قوم کا پیسہ واپس قومی خزانے میں جائے گا اور سب کا احتساب ہوگا، چیف جسٹس

This judiciary won't allow nepotism, corruption: CJP
This judiciary won't allow nepotism, corruption: CJP

:لاہور

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار  نے صاف پانی کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ  قوم کا پیسہ واپس قومی خزانے میں جائے گا اور سب کا احتساب ہوگا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے صاف پانی اور 50 کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر تقرر کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صاف پانی کمپنی میں معاملات اوپر جانے کے بجائے نیچے آتے رہے جب کہ منصوبے پر 400 کروڑ روپے لگنے کے باوجود شہریوں کو ایک قطرہ صاف پانی بھی میسر نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنے اخراجات اشتہاری مہم پر خرچ کر دیے گئے لیکن منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا، یہ قوم کا پیسہ ہے واپس قومی خزانے میں جائے گا اور سب کا احتساب ہوگا۔

عدالت نے صاف پانی کمپنی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں پراسیکیوٹر جنرل نیب کو 14 اپریل کو طلب کر لیا۔

مختلف کمپنیوں میں بھاری تنخواہوں پر افراد کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب تک یہ عدلیہ ہے کوئی سفارش یا رشوت نہیں چلے گی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زعیم قادری کے بھائی عاصم قادری اور بیگم عظمیٰ قادری کو کس اہلیت پر بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام کمپنیز کے سی ای اوز کو سرکاری ملازمت کے برابر تنخواہ ملے گی اور جنہوں نے کمپنیوں میں تقرریاں کیں پیسے ان سے بھی وصول کیے جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here