برطانیہ میں کامیاب آپریشن، بچی کا دل جسم میں منتقل

Successful operation in the UK, the child heart transit to the body
Successful operation in the UK, the child heart transit to the body

:لندن

برطانیہ میں ایک نومولود بچی کی کامیاب سرجری کے بعد سینے کے اوپر دھڑکنے والا دل اس کے جسم کے اندر لگا دیا گیا۔

دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق بچی کا دل پیدائشی طور پر اس کے جسم سے باہر تھا، ڈاکٹرز نے نومولود بچی کے والدین کو خبردار کردیا تھا کہ اس کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہوں گے۔

تاہم ڈین ولکنز اور ان کی اہلیہ ناؤمی فنڈلے نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی وینلوپ کی زندگی کے لیے ہار نہیں مانیں گے اور اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

وینلوپ کی دل کی پہلی سرجری کا دورانیہ 50 منٹ تھا، جو کامیاب رہی جس کے بعد اس کے بچنے کے امکانات ایک کرشمے کی طرح بڑھ گئے اور والدین کی امیدیں بَر آئیں۔

Vanellope Wilkins undergoes corrective surgery
Vanellope Wilkins undergoes corrective surgery

بچی کے والد کے مطابق سرجری کے بعد وہ خود سانس لینا بھول گئے تھے لیکن جیسے ہی بچی نے پہلی مرتبہ سانس لی اور وہ روئی تو ان کی سانسیں بھی بحال ہوگئیں اور وہ بھی خوشی کے مارے رونے لگے۔ڈین کا کہنا تھا کہ ‘ان کی بچی کی سانسیں واپس آنا کسی کرشمے سے کم نہیں تھا’۔

بچی کا دل جسم میں واپس لگانے کی یہ سرجری برطانیہ کی پہلی کامیاب سرجری سمجھی جارہی ہے،کیونکہ اس سے پہلے ایسے کیسز میں نومولود تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائے ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ایک کرشمہ ہی ہے کیونکہ سرجری کے دوران 50 سے زائد ادویات کا استعمال کیا گیا اور ساتھ ہی دل میں سانس کی نالی بھی 50 منٹ تک لگی رہی۔

Baby girl survives with heart outside her body at birth, in UK first
Baby girl survives with heart outside her body at birth, in UK first

نومولود بچی کی والدہ ناؤمی نے اپنی بچی کا نام ڈزنی فلم ’ریک اٹ رالف‘ کے ایک کردار سے متاثر ہوکر وینلوپ رکھا ہے کیونکہ وہ ایک باہمت اور ضدی لڑکی تھی جو آخر میں شہزادی ہی بن کر رہتی ہے اور کبھی ہار نہیں مانتی۔

ناؤمی کا کہنا تھا، ‘پیدائش سے قبل جب ٹیسٹ کیے گئے تو مجھے کافی رونا آیا، ڈاکٹرز نے حمل کو ضائع کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن میرا دل نہیں مانا اور میں نے اپنی بیٹی کی زندگی کی سانسوں کے لیے لڑنے کی ٹھان لی’۔

ناؤمی کا مزید کہنا تھا کہ ‘کبھی بھی نا امید نہیں ہونا چاہیے، میں اور میری بیٹی سب کے لیے ایک مثال ہیں’۔

دوسری جانب کنسلٹنٹ ڈاکٹر نک مورے کا کہنا تھاکہ ‘وینلوپ کی سرجری حیران کن ہے اور اب وہ اپنی زندگی آگے جی سکتی ہے’۔

ڈاکٹروں کے مطابق وینلوپ اب عام بچوں کی طرح صحت پکڑ رہی ہے اور اس کے وزن میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here