شکریہ برطانیہ اور فرانس، مشن کامیابی سے مکمل ہوگیا، ڈونلڈ ٹرمپ

Thanks Britain and France, mission successfully completed, Donald Trump
Thanks Britain and France, mission successfully completed, Donald Trump

:واشنگٹن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر فضائی حملوں کے بعد اپنے اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا مقصد کامیابی سے حاصل کرلیا گیا۔

امریکا، فرانس اور برطانیہ نے گزشتہ شب شام کی تین سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا، برطانیہ اور فرانس کے جنگی طیاروں نے مجموعی طور پر تین سرکاری تنصیبات پر 100 سے زائد مختلف اقسام کے میزائلز داغے جن سے ان تنصیبات کو کافی نقصان پہنچا۔

ان حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’گزشتہ شب انتہائی عمدگی سے حملے کیے گئے، اپنی ذہانت کے استعمال اور شاندار ملٹری پاور کے لیے فرانس اور روس کا شکریہ، اس سے بہتر نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا، مشن مکمل ہوا!‘۔

امریکا نے شام میں حملے کے لیے شامی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ مبینہ کیمیائی حملے کو جواز بنایا جس میں خواتین و بچوں سمیت 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم شام اور اس کا اہم اتحادی ملک روس کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے ہیں۔

سلامتی کونسل میں روس کی قرار داد مسترد

9 countries including the United States voted against Russia's proposal
امریکا سمیت 9 ممالک نے روس کی پیش کردہ قرار داد کے خلاف ووٹ دیا — فوٹو: رائٹرز

شام میں امریکا، برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد روس کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔

اجلاس میں روس نے شام میں حملے کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوم متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔

روس کی پیش کردہ قرارداد سلامتی کونسل کے 9 ارکان کی مخالفت کے بعد منظور نہ ہوسکی، صرف چین روس اور بولیویا نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیے جبکہ 4 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

امریکا کی ہٹ دھرمی برقرار

Security Council meeting
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ دیکھنے میں آئی— فوٹو: رائٹرز

نیویارک میں ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ دیکھنے میں آئی تاہم امریکا نے مؤقف اپنایا کہ اگر شامی حکومت نے دوبارہ کیمیائی حملہ کیا تو امریکا پھر سے شام پر حملہ کرے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ ’امریکا شام پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے تیار ہے، گزشتہ شب مذاکرات کا وقت ختم ہوگیا، اگر شامی حکومت اتنی بے وقوف ہے کہ وہ ہمارے عزم کو آزمانا چاہتی ہے تو ہم بتادیں کہ ہم اس دباؤ کو برقرار رکھنے کیلئے تیار ہیں‘۔

نکی ہیلی نے مزید کہا کہ ’جب ہمارے صدر کوئی سرخ لکیر کھینچتے ہیں تو اس سرخ لکیر کو لاگو بھی کرواتے ہیں‘۔

امریکی سفیر نے روس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’روس کی حمایت نے شامی صدر بشارالاسد کو حملے جاری رکھنے کا حوصلہ دیا، ہم خاموش رہ کر روس کو ان بین الاقوامی اقدار کی دھجیاں اڑانے نہیں دے سکتے جن کے لیے ہم نے کوششیں کی ہیں اور ہم کیمیائی حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے‘۔

اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویسلی نبینزیا نے اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے بغیر شام میں میزائل حملہ کرکے امریکا، فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک ایسے ملک کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے جو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہا ہے‘‘۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فوجی کارروائی روکنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ ’’آج شام عالمی امن و سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے لیکن اس بحران کا کوئی عسکری حل نہیں، حل سیاسی ہونا چاہیے‘‘۔

اس کے علاوہ فرانس اور برطانیہ نے بھی شام کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی مشروط دعوت دی جبکہ فرانس نے براہ راست روس سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ شامی حکومت پر مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here