تماشا

Tamasha Column Riaz journalist
Tamasha Column Riaz journalist

:لاہور

عمران خان‘ حسن نثار اور ضیاشاہد اسٹیج پر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے پہلو میں حسن نثار اور ضیاشاہد تشریف فرما تھے‘ ان کے ساتھ شیخ رشید‘ عارف نظامی‘  امتنان شاہد‘ مبشر لقمان‘ ابرارالحق‘ علیم خان اور شفقت محمود بھی اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔

یہ جناب ضیاشاہد کی نئی کتاب ”سچا اور کھرا لیڈر“ کی تقریب رونمائی تھی جس کا اہتمام رائل پام کنٹری کلب میں کیا گیا‘ جس میں ہزاروں سیاسی کارکن‘ عام شہری‘ صحافی‘ دانشور اور دیگر شخصیات مدعو تھیں۔ بلاشبہ یہ کتاب بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی اجلی تعلیمات‘ سچے جذبات اور کھرے خیالات کی بہترین عکاس ہے جس میں بھرپور انداز میں قائد ؒکے شب و روز کا احاطہ کیا گیا ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی‘ فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کی رحلت کے باعث یہ خواب پورا نہ ہو سکا اور ملک ان سیاست کاروں کی بھینٹ چڑھ گیا جن میں سے بیشتر سیاہکار‘ لٹیرے اور بہروپئے تھے۔ اسی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ میری جیب میں سارے سکے کھوٹے ہیں۔

ان کی بداعمالیوں کے باعث آج پاکستان طرح طرح کے مصائب‘ مشکلات اور عذابوں میں مبتلا ہے۔ 23برس قبل پاکستان کے دکھ‘ درد دور کرنے کیلئے پاکستان کا ایک بیٹا میدان میں اترا اور اس نے قائد کے خوابوں کی تعبیر کیلئے جدوجہد شروع کی۔

وہ بار بار گرتا رہا‘ بار بار سنبھلتا رہا اور آخرکار اب وہ روشن پاکستان کا ستارہ بن کر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک اور دمک رہا ہے۔ یہ ستارہ عمران خان کی شکل میں ہمارے روبرو تھا جبکہ اس کے دو دیرینہ ساتھی آج بھی اس کے ہم رکاب ہیں۔

حسن نثار اور ضیاشاہد کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسے سیاست کے میدان میں دھکیلا۔ اس نے تو اپنی آئندہ زندگی رفاہی کاموں کیلئے وقف کر رکھی تھی مگر ان اور دیگر احباب کے اصرار پر وہ سیاست کی کل سدھارنے کیلئے اس پرخطر وادی میں اتر آیا۔

بانکے اور سجیلے کالم نگار حسن نثار کا اعزاز ہے کہ اس نے اس کی جماعت کو تحریک انصاف کا نام دیا۔ اسی طرح ضیاشاہد وہ ہستی ہیں جنہوں نے اس کی پہلی سیاسی تقریر لکھی۔ اس ضمن میں دلچسپ امر یہ ہے کہ 23برس قبل جب دوپہر 11بجے عمران خان ہالیڈے ان ہوٹل میں اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کر رہے تھے‘ عین اسی دن یہ سٹوری ضیاشاہد کے دوپہر کے اخبار ”صحافت“ کا عنوان بنی۔

ایک طرف عمران خان سیاست میں آنے کا اعلان کر رہے تھے تو دوسری طرف سارے لاہور سمیت پنجاب بھر کے شہروں اور اس ہوٹل کے باہر یہ دھماکہ خیز اخبار فروخت ہو رہا تھا۔ سارا اخبار قومی ہیرو عمران خان کی کامیابیوں‘ کامرانیوں اور کارناموں پر مشتمل تھا جس میں معروف پامسٹ پروفیسر ایم اے ملک کا عمران خان کے حوالے سے زائچہ بھی شائع کیا گیا تھا کہ اس کے ہاتھ کی لکیریں امام خمینی سے گہری مشابہت رکھتی ہیں۔

