رحم دل پولیس افسر نے خاتون کے مردہ بیٹے کا روپ دھارلیا

The merciful police officer raided the lady's dead son
The merciful police officer raided the lady's dead son

:بیجنگ

اب سے 5 برس قبل شنگھائی کے ایک  افسر نے ایک ایسی خاتون کے سامنے اس کے بیٹے کا روپ اختیار کرلیا جس سے وہ پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔

پندرہ سال قبل اس خاتون کا بیٹا ایک حادثے کا شکار ہو کر مرگیا تھا اور پولیس افسر کا حلیہ ہوبہو اس جیسا تھا۔ اس کے بعد سے وہ ان خاتون سے مل کر اسے اطمینان دلاتے رہے ہیں کہ وہی ان کا بیٹا ہے کیونکہ خاتون کی یادداشت بہت کمزور ہوچکی ہے۔

سال 2003ء میں خاتون لیانگ چیاؤ یِنگ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر میں تھیں کہ زہریلی گیس سے ان کا سامنا ہوا جس سے ان کا نوجوان بیٹا لیانگ یو ہلاک ہوگیا جبکہ لیانگ چیاؤ فالج کا شکار ہوکر یادداشت کافی حد تک کھو بیٹھی تھیں تاہم وہ اتنا ضرور جانتی ہیں کہ ان کا ایک جوان بیٹا تھا۔

خاتون کے شوہر شیا لیانگ یو اپنی بیوی کو جانتے تھے جو بار بار اپنے بیٹے کو یاد کرتی رہی اور اس کے شوہر اسے کہتے رہے کہ ان کا بیٹا ابھی مصروف ہے اور جلد کام سے واپس آجائے گا۔

لیکن ماں کی بے تابی بڑھتی گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے دن رات پریشان رہیں۔ پھر 2010ء میں چینی پولیس کی ایک دستاویزی فلم میں ایک افسر کو دیکھ کر شیا لیانگ حیران رہ گئے جو عین ان کے بیٹے کی طرح تھا۔ اسی وقت ان کی بیوی نے دوبارہ اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ٹی وی کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ ہے ان کا بیٹا اس جواب پر خاتون مسکرا کر خاموش ہوگئیں۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ ویڈیو میں دکھایا جانے والا پولیس اسٹیشن ان کے گھر سے 1500 کلومیٹر دور پوڈونگ کے علاقے میں واقع تھا۔ اس طرح ایک اجنبی اور گمنام افسر کو تلاش کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔

سال 2013ء میں ایک ٹی وی ریالٹی شو نے شنگھائی پولیس سے ان کے بیٹے کے ہم شکل افسر کو تلاش کرنے کی درخواست کی اور ان کے بیٹے کی چند تصاویر بھی نشر کیں۔ اس کے بعد بیٹے کا ہم شکل افسر تلاش کرلیا گیا جس کا نام جیانگ جنگ وائی ہے۔

اس کے بعد سے پولیس افسر جیانگ جنگ باقاعدگی سے ان خاتون سے ملنے آتے ہیں۔ پہلےدن اپنے بیٹے کو دیکھنے کے بعد لیانگ چیاؤ یِنگ بہت سکون سے سوئیں اور ان کی صحت بہتر ہوتی گئی۔ اس کے بعد جب موقع ملتا ہے جیانگ جنگ باقاعدگی سے اپنی منہ بولی ماں سے ملنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک وہ پولیس افسر کو اپنا حقیقی بیٹا ہی تصور کررہی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here