قصہ حضرت حزقیل علیہ السّلام کا

The story of Hazrat Hizekiel
The story of Hazrat Hizekiel

حضرت حزقیل علیہ السّلام، اللہ تعالیٰ کے ایک نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے بعد اُن کے خادمِ خاص، حضرت یوشع علیہ السّلام منصبِ نبوّت پر فائز ہوئے اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ارضِ مقدّس کو مشرکین سے آزاد کروایا۔ اس جہاد میں حضرت کالبؒ بن یوحنا بھی اُن کے ہم راہ تھے، جو علّامہ ابنِ جریرؒ کے مطابق، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بہن، مریم بنتِ عمران کے شوہر تھے۔ مفسرین کے مطابق، حضرت یوشع ؑ اور حضرت کالبؒ ہی وہ دو شخصیات ہیں کہ جن کے بارے میں قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے’’جو لوگ اللہ سے ڈرتے تھے، اُن میں سے دو افراد، جن پر اللہ کا انعام تھا، کہنے لگے کہ’’ ان لوگوں پر دروازے کے راستے حملہ کر دو، تو فتح تمہاری ہی ہے اور اللہ پر بھروسا کرو، اگر تم ایمان لانے والے ہو۔‘تورات اور تاریخ کی روشنی میں مفسّرین اس بات پر متّفق ہیں کہ حضرت موسیٰؑ ؑاور حضرت ہارونؑ کے بعد، حضرت یوشع ؑ منصبِ نبوّت پر فائز ہوئے اور اُن کی جانشینی حضرت موسیٰؑ ؑ کے دوسرے رفیق، حضرت کالبؒ نے کی، لیکن وہ نبی نہیں تھے۔ علّامہ طبریؒ تحریر فرماتے ہیں کہ اُن کے بعد جس ہستی نے سب سے پہلے بنی اسرائیل کی روحانی قیادت اور رہنمائی فرمائی، وہ حضرت حزقیل علیہ السّلام ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک کے طویل درمیانی عرصے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے انبیائے کرامؑ مبعوث فرمائے، جن کی درست تعداد کا علم اللہ عزّوجل ہی کو ہے۔ اُن میں سے چند پیغمبروں کا تذکرہ قرآنِ کریم میں ہے، بعض کا تفصیل سے تو کچھ کا مختصر، جب کہ کچھ کا صرف نام ہی مذکور ہے۔ حضرت یوشع علیہ السّلام اور حضرت حزقیل علیہ السّلام کا قرآنِ کریم میں نام نہیں ہے، البتہ بعض واقعات کے ضمن میں مفسّرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں جن افراد کا ذکر کیا گیا ہے، اُس سے یہ بزرگ شخصیات ہی مُراد ہیں۔( واللہ اعلم)

حسب نسب

تورات کی روایت کے مطابق، حضرت حزقیل علیہ السّلام کے والد کا نام، بوزی کاہن تھا اور آپؑ کا اصل نام، حزقی ایل ہے۔ بنی اسرائیل کے یہاں کاہن کا لفظ، عالم اور روحانی شخصیت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عبرانی زبان میں ’’حزقی‘‘ کے معنی’’ قدرت اور قوّت‘‘ کے ہیں اور’’ ایل‘‘ اسمِ جلالت ہے۔ اس لیے عبرانی زبان میں اس مرکّب کا ترجمہ’’قدرت اللہ‘‘ ہے۔ حزقیل علیہ السّلام ابھی بچّے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ جب آپؑ کی بعثت کا زمانہ قریب آیا، تو والدہ بہت ضعیف اور بوڑھی ہو چُکی تھیں، اس لیے اسرائیلیوں میں آپؑ ’’ابن العجوز‘‘ یعنی ’’بڑھیا کا بیٹا‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ (تاریخ ابنِ کثیرؒ)

