رحیم یار خان: اکبر بگٹی ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، 21 افراد جاں بحق

Two major accidents in 21 days point towards dismal state of railways
Two major accidents in 21 days point towards dismal state of railways

:رحیم یار خان

ولہار اسٹیشن کے قریب ٹرین حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 21 ہوگئی جب کہ متعدد زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

 لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر بگٹی ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب ولہار اسٹیشن کی حدود میں کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثے کے نتیجے میں مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 3 سے 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جب کہ 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو عملہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں، حادثے کے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو جناح اور شیخ زائد اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈی پی او عمر سلامت نے بتایا کہ رحیم  یار خان کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ ہیلپ لائن اور کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔

ڈی پی او عمر سلامت  کاکہنا تھا کہ حادثے کے فوری بعد 11  لاشوں اور 6 متعدد زخمیوں کو نکالا گیا جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، زخمیوں کے لیے خون کے عطیات کی ضرورت ہے جس کا انتظام کیا جارہا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد اسپتال میں دم توڑ گئے جب کہ ملبے تلے مزید 2 لاشیں نکالی گئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔

آر پی او کے مطابق حادثے میں 89 مسافر زخمی ہوئے ہیں، تمام لاشوں اورزخمیوں کونکال کرریسکیو آپریشن مکمل کرلیاگیا ہے۔

ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر بگٹی ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹینٹ ڈرائیور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر بگٹی ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی تھی لیکن ساڑھے 8 بجے اسے بحال کردیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا بیان

مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا ہے، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے، اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ ہمیں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

دوسری جانب ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق ٹرین حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا، ولہار کے اسٹیشن ماسٹر نے اکبر بگٹی ایکسپریس کو مین لائن کا گرین سگنل دیا، اسٹیشن کا سگنل عملا لوپ لائن پر ہی رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور بریگ لگاکر پیچھے بھاگ گئے، ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور فرمان الہیٰ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مال گاڑی ولہار اسٹیشن صبح سوا 4 بجےکانٹا بدل کر لوپ لائن پر کھڑی کی گئی، اکبر بگٹی ایکسپریس ساڑھے 4 بجے پہنچی تو حادثے کا شکار ہوگئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی حیدرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مسافر ٹرین سامنے کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here