وہ برسراقتدار آ کر پاکستان کو کرپٹ مافیا سے پاک کر دے گا۔ اس وقت ”صحافت“ کے ایڈیٹر عہدساز صحافی سید عباس اطہر تھے جنہوں نے عمران خان کے سیاست میں آنے پر سرخی جمائی ”کپتان میدان میں آ گیا“۔ اس روز اخبار معمول سے تین گنا فروخت ہوا۔ اوپر تلے اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے تھے۔ اس وقت میں ”صحافت“ سے ہی منسلک تھا۔ ضیاشاہد کی کتاب ”سچا اور کھرا لیڈر“ پر تبصرہ پھر کبھی‘ اس وقت عمران خان‘ حسن نثار اور ضیاشاہد کے بارے کچھ بیان ہوجائے۔

ان تینوں شخصیات میںکئی قدریں مشترک ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ یہ اپنے دھن کے پکے اور من کے سچے ہیں۔ یہ اپنی کسی بھی ناکامی پر ہمت نہیں ہارتے بلکہ وقتی ناکامی کے بعد نئے جذبوں اور نئی نئی توانائیوں سے لیس ہوکر اپنی منزل کی جانب دوبارہ رواں دواں ہوجاتے ہیں۔ شروع میں عمران خان پر کرکٹر بننے کا جنون سوار ہوا تو بیگانوں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی مذاق اڑایا…. شوکت خانم ہسپتال بنانے کی ٹھانی تو یاروں اور دلداروںنے پھبتیاں کسیں…. نمل یونیورسٹی بنانے کا سوچا تو اسے بھی دیوانے کی بڑ قرار دیا…. نمل یونیورسٹی سے پہلے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو اس پر بھی کافی لے دے ہوئی…. مگر عمران خان ہمت‘ حوصلہ اور لگن سے اپنے اہداف کی جانب گامزن رہا۔ وہ نہ صرف صف اول کے کرکٹر بنے بلکہ اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے دنیا کے سب سے بڑے آل راﺅنڈر کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ پاکستان کو ورلڈ کپ کے تحفہ سے بھی نوازا۔

پھر شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کرکے ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا۔ اسی طرح نمل یونیورسٹی بھی بڑی شان سے تعمیر کی اور اب ان کی جہد مسلسل سے ان کی تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ اسی طرح حسن نثار یونیورسٹی کی تعمیر کے حصول کے لئے آبائی شہر لائل پور (فیصل آباد) سے لاہور آئے تو کسی معاملہ پر ابا حضور سے ان بن ہوگئی۔

والد محترم کی غالباً خواہش تھی کہ ان کا بیٹا سول سروس میں جائے مگر وہ کسی اور سفر کے راہی تھے۔ والد صاحب کی نافرمانی پر یونیورسٹی اخراجات اور جیب خرج بند ہوا تو اتھرے سپوت نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ماڈل ٹاﺅن چوک میں دہی بھلے کی ریڑھی لگا لی۔ اس دوران اپنی محبوبہ شاعری سے یاری اور دلداری بھی جاری رکھی۔

ادیبوں اور شاعروں کے گڑھ پاک ٹی ہاﺅس سے سرور سکھیرا نے اُچک کر اپنے شہرہ¿ آفاق جریدہ ”دھنک“ کا ایڈیٹر بنا ڈالا‘ ”دھنک“ کے بعد مولوی محمد سعید اظہر کے ساتھ ماہنامہ ”زنجیر“ میں بندھ کر کئی معرکہ آرائیاں کیں۔ میگزین صحافت میں نام اور مقام بنانے کے بعد اخباری دنیا میں جگمگانے کی ٹھانی تو پہلا انتخاب اکبرعلی بھٹی (مرحوم) کا اخبار ”پاکستان“ ٹھہرا۔ یہ اس وقت ملک کا پاپولر ترین اخبار تھا اور اس کے ایڈیٹر‘ چیف ضیاشاہد تھے جبکہ ایڈیٹوریل ایڈیٹر حمید جہلمی (مرحوم) تھے۔ حسن بھائی نے ایک دوست کی وساطت سے اس اخبار میں اشاعت کیلئے اپنا پہلا کالم بھجوایا‘ جسے جہلمی صاحب نے بکواس قرار دیتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ انہوں نے مزید دو تین کالم بھجوائے جن کا حشر بھی پہلے کالم جیساہی ہوا۔ جس پر حسن نثار…. حمید جہلمی کو حمید جہنمی کا نام دے کر وقتی طور پر کالم نویسی سے تائب ہوگئے۔

