یہ کالم 20 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ اعصاب کی جنگ

AGHA WAQAR AHMED

اعصاب کی جنگ

(یہ کالم 20 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

اعصاب کی جنگ شروع ہو چکی ہے اور جس پارٹی کے اعصاب زیادہ مضبوط ہوں گے وہ اس جنگ میں فاتح ٹھہرے گا جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق آنے کے بعد سیاسی پارٹیوں میں جو تناؤ پیدا ہوگئی ہے وہ کوئی خوش آئند بات نہیں اسی جنگ کا نام اعصابی جنگ ہے ۔جو زیادہ پریشر برداشت کر ے گا وہ کامیاب ہوگا۔

ان نازک لمحات میں جہاں حکومتی پارٹیوںسے غلطیاں سرزد ہو رہی ہیں وہیں پر ”پی ٹی آئی“ بھی بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ایک چال غلط چلی تو ”پی، ٹی، آئی“ بمعہ لیڈر نہ صرف سیاست سے باہر ہو جائے گی بلکہ عمران خان صاحب باقی ماندہ زندگی اپنے مقدمات کی پیشیاں بھگتنے میں گزار دیں گے اور ان کے حواری اپنے اپنے کاروبار میں واپس لوٹ جائیں گے ۔

 عمران خان محض چند سو ورکروں کے ساتھ دوبارہ ٹانگہ پارٹی کی شکل اختیارط کرلیں گے کیونکہ ”پی ٹی آئی“ نے کبھی بھی سنجیدگی سے اپنی پارٹی کی تشکیل نوپر توجہ نہیں دی ۔حالات یہ ہیں کہ جو شخص کسی بھی پارٹی سے نکلا یا نکال دیا گیا اُسے اپنی پارٹی ”پی ٹی آئی “ میںویلکم کہا گیا اور سوچا کہ یہ ان کی کامیابی ہے ۔اس یک طرفہ سوچ کے بدلے عمران خان” شیخ چلی“ کی طرح نظرآئے کیونکہ ”پی ٹی آئی “ میں ہر نیا آنے والا ناکارہ کارتوس اور عوام کار مسترد کردہ شخص تھا مگر عمران خان کی نظر میں وہ مخلص اور سچے پاکستانی کی حیثیت رکھتا ہے چاہے اس آنے والے شخص نے ماضی میں بد عنوانی اور کرپشن کا ریکارڈ ہی کیوں نہ توڑا ہو ۔

جسٹس وجہیہ الدین کی رپورٹ کو اگر غور سے پڑھا جائے تو جن افراد کی نشاندہی انہوں نے کی ہے وہ افراددراصل عمران خان کی پارٹی ”پی ٹی آئی“ کے لئے ناسور ہیں مگرموجودہ دور میں عمران خان کے دائیں بائیں وہی افراد نظر آتے ہیں اور جسٹس وجہیہ الدین کی رپورٹ کا احساس اور حقیقت عنقریب عمران خان پر ظاہر ہونے والی ہے۔ اور اس حقیقت کا اندازہ عمران خان صاحب کو ہو جائے گا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔کیونکہ خان صاحب کی عادت ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں جن کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں147بچوں کی شہادت ہوئی اور عمران خان صاحب اپنی نئی شادی رچا کر بچوں کے والدین سے ملنے گئے اتنے بڑے افسوس ناک واقعہ کے باوجود انہوں نے اپنی شادی کی تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں کی ۔حد تو یہ ہے کہ محترم عمران خان صاحب نے اپنے نکاح کو بھی پوشیدہ رکھاجس کی تاریخ سات محرم الحرام تھی اور انجام دیکھیں کہ جلد بازی میں کیا ہوا فیصلہ چند ماہ بھی نہ چل سکا۔

عمران خان صاحب کے فیصلوں کے یہ حالات ہیں ۔عمران خان صاحب مفاد پرستوں کے ٹولے میں گھیر چکے ہیںاور انہیں دوست و دشمن کی پہچان نہیں رہی ۔ جس کی ایک مثال جاوید ہاشمی کا ”پی ٹی آئی“ کو چھوڑ جانا اور اس کے بعدناز بلوچ کا پارٹی سے الگ ہو جانا اہل سیاست کی سمجھ میں تو آتا ہے مگر خان صاحب کی آنکھوں پرتو پٹی بندھی ہوئی ہے۔

وہ تمام سیاسی پارٹیوں سے نکالے گئے افراد کو ہیرا سمجھ کر ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں در حقیقت یہی ان کی سب سے بٹری غلطی ہے اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی ۔

جے آئی ٹی، پر بہت کچھ لکھ چکا ہوں پر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بس ایک کام ہوا کہ ہمارے کالم ارباب اختیار تک پہنچ رہے ہیں جس کی مثال عابد شیر علی کا عمران خان کو ےہ احساس دلانا جس میں اس کی آکسفورڈ میں تعلیم اور زمان پارک میں اس کے گھر کی بابت گفتگو کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ کالم کو غور سے پڑھتے ہیں ۔

مختلف محکموں میں مسلم لیگ کے حقیقی کارکنوں کو وائس چئیر مین کا عہدہ دینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نزدیک صحافیوں کے مشوروں کی اہمیت ہے ۔مگر ےہ وائس چیئر مین شپ کتنے دنوں تک قائم رہے گی ےہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

درحقیقت یہ افراد صوبائی اسمبلی کی ٹکٹوں کے حقدار تھے مگر ان کے پاس وسائل کی کمی تھی اور مسلم لیگ نے ان کی بجائے سرمایہ داروںکو کر ٹکٹیں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے ان کو ” لولی پاپ“ وائس چئیر مین شب دے دی گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران طبقے کو غریب کارکنوں کی اصل حیثیت کا احساس دلائے گا کون ؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here