دنیا کا طاقتور ترین راکٹ پہلے خلائی مشن پر روانہ

SpaceX launches Falcon Heavy, the world's most powerful rocket
SpaceX launches Falcon Heavy, the world's most powerful rocket

:واشنگٹن

دنیا کا طاقتور ترین راکٹ ’’فالکن ہیوی‘‘ اپنے پہلے خلائی مشن پر روانہ ہوگیا، راکٹ کو فلوریڈا میں اسی جگہ سے روانہ کیا گیا جہاں سے دنیا کے پہلے انسان نے چاند کا سفر شروع کیا تھا۔

فالکن ہیوی کے خلائی مشن کا مقصد انسانوں کو سیارہ مریخ تک لے جانا ہے۔

امریکی کمپنی اسپیس ایکس نے فالکن ہیوی نامی خلائی راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلائی سفر پر روانہ کیا۔

یہ راکٹ حجم میں بھی بڑا ہے اور اسے اب تک کا سب سے طاقتور قرار دیا جا رہا ہے۔

اسپیس ایکس کے سربراہ ایلن مسک نے کہا ہے کہ نئے راکٹ کی پہلی پرواز کی کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔

فالکن ہیوی اس وقت دستیاب خلائی گاڑیوں میں سے سب سے زیادہ باصلاحیت ہے، اس راکٹ کا ڈیزائن ایسا ہے کہ یہ زمین کے مدار میں 64 ٹن وزنی سامان لے کر جا سکتا ہے یعنی یہ خلاء میں لندن کی5 ڈبل ڈیکر بسوں کے ساتھ پرواز کر سکتا ہے۔

ایلن مسک کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے دوسرے طاقتور ترین راکٹ ڈیلٹا فور ہیوی سے دگنی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں اس پر خرچہ ایک تہائی آیا ہے۔

Falcon Heavy successfully reached with the car and sitting statue delivered to orbit Earth - AFP
Falcon Heavy successfully reached with the car and sitting statue delivered to orbit Earth – AFP

انہوں نے بتایا کہ اس مشن کا مقصد ٹیسلا کار اور اس میں بیٹھے مجسمے کو مریخ کے مدار میں پہنچانا ہے۔

اس پہلے تجرباتی مشن کو لاحق خطرات کے پیش نظر مسک نے بہت کم وزن بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ان کی سرخ ٹیسلا اسپورٹس کار بھی شامل ہے۔

پہلے مرحلے میں اس راکٹ نے اپنے ساتھ موجود کار اور اس میں بیٹھے مجسمے کو زمین کے مدار تک پہنچادیا ہے۔

فالکن ہیوی میں اسپیس ایکس کے9فالکن گاڑیوں میں سے 3 کو ایک ساتھ باندھا گیا تھا، لانچ کے بعد راکٹ کا نچلا حصہ کنٹرولڈ انداز میں زمین پر لوٹ آیا ہے، دوسرے دو فلوریڈا کے ساحل پر کینیڈی کے جنوب میں ٹچ ڈاؤن زون میں واپس آئے ہیں جبکہ تیسرے بوسٹر کو سمندر میں سیکڑوں کلومیٹر کے فاصلے پر نصب ڈرون شپ اسٹیشن پر اترنا تھا۔

لانچ کے دوران ڈرون شپ سے ویڈیو سگنل منقطع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے تیسرے بوسٹر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here