یہ کالم 17 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ خودکش حملے اور میاں جی

AGHA WAQAR AHMED

خودکش حملے اور میاں جی

(یہ کالم 17 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

خود کش حملہ آور کی اصطلاح پاکستان میں جنرل پرویزمشرف کے دور میں روشناس و ایجاد ہوئی۔ 11اکتوبر1998 کو وزیر اعظم ہاؤس میں ایک غیر رسمی کیبنٹ کا اجلاس ہوا۔جس میں طے پایا کہ جنرل پرویزمشرف کی واپسی سے پہلے پاکستان میں نیا چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کر دیا جائے گا۔بیشتر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ کارگل واقعہ میں چیف آف دی آرمی سٹاف کا پرائم منسٹر کو حقائق سے دور رکھنا تھا ۔

تمام بنیادی و ضروری کام انتہائی عجلت میں کئے گئے۔اور جنرل ضیاءالدین بٹ کو اس عہدے کے لئے منتخب کر لیا گیا مگر لاہور میں پرورش پانے والے میاں برادران کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ اس طرح خفیہ طریقے سے چیف آف دی آرمی سٹاف کی تبدیلی کا فیصلہ ایک خودکش حملے سے کم نہیں۔ محلاتی سازشیں اور مخبریاں کوئی نئی بات نہیں اس طرح یہ بات پرائم منسٹر ہاؤس سے نکل کر راولپنڈی تک پہنچ گئی۔12تاریخ کی صبح 11بجے پرائم منسٹر ہاؤس میں اپنے فیصلے پر عمل کی تیاریاں زوروں پر تھیں اور انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ پل پل کی خبر راولپنڈی تک پہنچ رہی ہے اور جہاں سے ایک اہم ادارے کے افراد پاکستان کے چیف آف دی آرمی سٹاف سے لمحہ بہ لمحہ رابطے میں تھے ۔اور ضروری اقدامات کرنے کے لئے پل پل کی خبر دے کر ہدایات حاصل کر رہے تھے ۔

افسوس! کہ میاں برادران اس خوش فہمی میں تھے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا علم کسی اور کو نہیں ۔شام پانچ بجے میاں برادران کے منتخب شدہ جنرل ضیاءالدین بٹ کو میڈل لگانے اور اس خبر کی کوریج کے ساتھ ساتھ اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا خطاب براہ راست نشر کرنے کے لئے ریڈیو پاکستان اور PTVکارپوریشن کے کیمرے اور ریکارڈر مکمل ایکشن کی حالت میں اور انتہائی تجربہ کار ٹیکنیشنز کی زیر ِ نگرانی ریکارڈنگ کرنے کو تیار کھڑے تھے۔

راولپنڈی سے جب یہ اطلاح اس وقت کے چیف آف دی آرمی سٹاف کو طیارے میں بیٹھے ہوئے ملی تو وہ انتہائی اطمینان سے اس کو سننے کے بعد طیارے کے پائیلٹ کے زریعئے پاکستان کی سرزمین پر اپنے وفا دار جرنیلوں سے رابطے میں تھے۔

اچانک جب پائیلٹ کو کنٹرول ٹاور سے پیغام ملا کہ پاکستان میں کوئی بھی ائیرپورٹ طیارے کی لینڈنگ کی اجازت نہیں دے رہا اور کنٹرول ٹاور سے حکم ملا کہ طیارے کا رخ واپس ہندوستان کی طرف موڑ دیا جائے۔

یہ وہ پہلاخودکش دھماکہ تھا جو میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے کیا۔اور اس کا انجام تمام قوم جانتی ہے۔اس کے بعد میاں محمد نواز شریف صاحب نے جنرل پرویز مشرف اور سعودی شہزادوں کے ساتھ مل کر 10سال کے لئے پناہ مانگی ایک معاہدے کے بعد میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کو سعودی عرب میں جانے کی اجازت مل گئی۔وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنی ساری زندگی میں کبھی قید و بند کی صعوبتیں اور تکالیف نہیں دیکھی تھیں اس لئے ”طیارہ سازش کیس“میں سزا پانے کے بعد جلد ہی گھبرا گئے اور انہوں نے دس سال کا معاہدہ کر کے سیاست کو خدا حافظ کہا اور اپنے خاندان کے ہمراہ ہنسی خوشی طیارے میں بیٹھ گئے۔اس طیارے میں ان کے خاندان کے افراد کے علاہ ان کے پسندیدہ  باورچی بھی تھے اور بے شمار صندوق جن میں کیا تھا کسی کو معلوم نہیں ۔اپنا سفر سعودی عرب کی طرف شروع کیا ۔جبکہ اس دس سالہ معاہدے سے اپنی قوم ا ور اپنے وفا دار کارکنوں کے ساتھ مسلسل اس معاہدے سے انکاری رہے یہ ان کادوسرا خود کش حملہ تھا۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ سعودی گورنمنٹ نے اپنے شہزادے کو پاکستان بھیجا جس نے نہ صرف دس سالہ معاہدے کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا بلکہ اس معاہدے کی کاپیاں پریس نمائندگان کو تقسیم کی گئیں اس پریس کانفرنس کو PTVاور باقی کے چینلز نے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔

اس معاہدے کے منظر عام آنے پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بہت شور مچایااور کہا کہ اس معاہدے پر میرے دستخط نہیں ۔مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ معاہدہ ہوا تھا اور اس کو کارکنوں کے سامنے تسلیم نہیں کیا گیا۔

جانثار کارکن قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اور کچھ ایسے کارکن بھی تھے جن کو یہ دکھ تھا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ان کے ساتھ ایفائے عہد نہیں کیا اور اس دکھ و جذبات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب سرکار پاکستان کے وعدہ معاف گواہ بن گئے ۔اور کچھ جذباتی نوجوان تھے جنہوں نے بنیادی طور پر مارشل لاءکو تسلیم نہیں کیا اور پارلیمانی نظام ِ حکومت کے قائل تھے انہوں نے جیلیں کاٹیں جن کی زندہ مثال جناب جاوید ہاشمی صاحب ہیں۔

دو خوکش حملوں کا ذکر تو میں نے کر دیااور اب میں محسوس کر رہا ہوں کہ میاں برادران تیسرا خودکش حملہ کرنے جا رہے ہیں جس کا اندازہ میرے ساتھ ساتھ پاکستان مین اہل قلم افراد کو ہو چکا ہے۔پاکستان کسی بھی حالت میں غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی نظام برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا مگر اہم نقطہ یہ ہے کہ میاں برادران کی سا بقہ سیاسی دانش مندی کو دیکھتے ہوئے انہی کی جماعت کے 40,50فیصدقومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے دوسری جماعتوں سے رابطے کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔اور چند ایک انتہائی قریبی افراد  میں شمولیت کر چکے ہیں ۔ PTI

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو عدلیہ سے الجھنے کے بجائے وہ وقت اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو متحد اور مضبوط کرنے میں خرچ کرنا چاہیے ۔اپنے آپ کو سٹیپ ڈاؤن کر کے اسی اسمبلی کے اندر اختیارات اپنی ہی پارٹی سے کسی کو منتخب کر کے اس کے ہاتھوں منتقل کر دینے چاہییں ۔اور 2018 میں ہونے والے انتخابات کی تیاری کرنی چاہیے۔ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ میاں صاحب کی ضد کہیں وہ وقت نہ لے آئے کہ اسمبلی کی بساکھ لپیٹ دی جائے ۔ یہ وہ خودکش حملہ ہو گا کہ جس سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کو بلکہ پوری پاکستانی قوم کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ جو سوالات عدلیہ نے کئے وہ بھی معنی طلب ہیں اور یہ بھی احساس ہو گیا ہے کہ اس قدر اہم عہدہ پر فائزہونے کے باوجود بھی میاں نواز شریف صاحب نے عدالت اعظمیٰ سے دانستہ طور پر حقائق چھپا کر رکھے اور مکمل سچ عدالت میں بیان نہیں کیااور دکھ کی بات یہ ہے کہ انتہائی ڈھٹائی سے فرماتے ہیں کہ ”اسمبلی میں کی ہوئی تقریر سیاسی تھی“ کیا سیاست دان جھوٹ بول کر عوام کو بے و قوف بناتے رہیں گے؟ یہ قابل شرم بات ہے کیونکہ عوام ہی کے ووٹ سے وہ ایوانوں میں پہنچے اور خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ سیاسی تقاریر جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہیں سوال یہ ہے کہ عوام کو بے وقوف کیوں بنایا جاتا ہے؟

وہ وقت کب آئے گا کہ عوام جھوٹ بولنے والوں کو سبق سیکھائیں گے اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے۔وہ وقت عوام کے سامنے لائے گا کون؟؟َ؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here