آئی پی ایل میچ کے دوران ہنگامہ آرائی، کھلاڑیوں پر جوتے بھی پھینکے گئے

Spectators throw shoes near players during IPL match in Chennai
Spectators throw shoes near players during IPL match in Chennai

:چنئی

انڈین پریمیئر لیگ کے میچ کے دوران چنئی میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے اور باؤنڈری کے قریب کھڑے کھلاڑیوں پر جوتے بھی پھینکے گئے۔

بھارت میں آئی پی ایل کے آغاز کو ابھی صرف تین ہی روز گزرے ہیں اور آج چنئی سپر کنگز اور کولکتہ نائٹ رائڈرز کے میچ کے دوران شدید بد نظمی دیکھنے میں آئی۔

تقریباً تین سال بعد چنئی سپر کنگز کی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ ایم اے چدم برم اسٹیڈیم میں پہلا میچ کھیل رہی تھی لیکن میچ کے آٹھویں اوور میں تماشائیوں کی جانب سے باؤنڈری کے قریب کھڑے چنئی کے کھلاڑیوں رویندرا جڈیجہ اور فاف ڈوپلیسس پر جوتے پھینکنے کا شرمناک واقعہ پیش آیا۔

Shoes were flung near Ravindra Jadeja and Faf du Plessis
Shoes were flung near Ravindra Jadeja and Faf du Plessis

واقعے کے بعد پولیس اور گراؤنڈ انتظامیہ نے کھلاڑیوں پر جوتے پھینکنے والے مشتبہ تماشائیوں کو گراؤنڈ سے باہر نکال دیا اور بھارتی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان تماشائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ میچ کے آغاز سے قبل بھی ہزاروں کی تعداد میں افراد نے گراؤنڈ کے باہر چنئی کو دریائی پانی کی فراہمی کے لیے مظاہرہ کیا اور اس دوران پولیس سے مظاہرین کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ چنئی کو دریائی پانی کی فراہمی تک ایم اے چدم برم اسٹیڈیم میں ہونے والے آئی پی ایل کے تمام میچز منسوخ کئے جائیں۔

Police detain activists who were staging an anti-IPL protest outside MA Chidambaram stadium in Chennai on Tuesday. Photo: Press Trust of India
Police detain activists who were staging an anti-IPL protest outside MA Chidambaram stadium in Chennai on Tuesday. Photo: Press Trust of India

مظاہرین کو احتجاج سے روکنے کے لیے 4000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود چنئی کے عوام نے پانی کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا۔

گراؤنڈ کے باہر مظاہرے کی وجہ سے اسٹیڈیم کے اطراف شدید ٹریفک جام ہو گیا اور میچ آفیشلز کے تاخیر سے اسٹیڈیم پہنچنے کے باعث میچ بھی تاخیر سے شروع کرنا پڑا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here