ٹکٹوں کی تقسیم

AGHA WAQAR AHMED

ٹکٹوں کی تقسیم

پاکستان میں سیاست چند ایسے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جس کی بابت آغا شورش کشمیری نے 60 کی دہائی میں ایک شعر تحریر کیا جو آج کی سیاست کا آئینہ دار ہے۔

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

اگرچہ آغا شورش کشمیری نے سیاست کو طوائف سے تشبیح دیا اور سیاست کی حقیقت  کو عیاں کیا مگر اسکے شعر کے دوسرے مصرے میں اس نے سیاستدانوں کے جسموں پر موجود قیمتی و اعلٰی کلف زدہ کپڑوں کو اتار کر پھینکا اور اس حقیقت کو بیان کر دیا کہ تمام سیاستدان درحقیقت تماش بین ہیں اور ملکی سیاست انکے گھر کی لونڈی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

جب کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ ٹکٹیں تقسیم کرتا ہے تو اسکے نزدیک ایک سے زیادہ مسائل اور وہ وسیع النظر ہونے کی وجہ سے انہیں دیکھ پاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ سیاستدانوں نے آج کے حالات کے مطابق ٹکٹیں تقسیم کیں لیکن افسوس چند ایک ایسے ورکرزجو حقیقی تھے وہ بھی پِس گئے مگر احتجاج کرنے والون میں زیادہ تر اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے سیاست کو ایک تجارت سمجھا ہوا ہے اور وہ سرِ عام کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس پارٹی پر اتنا انویسٹ کیا، ہم اب اسکا ریٹرن کیسے لیں گے، ریٹرن لینے کے دن آئے تو ٹکٹیں انہیں نہیں ملی وہ سب اب آگ بھگولا ہو رہے ہیں۔

انکے نزدیک تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے جو ٹکٹیں تقسیم کیں وہ عمل غیر منصفانہ اسلیئے ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں نیب زدہ لیڈران کے ہاتھوں میں اسکا اختیار تھا۔ میں ورکرز کی اس بات سے متفق ہوں کہ نیب زدہ افراد کے ہاتھوں ٹکٹوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے تھی اورنہ ہی نیب میں پیش ہونے والے افراد  کو ٹکٹیں دینی چاہیے تھیں  مگر افسوس کہ سیاست کو تجارت بنا دیا گیا اور اسکا انجام آپ عنقریب دیکھیں گے۔

سب سے پہلے میں پی ٹی آئی کی بات کرتا ہوں جو تبدیلی کا نعرہ لگا کر سیاست میں آئی اور  پی ٹی آئی  کا کہنا تھا کہ وہ تمام عام عوام میں سے کارکن قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں تک پہنچائیں گے، وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں تھے کہ الیکشن لڑنا ایک سائنس ہے اور اس کیلئے پیسہ ہونا ضروری ہے مگر انہوں نے یہ سبز باغ اپنے کارکنوں کو دکھائے۔

پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ وراثتی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور سیاست کسی خاندان کی جاگیر نہیں مگرافسوس انہوں نے ناصرف اپنے من پسند سیاسی گھرانوں میں ایک سے زیادہ ٹکٹیں تقسیم کیں بلکہ تمام بے ضمیر سیاستدانوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیا کہ وہ الیکشن کی سائنس جانتے ہیں اور انہیں ان ٹکٹوں سے نوازا جس پر پی ٹی آئی کے بنیادی کارکن بُری طرح نظر انداز ہوئے اور وہ احتجاج کرنے کیلئے بنی گالہ موجود ہیں اور اب پی ٹی آئی کے چیئرمیں عمران خان نے اس دھرنے کو ختم کروانے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ مذکورہ علاقوں میں سروے کروائیں گے اور اس سروے کی رپورٹ حتمی تصور کی جائے گی، اس عمل سے عمران خان کی دانائی کا ثبوت ملتا ہےاور کارکن اس بات کو تسلیم کر کے عمران خان کو حقیقی لیڈر تسلیم کرنے کی گواہی دیں گے ۔

