انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند

AGHA WAQAR AHMED

انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند

پچھلے 24 گھنٹوں میں پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں نے مجھ سے رابطہ کیا ، سب کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان خود انتہائی شریف النفس اور اچھے دل کے مالک ہیں مگر ایک مافیا ان کو گھیرے میں لے چکا ہے ۔ جس مافیا کی کوشش ہے کہ عمران خان سے غلط فیصلے کراوئیں جبکہ میرے نزدیک کوئی لیڈر اگر کسی مافیا کے گھیرے میں گِھر جاتا ہےتو وہ لیڈرکہلانے کے قابل نہیں ہوتا جبکہ عمران خان ایک مکمل طور پر کامیاب لیڈر ہیں اور انہیں فیصلے اپنے دماغ سے کرنے چاہیے۔ منتخب وزیراعلٰی منتخب وزارتوں کےساتھ ساتھ باقی ذمہ داریاں بھی جن افراد کو منتقل کریں، ان کے متعلق مکمل معلومات حاصل کریں۔ میں محمود خان اور راجا یاسر ہمایوں کے متعلق آپ کو بتاؤں گا۔

محمود خان 1.8 ملین روپے کی خردبرد میں ملوث ہیں جو کہ انہوں نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفار کیے جبکہ یاسر ہمایوں 3 سال کے سزایافتہ ہیں اوراس وقت وہ  ضمانت پر رہا ہیں اور ان کے مقدمے کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ عمران خان صاحب عوام کو آپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ، ذرا سوچیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

عمران خان کو جب تمام قوم لاڈلہ لاڈلہ کہہ کر پکار رہی تھی تومیں اس سوچ کے خلاف تھا اور میر ے نزدیک وہ عدالتی لاڈلہ نہیں ہے مگر حیرت کی بات  یہ ہوئی جب عمران خان نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور وزیراعلی پنجاب کیلئے جن ناموں کا انتخاب کیا  تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ واقع ہی انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند ہے۔ عمران خان کی اپنی خواہشات اور ذہنی عدالت جس کو چاہے بدعنوان اور کرپٹ کہہ دیتی ہے اور جس کو چاہے ایماندار اور صادق الامین۔

سب سے پہلے میں عمران خان کی پسند برائے وزیراعلی کے پی کے کی جانب متوجہ کرنا چاہوں گا کہ محمود خان نے 18 لاکھ روپے کی خردبرد کی اور تب کے وزیراعلی پرویز خٹک کو انکوائری کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے محمود خان کیساتھ سازباز کی اور سیکرٹری سپورٹس احمد حسن خان اور اس کے 2 سرکاری ملازمین کو  سزا دی اور ٹرانسفار کر دیا، انکوائری ٹیم نے محمود خان کی بجائے ایک انسان کی قربانی دیدی اسے ہی تو اقربا پروری کہتے ہیں اور آج تک محمود خان اس رقم کا حساب نہیں دے سکے جو انہوں نے خردبرد کی تھی۔ کیس آج بھی موجود ہے۔

کل رات سے لیکر اب تک مجھے پی ٹی آئی کے بنیادی کارکنوں کا فون آیا اور انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں عمران خان صاحب کی توجہ اس حقیقت کی جانب دلواؤں کیونکہ عمران خان کو ووٹ عوام نے اس لیے نہیں دیے کہ وہ ایک شہنشاہ کیطرح حکومت چلائیں جیسے کہ ماضی میں حکومتیں چلتی آئیں بلکہ عمران خان کو ووٹ دینے والوں نے ملکی سالمیت اور تحفظ کیساتھ  ساتھ ملک سے بدعنوان سیاستدانوں کا خاتمہ چاہا اور عوام اس پر اٹل ہے۔ عمران خان اب چاہ کر بھی اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کر سکتے ، انہیں وہی کچھ کرنا ہو گا جو انہوں نے اپنا بنیادی منشور دیا تھا۔

محمود خان کے کیس میں سابق وزیراعلی کے پی کے پرویز خٹک نے ایک اطلاع دینے والے کو سزا دے دی اور آج تک محمود خان سے حساب نہیں لیا گیا کہ اگر اس نے زکوۃ تقسیم کی تو وہ کِن چیکس سے کی۔ محترم محمود خان فرماتے ہیں کہ میں نے نقد دیدی ، جیسے شہنشاہت کا زمانہ ہواور شہنشاہ اپنے ہاتھوں سے اشرفیاں تقسیم کرتا پھرے تو اسطرح کا انسان جس کے اوپر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ کیا وہ حکومتِ پاکستان کے خزانے کیساتھ انصاف کرے گا؟ اُسے وزیر اعلی بنانے کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں ہاتھوں سے خزانہ لوٹو اور اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کرو۔ عوام عمران خان کی اس پسند پر قربان جائیں!

اب آئیں آپ کو وزہراعلی پنجاب کیلئے نامزد راجا یاسر ہمایوں کے بارے میں بتاتا چلوں کہ یاسر ہمایوں نے بیشک تعلیم کیلئے ادارے کھولے، ڈسپینسریاں کھولیں مگر وہ سزایافتہ ہیں اور سزایافتہ ہونے کی وجہ سے نواز شریف اور اس میں کوئی فرق نہیں۔

راجا یاسر کو 3 سال کیلئے ڈرگ ایکٹ 1976 کے سیکشن 1-27 کے تحت  سزا ہوئی، یہ ممنوع ادویات فروخت کرنے کے سلسلے میں سزا پا چکے ہیں جس طرح کے روالپنڈی کے امیدوار اور مسلم لیگ ن کے کارکن حنیف عباسی کو سزا ہوئی ، فرق بس اتنا ہے کہ راجا یاسر ہمایوں ۳ سال کی سزا سنائے جانے کے بعد ہائی کورٹ چلے گئے اور انکا مقدمہ زیرالتوا ہے ۔ بلکل اسی طرح جس طرح  نواز شریف کا مقدمہ نظر ثانی کیلئے زیرالتوا ہے تو کیا عمران خان کو 21 کروڑ عوام جس میں سے 5 کروڑ عوام نے ووٹ دیے اور ان 5 کروڑ میں سے 16.88 فیصد ووٹ عمران خان نے حاصل کئے ان میں سے انہیں کوئی بھی ایسا فرد نہیں ملا جو وزہراعلی پنجاب بنایا جا سکا جبکہ پنجاب میں 58 فیصد ووٹ ڈالے گئے  تو کیا 58 فیصد لوگوں میں کوئی ایک بھی صادق الامین نہیں کہ عمران خان صاحب نے وزیراعلی پنجاب کا قلمدان راجا یاسر ہمایوں کو تھمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو پی ٹی آئی کے کارکن عمران خان سے پوچھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم جیسے ادنٰی صحافیوں سے رابطہ کرتے ہیں اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ خدارا ہمارا پیغام عمران خان تک پہنچایا جائے کہ حکومت صادق اور امین کے ہاتھ میں تھمائی جائے۔

کیا اس کو تبدیلی کا نام دیں اور کیا نیا پاکستان اس طرح کے افراد کے ٹولے پر مشتمل ہو گا ؟

یہ وہ  سوال چھوڑے جا رہا ہوں جس کا جواب آپ خود تلاش کریں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here