تحریک ختمِ نبوت

AGHA WAQAR AHMED

تحریک ختمِ نبوت

١٩٩٠ کی دہائی کا زمانہ تھا  اور نیا نیا پاکستان معرف وجود میں آیا تھا  پاکستانی عوام اور “عام شہری”  اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ یہ مملکت پاکستان  جس کو اسلام کے نام پر حاصل کی گیا  یہاں پر  اپنے مذہبی عقائد آزادی سے ادا کیا کریں گے  مگر حقیقت میں ایسا نہ ہوا اور تقسیم ہند  کے فوراََ بعد ہی  برطانیہ کے صاحب اقتدار اور بھارت کے مذہب دشمن عناصر ہندوؤں نے مل کر  ایک خفیہ معاہدہ کیا  جس کی روح سے مسلمانوں کے اندر  ایک فتنے کو ہوا دینا  اور نونہال  پاکستان کو ٹکڑوں  میں تقسیم کرنے کا ایک سازشی پلان  تیار کیاگیا  اور کوشش کی کہ  مرزا غلام احمد قادیانی (ملعون)  کے جانشینوں کو پاکستان  میں اقتدار میں لایا جائے ۔

مگر اس وقت کے علما کرام  اس سازش کو بھانپ گئے اور سید عطا اللہ شاہ بخاری  کی زیر سرپرستی ختم نبوت کی تحریک چلی  جس نے ایوانوں کے در و دیوار ہلا دیئے اور سازشی عناصر کو یہ احساس ہوا کہ مسلمان  ہر چیز برداشت کر سکتا ہے مگر ختم نبوت کے سلسلے میں  نبی اکرم ﷺ کی ذات اور ان کی تعلیمات  پر کسی قسم کا حملہ ہو تو وہ اپنی  جانوں کا نظرانہ دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ۔

عطا اللہ شاہ بخاری کی تحریک کی وجہ  سے  سازشی عناصر کو منہ کی کھانی پڑی  اور یہ  “قادیانی ازم” کا فتنہ وقتی طور پر شکست خوردہ ہو کر  زیر زمن اپنی کمان گاہوں میں چلا گیا  مگر سازش کو کامیابی دلوانے کے لئے   اپنی سر گرمیوں میں محتاط  طریقے سے  مصروف رہا اور “1971”  کے انتخابات کے درمیان  خفیہ طریقے سے عمل کرتے ہوئے اپنے کئی افراد کو  انتخابات  میں منتخب کروانے پر  کامیاب ہوا  اور “1974” میں انہوں نے سر عام  مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر  عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کیا۔

اس وقت کے حکمران جو بظاہر ایک  لبرل سوچ کے مالک تھے  مگر  محبت ِ محبوب ﷺ اپنے سینوں میں رکھتے تھے   اور سلطنت پاکستان  کی خوش قسمتی  تھی  کہ حسب اختلاف میں  بیٹھے ہوئے علما  بھی جلیل القدر  علما تھے  انہوں نے حکومتی   اقتدار کے  اختلافات کو پس پردہ  رکھ کر  عشق  رسول میں ختم نبوت ﷺ کی آئینی ترمیم  لانے کا فیصلہ کیا  اور ایک جمہوری طریقے سے قادیانیوں کے خلفا  اور قادیانیوں کے مذہبی رہنماؤں کو  قومی اسمبلی میں آنے کی دعوت دی  کہ ایک ایسا مناظرہ ہو جس میں وہ اپنے حق میں دلائل دیں اور عاشق رسول ناموس رسالت کے لئے ان دلائل میں سے  کفر نکال کر دکھائیں تو ایسا ہی ہوا  ” 13″ دن  مسلسل قادیانیوں کے مذہبی رہنما ؤں کے ساتھ مناظرے کے بعد  ان کے مذہبی  پیشوا مرزا غلام احمد ( ملعون ) کی  بد یانتی،  جھوٹ ، ریا کاری ، مکاری ، چالاکی،  بد نیتی  اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ  کرنے کا کفر ثابت کر دیا  اور پاکستان میں مرزا غلام احمد  کے چاہنےوالوں  چاہے وہ  لاہوری  گروپ ہو ،مرزئی ہو، احمدی ہو، قادیانی ہو یا کوئی  چھپا ہوا نام رکھتے ہوں   ان سب کو غیر مسلم قرار دے دیا  اور ان کو پاکستان میں اقلیتی حیثیت  سے رہنے کی اجازت دے دی اور ان پر پابندی واجب ہوئی کہ وہ اپنی مذہبی درسگاہوں کو  مسجد  کانام نہیں دے سکتے  اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں  کیونکہ وہ ایک ایسے انسان کے پیروکار ہیں  جو نبوت کا جھوٹا دعوے دار تھا  اور “1974” سے  مرزئیوں، لاہوری گروپ والوں، احمدیوں اور قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا گیا  اور ان کی حیثیت بھی سلطنت ِ پاکستان میں  ، ہندو ، سیکھ ، عیسائی، پارسی یا اس طرح کے دوسرے لا دین   افراد کی طرح  قرار پائی اور اس طرح اس فتنے پر قابو پا لیا گیا ۔