اچھے کارکن کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے قائد کے غلط فیصلوں کا بھی احترام کرے اور ایک سیسہ پالائی دیوار بن کر اپنے قائد کو تحفظ فراہم کرے مگر پی ٹی آئی میں ایسا نہپیں ہوا اور بنی گالہ کے مقام پر دھرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔

اسکے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کی جائے تو انہوں نے جو شخص جدھر سے ملا اسے ٹکٹ تقسیم کر دی ، جیالے لوگوں کو نظر انداز کیا اسکے ذمہ دار بھی ٹکٹیں تقسیم کرنے والے نیب زدہ افراد ہی ہیں۔

پاکستان میں ایک سیاسی جماعت نظریاتی ہے اسکا نام پاکستان میں جانتے تو سب ہیں لیکن ووٹ نہیں دیتے ، جماعت اسلامی پاکستان ۔ جماعت اسلامی پاکستان ہی واحد نظریاتی جماعت ہےجو اس دفعہ انہوں نے اپنی سابقہ روایات کو توڑتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ٹکٹوں کی تقسیم ہے اور انہیں پیسہ کی مشکلات کا سامنا نہیں کیونکہ وہ ایک منظم تنظیم ہے ، الیکشن لڑنے کیلئے جو اخراجات ہیں وہ بھی جماعتِ اسلامی اپنے پارٹی اکاؤنٹ سے خرچ کرتی ہے ، یہ حقیقی طور پر ایک سیاسی پارٹی کا سٹرکچر ہوتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں پاکستان مسلم لیگ ن کی ۔ یہ سیاسی جماعت مکمل طور پر خود اعتمادی سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ اس قدر زیادہ کارکن ہونے کے باوجود بھی اپنے من پسند کارکنوں کو ایک سے زیادہ ٹکٹیں تقسیم کرنے کی رسم پاکستان مسلم لیگ ن میں دیکھی جا رہی ہے اور اسکا انجام بہت جلد عوام کے سامنے آنے والا ہے اور یہ اس بات کا بھی خیال نہیں کر رہے کہ جن افراد کو ایک سے زیادہ ٹکٹیں دے رہے ہیں وہ کسی وقت بھی نیب کے فیصلوں کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی افراد میں سے ایک فرد جس کا نام چودھری نثار علی خاں ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں مریم نواز کی جوتیاں سیدھی نہیں کر سکتا، دوسری جانب زعیم قادری فرماتے ہیں کہ میں حمزہ شہباز کے جوتے پالش نہیں کر سکتا۔

یہ وہ لمحہ فکریہ ہے جہاں یہ تمام سیاسی جماعتوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ‘عزت دیں’  کی پالیسی اختیار کریں اور انکو انکے انتخابی حلقوں میں ٹکٹیں تقسیم کریں نہ کہ وہ دوسرے حلقوں و علاقوں سے افراد لا کر محنتی کارکنوں کے علاقے میں کھڑا کر دیں ، بنیادی طور پر ووٹ تو کارکن نے بنایا ہوتا ہے ، باہر سے آیا ہوا کوئی نیب زدہ اور کسی محنتی کارکن کے حلقہ سے الیکشن لڑے، ووٹ حاصل کرے اور بعد میں اسکے گریباں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہ ہو۔

 جہاں ووٹر ایک ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح پاکستان کے آئین میں ترمیم ہونی چاہیے کہ ایک سیاستدان ایک حلقے سے الیکشن لڑ سکے کیونکہ جب یہ اپنے حلقہ انتخابات کو چھوڑیں گےضمنی الیکشن روپذیر ہوں گے ، ان ضمنی الیکشن پر جو خرچ آئے گا وہ بھی تو یمارے انکم ٹیکس اور دوسرے ٹیکس سے حاصل شدہ آمدن میں سے کیا جائے گا۔

کیا عوام ساری عمر ان سیاستدانوں کی جیبیں اور گھر بھرنے کیلئے ہی رہ گئی ہے؟

 ووٹ کا احترام کرو کے بہت نعرے سنے کیا ووٹر کا احترام کرنے کا کوئی جذبہ نہیں ؟

اگر اس دفعہ بھی ورکرز کو ٹکٹیں تقسیم نہ کی گئیں تو یقین جانیے پاکستان میں کئی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کی داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here