بنی اسرائیل کا جہاد سے فرار

سورۃ البقرہ میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس کے متعلق مفسّرین نے لکھا کہ اس کا تعلق حضرت حزقیل علیہ السّلام ہے۔ اس ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور بعض دیگر صحابۂ کرامؓ کے حوالے سے روایات منقول ہیں کہ حضرت حزقیل علیہ السّلام نے بنی اسرائیل سے کہا کہ’’ تم سب تیار ہو جائو، ہم مشرکین سے جنگ کرنے جائیں گے تاکہ اللہ کے نام کو بلند کیا جا سکے۔‘‘ بنی اسرائیل نے جب جنگ اور جہاد کی بات سُنی، تو اپنی جانوں کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے اور آبادی سے دُور ایک وادی میں جا کر قیام پذیر ہو گئے۔ گویا یوں اپنے طور پر مطمئن ہوگئے کہ اب وہ موت سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ حضرت حزقیل علیہ السّلام نے اُن کے اس طرح ڈر کر بھاگ جانے پر ناراض ہو کر اُن کے لیے بددُعا کی یا پھر خود اللہ بزرگ و برتر کو اُن کی یہ نافرمانی بُری لگی، بہرحال، اُن پر موت طاری کر دی گئی اور وہ سب کے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ایک ہفتے بعد وہاں سے حضرت حزقیل علیہ السّلام کا گزر ہوا، تو اُنھیں اُن کی اس حالت پر افسوس ہوا، جس پر اُنھوں نے دُعا مانگی’’ یا اللہ! ان کو موت کے عذاب سے نجات دے تاکہ ان کی زندگی خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے عبرت و بصیرت بن جائے۔‘‘ دُعا قبول ہوئی اور وہ زندہ ہو کر نمونۂ عبرت و بصیرت بنے۔ (تفسیرِ کبیر، ج2،ص283، رُوح المعانی ج2، ص130)قرآنِ کریم کی سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے’’بھلا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا، جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے، تو اللہ نے اُن کو حکم دیا کہ مر جائو۔ پھر اُن کو زندہ بھی کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے، لیکن اکثر لوگ شُکر نہیں کرتے۔‘‘ (آیت 243)

موت سے فرار ممکن نہیں

تفسیر ابنِ کثیر میں صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ کے حوالے سے اس واقعے کی تشریح یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل کی کوئی جماعت ایک شہر میں بستی تھی۔ وہاں کوئی سخت وبا جیسے طاعون وغیرہ پھیل گئی، جس پر یہ لوگ، جو تقریباً دس ہزار کی تعداد میں تھے، گھبرا اٹھے اور موت کے خوف سے اُس شہر کو چھوڑ کر دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں جا کر قیام پذیر ہو گئے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اُن پر اور دنیا کی دوسری اقوام پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ کوئی موت سے نہیں بھاگ سکتا، دو فرشتے بھیج دیے، جو اُس میدان کے دونوں سِروں پر آ کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز دی کہ جسے سُن کر سب کے سب بہ یک وقت مر گئے، ایک بھی شخص زندہ نہ رہا۔ آس پاس کے لوگوں کو جب اس واقعے کی اطلاع ہوئی، تو وہاں پہنچے، لیکن دس ہزار انسانوں کے کفن دفن کا انتظام کوئی آسان کام نہ تھا، اس لیے اُنہوں نے اُن کے گرد ایک دائرہ سا بنا دیا۔ جلد ہی لاشیں گل سڑ گئیں اور ہڈیاں پڑی رہ گئیں۔ ایک عرصے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر، حضرت حزقیل علیہ السّلام اُس مقام سے گزرے اور اس احاطے میں جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی اُنھیں ان لوگوں کا پورا واقعہ بتلایا، جس پر حضرت حزقیل علیہ السّلام نے دُعا کی کہ ’’یااللہ! ان لوگوں کو پھر زندہ فرما دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دُعا قبول فرمائی اور اُنہیں حکم دیا کہ ان شکستہ ہڈیوں کو اس طرح خطاب فرمائیں’’اے پرانی ہڈیو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ہر جوڑ کی ہڈی اپنی جگہ جمع ہو جائے۔‘‘پیغمبر کی زبان سے اللہ تعالیٰ کا حکم ان ہڈیوں نے سُنا اور حکم کی تعمیل کی۔ جن کو دنیا بے عقل و بے شعور سمجھتی ہے، مگر دنیا کے ہر ہر ذرّے کی طرح وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تابع، فرماں بردار اور اپنے وجود کے مناسب عقل و ادراک رکھتی ہیں۔ سورۂ طہٰ کی اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، پھر اس کو اس کے حسبِ حال ہدایت فرمائی۔‘‘ مولانا رومیؒ نے ایسے ہی اُمور کے متعلق فرمایا؎ باد و خاک و آب و آتش بندہ اند…بامن وتو مُردہ باحق زندہ اند۔‘‘قصّہ مختصر، آپؑ کی آواز پر ہر شخص کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ جُڑ گئیں۔ پھر حکم ہوا کہ اب اَرواح سے یہ خطاب کیا جائے،’’اے اَرواح! تمہیں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے اپنے اجسام میں لَوٹ آؤ۔‘‘یہ آواز سُنتے ہی سارے لاشے زندہ ہو کر کھڑے ہو گئے اور حیرت سے چاروں طرف دیکھنے لگے۔یہ واقعہ دنیا بھر کے فلسفیوں اور عاقلوں کے لیے دعوتِ فکر اور منکرینِ قیامت پر حجّتِ قاطعہ ہونے کے ساتھ، اس ہدایت پر بھی مشتمل ہے کہ موت کے خوف سے بھاگنا خواہ جہاد سے ہو یا کسی وبا سے، اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر ایمان رکھنے والوں کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ہر شخص کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ موت کا ایک وقت مقرّر ہے۔ وہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے آ سکتی ہے اور نہ ایک لمحے کے لیے مؤخر ہو سکتی ہے، اس لیے فرار فضول ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی۔ (معارف القرآن، ج 1، ص593)حافظ ابنِ کثیرؒ تحریر کرتے ہیں کہ جس بستی میں طاعون کی وبا پھیلی، اُس کا نام’’ داوردان‘‘ تھا، جو’’ واسط‘‘ شہر سے ذرا پہلے واقع تھی۔

