جاتی تو طالبان مذاکرات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں دہشت گرد حملے کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ملاقات منسوخ کر کے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا، برے برتاؤ پر طالبان کو نوازنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کابل حملے سے پہلے ایک سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے تھے، ہم اب بھی مذاکرات کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اس کا انحصار طالبان کے برتاؤ پر ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here