مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلے پر جنرل اسمبلی میں ووٹنگ آج ہوگی

There will be voting today in the General Assembly on controversial American decision
There will be voting today in the General Assembly on controversial American decision

:نیو یارک

امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ ہوگی۔

اقوام متحدہ کے 193 ممبران ممالک امریکی متنازع فیصلے پر ووٹ دیں گے جب کہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی اعلان کے خلاف مذمتی قرارداد آسانی سے منظور کرلی جائے گی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا، امریکی متنازع فیصلے کے خلاف قرار داد پیش کرنے والوں میں پاکستان، ترکی اور یمن بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے امید ظاہر کی ہے کہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی جائے گی اور اس سے امریکا کو پیغام جائے گا کہ دنیا فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی مالی امداد روک لی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ہم سے لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں، انہیں ایسا کرنے دیں، ہم اس ووٹنگ کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے خلاف ووٹ دیا گیا تو اس کی کوئی پروا نہیں ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے۔

خیال رہے کہ 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکا نے ویٹو کردی تھی۔

جب کہ امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے، جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ خصوصی نکی ہیلے نے سلامتی کونسل میں درخواست ویٹو کرنے کے بعد مختلف سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط لکھے۔

نکی ہیلی نے اپنے خطوط میں لکھا کہ جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرنے و الے ممالک کے نام صدر ٹرمپ کو بتاؤں گی اور مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرارداد پر ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔

امریکی نمائندہ خصوصی نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک ٹوئٹ بھی کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے، جمعرات کو ہمارے انتخاب پر تنقیدی ووٹ ڈالا جائے گا اور امریکا ایسے ممالک کے نام لے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here