ایم ڈی پی سی بی کیلئے5 لاکھ روپے مالیت کے کریڈٹ کارڈ کی منظوری کا امکان

The possibility of approval of credit card worth Rs. 1.5 million for MDPB
The possibility of approval of credit card worth Rs. 1.5 million for MDPB

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کو 5 لاکھ روپے مالیت کا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے کے لئے بورڈ آف گورنرز سے منظوری حاصل کیے جانے کا امکان ہے۔

کوئٹہ کی میٹنگ میں اگر بورڈ آف گورنرز نے منظوری دے دی تو وسیم خان کو بزنس اخراجات کے لئے پی سی بی کی جانب سے پانچ لاکھ روپے مالیت کا کریڈٹ کارڈ جاری کیا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق بینک نے کریڈٹ کارڈ جاری کرنے کے لئے بورڈ آف گورنرز کی منظوری کی شرط کو لازمی قرار دے دیا ہے جب کہ پی سی بی کراچی آفس کے لئے ایک اور بینک میں اکاؤنٹ کھولا جارہا ہے۔

اس سے قبل پی سی بی ہیڈ کوارٹر اور کراچی آفس کے بینک اکاونٹ الگ الگ بینکوں میں تھے جس کی وجہ مشکلات پیش آرہی تھی اور نیا اکاونٹ کھولنے کے لئے بھی بورڈ آف گورنرز سے اجازت درکار ہوگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین میں اصلاحات آنے اور ترامیم مکمل ہونے کے بعد اس بات کے امکانات روشن ہیں کہ پی سی بی بورڈ آف گورنرزمیں ڈپارٹمنٹس کی نمائندگی ختم ہوجائے گی۔

اسد علی خان کی سربراہی میں پی سی بی ٹاسک ٹیم نئے آئین کی تیاری پر کام کررہی ہے اور اس آئین میں صوبائی ٹیموں کو فرسٹ کلاس سسٹم میں لانے کے لئے آئینی کور دیا جائے گا۔

نئے آئین کا مسودہ منظور ہونے کےلئے وزارت قانون کے توسط سے بورڈ کے سرپرست اعلی اور وزیر اعظم عمران خان کے پاس جائے گا۔

پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے ایجنڈے کے مطابق اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کی ٹاسک فورس اور آئین کی ترامیم کرنے والی ٹاسک فورس اپنی اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے آئین میں فرسٹ کلاس کرکٹ سے ڈپارٹمنٹس کی ٹیموں کا خاتمہ ہوجائے گا جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹ صوبائی ٹیموں(ریجن)کی بنیاد پر ہوگی اور ڈپارٹمنٹ کی ٹیموں کی بندش کے بعد بورڈ آف گورنرز سے ڈپارٹمنٹس کی نمائندگی ختم ہوجائے گی۔

اس وقت بورڈ آف گورنرز میں واپڈا، حبیب بینک، سوئی سدرن گیس، کے آرا ایل کے نمائندے موجود ہیں، نئے آئین کے تحت بورڈ آف گورنرز میں مستقبل میں ان چھ ریجن کے نمائندے ہوں گےجو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ، ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ڈھانچے کو وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق پرکشش بنانے کے لئے دن رات کام کررہا ہے جس کے تحت 6 ریجن کو آئینی کور دیا جائے گا۔

اس خاکے کے قانونی نقائص دور کرکے اس پر اکتوبر میں عمل کیا جائے گا جب کہ آئین میں ترمیم کرکے ریجنل ٹیموں کے لئے نیا فنانشل ماڈل تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here