اسی دوران ضیاءالحق کی حادثاتی موت کے بعد روزنامہ ”مساوات“ کا دوبارہ اجرا ہوا تو حسن صاحب کے دیرینہ خیرخواہ سرور سکھیرا صاحب اس اخبار کے چیف ایگزیکٹو بنا دیئے گئے۔ قبل ازیں وہ محترمہ بینظیر بھٹو (شہید) کے سپیچ رائٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ ”مساوات“ سے حسن نثار کے کالموں کا آغاز ہوا‘ پھر کچھ عرصہ بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں ”مساوات“ کا ایڈیٹر بنا دیا۔ اس کے بعد ”پاکستان کے کامیاب صحافی“ ضیاشاہد نے ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی علیحدہ دنیا بسانے کا عزم کیا تو حسن نثار ان کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ جہاں ان کا جوہر مزید نکھرا اور وہ ملک کے پاپولر کالم کار بن گئے۔

اسی طرح جناب ضیا شاہد کی والدہ محترمہ اپنے صاحبزادے کو عالم دین بنانا چاہتی تھیں مگر وہ فلمی رائٹر بننا چاہتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں وہ اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے پینٹری بھی کیا کرتے تھے۔ ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے وہ صحافت کی دنیا میں چلے آئے‘ ابتدا میں روزنامہ ”تسنیم“، ہفت روزہ ”اقدام“، روزنامہ ”کوہستان“، روزنامہ ”حالات“ اور دیگر اخبارات و جرائد سے منسلک رہے۔

پھر ”اردو ڈائجسٹ“ میں ڈپٹی ایڈیٹر، ”نوائے وقت“ لاہور میں میگزین ایڈیٹر‘ ”نوائے وقت کراچی میں ریذیڈنٹ ایڈیٹر‘ روزنامہ ”جنگ“ میں ڈپٹی ایڈیٹر‘ جوائنٹ ایڈیٹر اور پھر روزنامہ ”پاکستان“ میں چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاںسر انجام دیں۔ اسی دوران بھریا میلہ چھوڑا اور ”خبریں“ کے نام سے اپنے اخبار کا آغاز کر دیا۔ ابتدا میں کافی مشکلات کا سامنا کیا۔ کبھی کاغذ نہ ہوتا اور کبھی سیاہی نہ ہوتی‘ اخبار کی اشاعت کیلئے یہ دونوں لوازمات ہوتے تو پلیٹس غائب…. جس پر بیٹے عدنان شاہد (مرحوم) ‘امتنان شاہد‘ بیٹی نوشین عمران اور اہلیہ بھابی یاسمین شاہد سمیت دیگر عزیز و اقارب کی جمع پونجی سے کام چلایا جاتا۔

کئی بار محترمہ یاسمین شاہد اور بیٹی کے زیورات بکے‘ مشکل اور امتحان کے اس وقت میں ضیا صاحب کے کچھ دوستوں اور سٹاف ممبران نے بھی ان کا ہرپل ساتھ دیا۔ اب ان کی امنگوں‘ کوششوں اور حوصلوں سے ”خبریں“ پھل پھول کر ایک تن آور درخت بن چکا ہے جس کی چھاﺅں سے ہزاروں افراد فیض یاب ہو رہے ہیں۔ یہ لاہور‘ اسلام آباد‘ ملتان‘ کراچی‘ حیدرآباد‘ سکھر‘ مظفرآباد (آزاد کشمیر) سے شائع ہونے والا ملک کا صفحہ اول کا اخبار ہے۔

اس ادارہ کا چینل ۵ بھی اپنی علیحدہ پہچان بنا چکا ہے۔ عمران خان کی بپتا‘ حسن نثار کی کتھا اور ضیاشاہد کی رام کہانی کسی دیوملائی داستان سے کم نہیں ہے۔ ان تینوں شخصیات نے اپنے اہداف پانے کیلئے جو جدوجہد کی ‘ اس کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سچی محنت‘ اور اجلی لگن کبھی     رائیگاں نہیں جاتی‘ جذبے صادق ہوں تو کامیابیاں اور کامرانیاں آپ کے قدم ضرور چومتی ہیں

تحر یر: ریاض صحافی

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here