امریکا نے برطانیہ اور فرانس کی مدد سے شام پر حملہ کر دیا

US, allies launch strikes on Syria
US, allies launch strikes on Syria

:دمشق

 امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے میں ناکامی کے باوجود برطانیہ اور فرانس کی مدد سے شام پر حملہ کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے اپنے خطاب میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی شامی دارالحکومت دمشق میں کئی دھماکے سنے گئے۔

حملوں کے لیے صدر ٹرمپ نے نہتے شہریوں پر شام کی فوج کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو جواز بنایا۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکا کے ٹام کروز اور برطانیہ کے اسٹروم شیڈو میزائلز نے دمشق اور حمص کے قریب مختلف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

امریکا کے دفاعی حکام کے مطابق حملے میں شام کے سائنسی تحقیقی ادارے اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

امریکی میرین کور کے جنرل ڈینفورڈ نے واضح کیا کہ حملوں میں جیٹ طیاروں نے حصہ لیا اور روس کو ان حملوں اور اہداف کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے بھی شام پر حملوں میں جیٹ طیاروں کے استعمال کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ رائل ایئرفورس کے ٹورنیڈو جی آر فورز طیاروں نے حمص سے 15 کلومیٹر دور فوجی تنصیبات پر میزائل داغے۔

دوسری جانب شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جارہا ہے اور حملوں کے خلاف میزائل دفاعی نظام فعال کردیا گیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دفاعی نظام نے کئی کروز میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیئے۔

واضح رہے کہ حملوں کا نشانہ بننے والے فوجی اڈے اور ایئرپورٹس پہلے ہی خالی کرالیے گئے تھے۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کا موقف

امریکا اور اس کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی فوج نے 7 سال کی خانہ جنگی کے دوران 50 بار کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔

نہتے شہریوں پر تازہ کیمیائی حملہ رواں ماہ 7 اپریل کو غوطہ کے شہر دوما پر کیا گیا، جس میں 70 سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں متاثر ہوئے، ان میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔

فرانس نے بھی شام کے خلاف بھرپور عالمی رد عمل کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب برطانیہ نے شام کے تنازع کے حوالے سے ہر صورت امریکا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں کیمیائی حملے کا الزام روس پر عائد کیا گیا اور امریکی صدر کی جانب سے ماسکو کو خبردار بھی کیا گیا کہ وہ جلد یا تاخیر سے حملے کے لیے تیار رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے روس نے کہا تھا کہ امریکا میزائل حملے کی بات کرکے جنگ کو دعوت دے رہا ہے اور جس جگہ سے شام پر حملہ ہوگا، روس اسی جگہ کو نشانہ بنائے گا۔

دوسری جانب شام کا کہنا تھا کہ امریکا اور یورپ دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here