دیوانے کا خواب

AGHA WAQAR AHMED

دیوانے کا خواب

گزشتہ رات جب کائنات کے افراد اور چرند پرند سو رہے تھے سارے دن کی تھکاوٹ کے بعد خوابِ خرگوش میں ہونا ایک کائناتی کی حقیقیت  ہے اسی درمیان مجھے دو کام کرنے تھے ایک اپنے پیارے دوست ایوب خاور کی آنے والی نئی کتاب شاعری کے مجموعہ جس کا نام محبت کی کتاب ہے اس کو پڑھنا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مشرف دور میں شریف خاندان کیساتھ  ہونے والے خفیہ معاہدے کی تفصیلات پر کچھ نکات کو سمجھنا تھا۔

مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے نیند کی دیوی اپنی خبصورت انگلیاں میرے بالوں میں پھیر رہی ہیں اور نہ جانے کس لمحہ میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ میں خواب دیکھتا ہوں کہ ملک کے سیاسی حالات تبدیل ہورہے ہیں اور سیاسی کارکن اپنے اپنے لیڈر کے حق میں دلیل دے رہے ہیں مگر یہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

نواز شریف پاکستان میں موجود اپنی تمام جائیدادیں اور بیرون ملک اثاثے حکومت کے حوالے کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ 1000 ارب روپے نقدی جو کہ غیر ملکی کرنسی میں ہوگی حکومتی اکاونٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس کے بدلے میں نواز شریف سیاست سے ریٹائرمنٹ کااعلان کریں گے اور لندن روانہ ہو جائیں گے۔ مریم نواز 7 سال کے لیے ملکی سیاست میں حصہ نہیں لیں گی ۔ حسن اور حسین نواز غیرملکی شہریوں کی طرح پاکستان آ جا سکیں گے لیکن سیاست میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ مریم نواز عارضی طور پر اپنے والد کے ساتھ لندن شفٹ ہونے کا پروگرام بنا چکی ہیں۔ اس معاہدے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی اہم شخصیت نے بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے عمران خان کو منایا۔ عمران خان بضد ہیں کہ نوازشریف پی ٹی وی پر قوم سے معافی مانگیں اور اس معاہدے کا اعلان کریں تاہم نوازشریف کم از کم 3 سال اس معاہدے کو خفیہ رکھنے پر اڑے ہوئے ہیں۔ ادھر اس معاہدے کے روح رواں شہباز شریف لندن میں اس رقم کے بندوبست کے لیے موجود ہیں وہ وہاں اپنے پرانے ملکی و غیرملکی دوستوں کے ساتھ مل کر 1000 ارب روپے کے بندوبست میں مصروف ہیں۔ نواز شریف کے معاہدے کے بعد شہبازشریف کے ساتھ الگ معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔

اس معاہدہ کرانے میں ملکی افراد کے ساتھ ساتھ غیر ملکی لوگ بھی شامل ہیں جو نوازشریف کو پہلے بھی ریلیف دلانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ نواز شریف اور اس کی ٹیم اسی مبینہ معاہدے کی وجہ سے مکمل خاموش ہیں۔ پاکستان میں تو لوگ ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ دیکھتے رہیئے پی ٹی وی جبکہ پی ٹی آئی کو چڑانے والے کہتے ہیں روک سکو تو روک لو میاں اساڈا لندن جاوے ای جاوے ڈیل یا معاہدہ ڈھیل یا دلیل یا وہی پرانا وکیل یا نئی نکیل اس کا فیصلہ بجٹ کے بعد ہو ہی جائے گا۔ مگر قومی اسمبلی کی اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارات پر رانا تنویر بیٹھے کیا کر رہے ہیں اور لیڈر آف اپوزیشن کی نشست پر میاں شہباز شریف کی بجائے خواجہ آصف براجمان ہیں اور قومی اسمبلی میں شوروغل میں ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے کہ بھاگ گئے بھاگ گئے چور ملک سے بھاگے گئے۔ عمران خان نے چوروں کو کیوں بھاگنے دیا ابھی تو مالِ مسکورۃ برآمد کرنا باقی تھا۔ عمران خان تم بھی چوروں کیساتھ ملے ہوئے ہو اسی شوروغل کے درمیان فجر کی اذان اور نماز کے لیے لگائے گئے الارم سے میری نیند کھل گئی اور میں خود سب کچھ جو میں نے محسوس کیا تھا تحریر کرنے بیٹھ گیا اسی دورانیے میں میری بیگم صاحبہ وضو کر کے جائے نماز پر کھڑی ہونے لگی تو میں نے اس سے درخواست کی کہ خدا کی بندی نماز کے بعد اپنے ملک کی سالمیت کے لئے دعا کرنا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here