وَبا کے علاقے میں جاؤ اور نہ وہاں سے بھاگو

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ’’اس بیماری(طاعون) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل فرمایا ہے، سو، جب تم یہ سنو کہ کسی شہر میں طاعون یا کوئی اور وبائی مرض پھیل رہا ہے، تو وہاں نہ جائو اور اگر کسی بستی میں یہ مرض پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو، تو وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو۔‘‘خلیفۂ دوم، امیرالمومنین، سیّدنا عُمر فاروقؓ ایک مرتبہ شام کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ابھی آپؓ شام کی سرحد کے قریب تبوک سے ذرا پہلے، ’’مقامِ سرغ‘‘ تک پہنچے تھے کہ شام میں طاعون پھیلنے کی اطلاع ملی۔ یہ مُلکِ شام کی تاریخ کا ایک بڑا سانحہ تھا، جس میں بہت سے صحابہؓ اور تابعینؒ بھی لقمۂ اجل بنے۔ امیرالمومنینؓ نے رُک کر صحابۂ کرامؓ سے مشورہ کیا، لیکن کوئی واضح فیصلہ نہ ہو سکا۔ حضرت عبدالرّحمٰن بن عوفؓ اس مجلس میں موجود نہیں تھے۔ جب وہ آئے اور اُنہیں اس بات کا علم ہوا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ’’امیرالمومنین! مَیں نے رسول اللہﷺ سے سُنا ہے، آپﷺ نے فرمایا تھا کہ’’ جب کسی علاقے میں طاعون کی وَبا پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو، تو وہاں سے راہِ فرار اختیار نہ کرو اور جب کسی علاقے کے متعلق سُنو کہ وہاں وَبا ہے، تو وہاں مت جائو، کیوں کہ یہ وہ بیماری ہے، جس کے ساتھ تم سے پہلی اُمّتوں کو عذاب دیا گیا۔‘‘(بخاری، مسلم، مسندِ احمد)حضرت عُمر فاروقؓ نے جب یہ حدیث سُنی، تو آپؓ نے مُلکِ شام میں داخل ہونے کا فیصلہ مؤخر کر دیا اور تمام رفقاء کو مدینہ منورہ واپسی کا حکم دے دیا۔