سلطنت پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا  مگر  قادیانی، مرزئی  ،احمدی  اور لاہوری اپنی  سازشوں  اور دشمنی محمدﷺ میں مصروف رہے ۔

حال ہی میں لاہور کے  حلقہ”  این اے  120″ میں  ضمنی انتخابات ہونے تھے  اور اس درمیان اس فرقے نے  بیرونی طاقتوں  کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی  جس سازش میں کچھ حکومتی اراکین بھی ملوث پائے جاتے ہیں  اس سازش کی روح سے انہوں نے “1974” کی آئنی ترمیم کو ختم کرنے کا ناپاک ارادہ کیا  جس سلسلے میں  پاکستان کی وزارت قانون  کے ساتھ کچھ با اختیار  افراد کے ساتھ مل کر آئنی حلف نامہ تبدیل کر دیا گیا۔عوامی ردعمل کے پیشِ نظر حکومت کو دوبارہ اسے اصلی حالت میں لانا پڑا۔

اب وہ مقام آیا کہ سیّدعطا اللہ شاہ بخاری کی پھر ضرورت تھی  اور ایسے جلیل القدر علما و مشائخ  ملنا مشکل ضرور تھا مگر ناممکن نہیں ۔

ختم نبوت ﷺ کا مسئلہ  اور توہین رسالت کی جراءت کرنا  کسی مسلمان کے وہم وگمان میں بھی نہیں  مگر افسوس  چند سیاست دانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے  جو ترمیم کی تھی وہ ملک گیر دھرنوں کے بعد  حکومتِ وقت کو واپس لینا پڑی مگر ابھی تک  توہین رسالت کرنے والے مجرمان ابھی تک بے نقاب نہیں ہوئے  اور اس سلسلے میں  پیر سیّد  حمید الدین سیالوی  صاحب نے سیّد عطااللہ شاہ بخاری اور مفتی محمود الرحمٰن صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے  ان ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا  بیڑ ا اٹھایا اور  انہوں نے پنجاب کی ایک سیاسی شخصیت  (جس نے قادیانیوں، مرزئیوں ، لاہوریوں اور احمدیوں  کو اپنے ہم پلہ ہونے کا ذکر  کیا تھا) کو  فل فور توبہ کرنے کا حکم دیا اور مطالبہ کیا  کہ وہ رب کے حضور مافی مانگ کر دوبارہ کلمہ پڑھے  اور دائرہ اسلام میں داخل ہو، مگر حکومتِ وقت اپنے ایک وزیر کو بچانے کے لئے  تمام سلطنت میں   تحریک ختم نبوت و رسالت  کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ملک گیر اجتماع کرے  اور  خاتم النبین ﷺ  کے تحفظ کے لئے  اپنے فرائض سر انجام  دے جس سلسلے میں    پیر سیّد  حمید الدین سیالوی نے   تحریک تحفظ  ختم نبوت ﷺ کا آغاز  کر دیا  ہے جو کے وہ فیصل آباد سے کرنے جا رہے ہیں مگر افسوس کہ موجودہ  سر براہ  مملکت  حالات  کی نزاکت  کو  محسوس  نہیں  کر رہے  اور ملک  کسی اور  انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

حالات جس نہج کی طرف جا رہے ہیں  کہیں کوئی غازی علم دین شہید یا ممتاز قادری بننے کی کوشش نہ کر لے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here