‘جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی تبدیل نہیں ہوئی’، امریکا کی پاکستان کو پھر وارننگ

US has made it clear to Pakistan that its South Asia policy hasn’t changed: Pompeo
US has made it clear to Pakistan that its South Asia policy hasn’t changed: Pompeo

:واشنگٹن

ڈو مور کے مطالبے کے ساتھ امریکا نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کی جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی قیادت سے ان کی چند ہفتے پہلے ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے یہ واضح کردیا کہ امریکا کی جنوبی ایشیا پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے پاکستان کو جو ہدف دیا گیا ہے، وہ اسے پورا کرے گا اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہیں دے گا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم نہ کی گئیں تو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

گزشتہ ہفتے امریکی دفتر خارجہ کے قائمقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے پاکستان ہنری انشر نے بھی کہا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے پاس دو طرفہ تعلقات کو بہتر کرنے کے مواقع موجود ہیں تاہم اس کے لیے اسلام آباد کو افغانستان کے حوالے سے اپنی پرانی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا، ‘حقیقت میں ہم نے پاکستان کی جانب سے کچھ اقدامات ہوتے ہوئے دیکھے ہیں، تاہم فیصلہ کن اقدامات نہیں دیکھے کہ دہشت گرد پاکستانی زمین استعمال نہیں کرسکیں گے’۔

ہنری انشر کا مزید کہنا تھا کہ ‘افغان پالسی بدلنے تک پاکستان پر دباؤ قائم رکھا جائے گا’۔

پاک-امریکا تعلقات میں تناؤ

واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات رواں برس جنوری سے تناؤ کا شکار ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ‘امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیئے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا’۔

گذشتہ برس دسمبر میں افغانستان کے دورے کے موقع پر امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ ‘دہشت گردوں کو پناہ دینےکے دن ختم ہوگئے، پاکستان کو امریکا کی شراکت داری سے بہت کچھ حاصل ہوگا، لیکن دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے سے بہت کچھ کھونا پڑے گا’۔

اُسی ماہ نئی نیشنل سیکیورٹی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف ‘فیصلہ کن’ کارروائی کا مطالبہ کیا، بلکہ مالی امداد کا طعنہ بھی دے دیا۔

اس سے قبل گذشتہ برس اگست میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام دہراتے ہوئے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here