تین اہم باتیں

حضرت حزقیلؑ اور بنی اسرائیل سے متعلق اس واقعے میں تین نہایت اہم باتیں ہر مسلمان کو دعوتِ فکر دیتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ موت سے فرار ممکن نہیں، اس کا ایک وقت متعیّن ہے، جس میں لمحوں کی بھی کمی یا زیادتی کی گنجائش نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ’’ہر جان دار کو موت کا مزا چکھنا ہے۔‘‘ موت و حیات تقدیرِ الٰہی کے تابع ہے اور تقدیرِ الٰہی کے مقابلے میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ سورۂ انعام میں ارشاد ہے’’تم جہاں بھی جائو گے، وقتِ مقرّرہ پر موت تمہیں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ رہ رہے ہو۔‘‘ (آیت 78)۔سورۂ جمعہ میں ارشادِ باری ہے کہ ’’(اے پیغمبرؐ) آپؐ کہہ دیجیے کہ جس موت سے تم بھاگتے پِھرتے ہو، وہ تو تمہارے سامنے آ کر رہے گی۔ پھر تم پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (اللہ) کی طرف لوٹائے جائو گے، پھر جو جو کچھ تم کرتے رہے ہو، وہ تمہیں سب بتائے گا۔‘‘ (آیت: 8)حضرت حزقیل علیہ السّلام کے واقعے سے دوسری جو اہم بات معلوم ہوئی، وہ جہاد کے متعلق ہے۔ جہاد خالصتاً ایک للٰہی عمل اور افضل عبادت ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور جہاد فی سبیل اللہ میں حصّہ لے۔ جو لوگ جہاد سے منہ موڑتے ہیں، اُن پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے’’اگر تم جہاد کے اس حکم کی اطاعت کرو گے، تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا اور اگر تم منہ موڑو گے، جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تھا، تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ (سورۂ فتح، 16)اسلام میں جہاد کی کئی اقسام ہیں، جیسے جہاد بالنّفس، جہاد بالقتال، جہاد بالعلم، جہاد بالمال وغیرہ۔اُمّتِ مسلمہ کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف رکھے۔ جہاد اللہ تعالیٰ کی خُوش نودی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، جس کے ظاہری فوائد یا تکالیف تو ہر شخص کو نظر آ سکتے ہیں، لیکن حقیقی ثمرات باطنی ہیں، جن کا تعلق آخرت سے ہے۔ حضرت حزقیلؑ کے قصّے میں جو تیسری اہم بات معلوم ہوئی، وہ یہ کہ اللہ کے لیے مارنے کے بعد زندہ کر دینا کچھ مشکل نہیں۔ سورۂ روم میں ارشاد ہے’’پس، آپ رحمتِ الٰہی کے آثار دیکھیں کہ زمین کو موت کے بعد اللہ کس طرح زندہ کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہ مُردوں کو زندہ کرنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ (آیت، 50) سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری ہے’’اور جب ابراہیمؑ نے کہا کہ’’ اے میرے پروردگار! مجھے دِکھا کہ تُو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟‘‘ اللہ نے فرمایا ’’کیا تمہیں ایمان نہیں؟‘‘ جواب دیا’’ایمان تو ہے، لیکن میرے دِل کو تسکین ہو جائے گی۔‘‘ فرمایا’’اچھا چار پرندے لو، اُن کے ٹکڑے کر ڈالو۔ پھر ہر پہاڑ پر اُن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔ پھر اُنہیں پکارو، وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آ جائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے، حکمتوں والا ہے۔‘‘ (آیت: 260) چناں چہ بعض خاص حالات میں اللہ ربّ العزّت اپنے نبیوں اور رسولوں کی تصدیق اور تائید کے لیے دنیا میں بھی مُردوں کو زندہ فرماتے ہیں، جب کہ روزِ قیامت تو زندہ ہونا ہی ہے۔

حضرت حزقیلؑ کا وصال

محمّد بن اسحاقؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حزقیلؑ کے بنی اسرائیل میں رہنے کی مدّت بیان نہیں کی گئی ہے۔ آپؑ ایک عرصہ بنی اسرائیل میں ٹھہرے، پھر اللہ نے اُن کو اپنے پاس بلا لیا۔ جب اُن کا انتقال ہوگیا، تو بنی اسرائیل اللہ سے کیے عہد کو بُھلا بیٹھے اور نئی نئی اختراعات و بدعات کرنے لگے، حتیٰ کہ ایک بار پھر بُتوں کی پرستش میں مبتلا ہوگئے ۔ (ابنِ کثیرؒ)

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here