امریکی صدر ٹرمپ کا پہلا طبی معائنہ رواں ہفتے ہوگا

US President Trump first medical inspection will be held this weekUS President Trump first medical inspection will be held this week
US President Trump first medical inspection will be held this week

:نیویارک

امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے اپنا پہلا طبی معائنہ کروا کے ان قیاس آرائیوں کے خاتمے کی کوشش کریں گے کہ وہ ذہنی یا جسمانی طور پر صدارت کے لیے موزوں اور اہل نہیں ہیں۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا طبی معائنہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں جمعہ (12 جنوری) کو ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا معائنہ وہی ڈاکٹر کریں گے جنہوں نے اس سے قبل سابق صدر باراک اوباما کا معائنہ کیا تھا، جبکہ طبی معائنے کے نتائج کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا جسمانی معائنہ 2 گھنٹوں پر مشتمل ہوگا، جس میں خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن کی جانچ کی جائے گی جبکہ امریکی صدر سے ان کی سونے کی عادات وغیرہ کے بارے میں بھی سوالات کیے جائیں گے۔

تاہم اس طبی معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں۔

صدارتی ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہین اور فوری فیصلہ ساز ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اپنے خطاب میں ٹرمپ الفاظ کی درست ادائیگی نہیں کرسکے تھے اور تقریرکے اختتام پر انہوں نے یونائٹڈ اسٹیٹس کو ’یونائٹڈاشٹیٹس‘ کہہ دیا تھا۔

الفاظ کی نامناسب ادائیگی پر ٹرمپ کے ڈیمینشیا یا الزائمر میں مبتلا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اگلے برس طبی معائنہ کرائیں گے اور ثابت کریں گے کہ وہ صحت مند ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارا سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس حوالے سے بہت سے مضحکہ خیز سوالات کیے گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ‘صدر کا گلا خشک تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں’۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کا طبی معائنہ والٹر ریڈ (نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر) میں ہوگا اور اس کی رپورٹس ڈاکٹر جاری کریں گے۔

دوسری جانب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لکھی جانے والی مائیکل وولف کی کتاب ‘فائر اینڈ فیوری، اِن سائڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس’ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کے ارد گرد موجود تمام لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک ‘احمق’ شخص ہیں اور صدارت کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں۔

اس کتاب میں ٹرمپ کی شخصیت کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہیں، جس کے مطابق ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی حالت عام انسانوں والی نہیں، وہ احمق ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی کر جاتے ہیں۔

مصنف نے کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے والے، ان کے معاونین اور دیگر تمام افراد اس بات پر متفق ہیں کہ صدر ٹرمپ صدارت کے لیے ناموزوں ہیں اور یہ بھی کہ ٹرمپ کے رشتے دار، دوست اور سرکاری عہدیدار کس طرح صدر ٹرمپ سے اپنی مرضی کے مطابق کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے کتاب میں لگائے گئے الزامات اور انکشافات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here