شیخ رشید کی انجمن اور ریما کےساتھ رنگین راتیں – پارٹ 1

Sheikh Rasheed sex scandal with Anjuman and actress Reema
Sheikh Rasheed sex scandal with Anjuman and actress Reema

قیام پاکستان سے اب تک کسی وزیر  یا سیاسی رہنما کے اتنے جنسی اسکینڈل نہیں  بنے جس قدر شیخ رشید احمد کے بنے ہیں ان کا نعرہ ہے کہ ” پہلے گناہ کرو تا کہ بعد میں توبہ کر سکو ” فلمی اداکاراؤں سے لیکر عام لڑکیوں تک  ہر جگہ شیخ رشید احمد کا نام سنائی دیتا ہے۔خاص طور پر نواز شریف کے پہلے دو اقتدار میں  جب ان کے پاس وزارت ثقافت تھی تو  اس وقت گویا ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں تھا۔

اداکارہ انجمن کو شیخ رشیدنے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ۔ اس دعوت کے ساتھ انہیں یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ انہیں ” نیف ڈک ایوارڈ” دیا جا رہا ہے ۔ اداکارہ انجمن اپنے خاوند مبین اور  بچوں کے ہمراہ  وفاقی دارلحکومت پہنچ جاتی ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت میں  شیخ رشید ایک وفاقی وزیر کی حیثیت سے  رات گیارہ بجے انہیں چائے کی دعوت دیتے ہیں  اور ساتھ ہی یہ کہ وہ اکیلی آئیں گی۔ انجمن  نے معذرت کر لی کہ وہ اپنے ایک عدد خاوند مبین اور بچوں کو  چھوڑ کر اکیلی نہیں آ سکتی ہیں ۔شیخ رشید نے انجمن کی اس اداکارانہ معذرت کا برا بنایا ۔ رات کو لال حویلی میں ” جام چلتے رہے دل اچھلتے رہے”  ولا معاملہ ہو گیا لیکن” محفل پر رنگ شباب نہیں آیا”  انجمن کے بقول جوں جوں وفاقی وزیر نشے میں پاگل ہوتے رہے  ٹیلیفون کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا ۔ حتیٰ کہ “لال حویلی “سے ہوٹل میں پڑی ہوئی انجمن کو  اس قدر فون کئے گئے کہ وہ رات بھر سو نہیں سکی  ۔ تنگ آ کر شیخ رشید نے ریما سے رابطہ کیا  اور  موٹے گوشت کے بجائے چھوٹے گوشت پر قناعت کی  اداکارہ ریما نے “لال حویلی “کی رات کو  حسین بنا کر سرکاری ایوارڈ حاصل کر لیا  ۔ اداکارہ انجمن محروم رہ گئیں ۔ ایوارڈ سے محرومی کے بعد  انجمن نے کسی کو یہ تو نہیں بتایا کہ   ریما اپنے حسن   و جمال سے پردہ اٹھا کر  وفاقی وزیر کے حکم پر  ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں  ۔ انجمن نے اتنا ضرور بتایا کہ انہیں ایوارڈ صرف اس لئے نہیں دیا گیا  کہ وہ وفاقی  وزیر کی دعوت پر اکیلی چائے پینے کے لئے نہیں گئیں تھیں۔

اس واقع میں اداکارہ ریما  کا ذکر آیا ہے  ۔ شیخ رشید احمد کی وزارت کے دوران   ریما اور شیخ رشید ایک ہی نام کے طور پر پکارے جاتے تھے ۔ اسی ایوارڈ کی تقریب میں جب شیخ رشید نے ریما کو ایوارڈ وصول کرنے  کے لئے سٹیج پر بلایا تو سازندوں نے   شادی کا ساز بجانا شروع کر دیا  ۔ جس پر میزبان دلدار پرویز بھٹی مرحوم نے کہا  جناب اس کو مائنڈ نہ کریں یہ سازندے بھی ایجنسیوں کے کارندے ہیں  ۔ حتیٰ کہ ریما نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا  کہ ایک وفاقی وزیر نے  1991 میں  مجھے شادی کی آفر کی تھی  ۔ مگر بات آگے نہ بڑھ سکی   اس واقع کے ایک چشم دید گواہ بتاتے ہیں کہ  ۔۔۔۔

شیخ رشید نے ریما کی ماں کو ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ انہیں اپنی فرزندی میں قبول کر لیں  ۔ لیکن ریما کی ماں نے یہ کہ کر ٹال دیا کہ  جب ریما کے ساتھ تم باقاعدہ  اپنا ”  کام “ کر لیتے ہو تو پھر شادی کی کیا ضرورت ہے ؟ اس پر شیخ رشید مطمئن ہو گئے۔

……ابھی جاری ہے

(ماخذ : پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here