فریال گوہر کو دیکھتے ہی شیخ رشید کی رال ٹپکنے لگی – پارٹ 2

Sheikh Rasheed scandal with Faryal Gohar
Sheikh Rasheed scandal with Faryal Gohar

ریما جیسی صورت حال  ایک اور داکارہ کو بھی در پیش تھی اس کی چونکہ شادی ہو چکی ہے اور وہ ایک بیٹے کی ماں بھی بن چکی ہے اس لئے اس کا نام ہیں نہیں دیا جا رہا ذمہ دار ذرائع کے مطابق وہ ایک ابھرتی ہوئی خوبرو اداکار پر بہت فریفتہ تھے  اور اسے اس حد تک چاہتے تھے کہ اس کی  بھی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر بھی  یہ التجا کر چکے ہیں کہ وہ ان کو باقائدہ طور پر اپنی ” فرزندی” میں لے لیں ۔ اس اداکارہ کے بارے میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ  وہ بالعموم  ایک رات کے “25” ہزار  لے کر رات بھر اپنے “فن کا مظاہرہ” کرنے کے لئے تیار  ہو جاتی تھی اور اکثر سیاستدان اس کے قرب سے فیض حاصل کرتے تھے  یہ تمام حقائق جانتے ہوئے بھی  وفاقی وزیر بہت سنجیدہ تھے  اور اس خوبرو اداکار سے اس قدر متاثر تھے کہ اکثر ان کو اپنی تنہائی دور کرنے کے لئے کبھی اسلام آباد اور کبھی  مری لے جاتے تھے اور ہفتوں کے حساب سے اس کے قرب کی قیمت بھی ادا کرتے رہے ہیں خصوصی ذرائع نے بتایا ہے کہ  ہفتہ بھر کے لئے ” شوٹنگ ” کی بکنگ کے لئے اداکارہ اپنا ری  “10” ہزار ڈیلی کر دیتی تھی ۔ لیکن وفاقی وزیر اس پر اس قدر مہربان تھے  کہ اس کا معاوضہ  ادا کرنے کے علاوہ  شاپنگ کے لئے بھی  “20،25” ہزار  دیتے رہے ہیں ۔ اور ہر مہینے  یہ  اداکارہ وزیر موصوف  کی تنہائی دور کرنے کے لئے  ہفتہ دس دن اسلام آباد  اور مری کے پر فضا مقامات  پر گزارتی رہی ہیں ۔

 ایس۔ٹی۔این پر چلنے والے  ایک ڈرامہ سیریل  میں طوائف کا کرادار  ادا کرنے والی  اداکارہ فریال گوہر  نے اپنی اداکاری  ، تیکھے نقوش  اور سروقد  کی وجہ سے شہرت حاصل کی  تو شیخ رشید کی رال ٹپکنے لگی ۔ موصوف نے فریال گوہر  کو بھی دعوت  عیش و نشاط دے ڈالی  ۔ فریال گوہر  بھی  آزاد  عورت  ہے لیکن  اس نے شیخ  رشید  کے بستر کی  زینت بننے سے انکار کر دیا ۔ اس انکار کے نتیجے میں  اس کی اپنے  خاوند جمال شاہ سے  علیحدگی ہو گئی  ۔ فریال گوہر انقلابی نظریات رکھتی  ہے۔ جبکہ جمال شاہ اسے  شیخ  رشید  کے کمرے تک پہنچا کر  اپنے مفادات حاصل  کرنا  چاہتا تھا  ۔ شیخ رشید فریال گوہر کی اداؤں پر مرتے تھے  ۔ انہوں نے شہباز شریف  کے ذرئعے جمال شاہ کو لاکھوں کی پیش کش کی  لیکن جمال شاہ ان کے شوہر ہوتے ہوئے بھی  انہیں  رام کرنے میں ناکام رہے  ۔ بعد ازاں  شیخ رشید نے اپنے اثر و رسوخ  اور تجربات  سے اس کے تمام انقلابی نظریات جلا دئیے ۔ پھر فریال گوہر کو اکثر شیخ رشید کے ساتھ دیکھا گیا۔

فریال گوہر شاید واحد شخصیت ہے جس کو جب بھی کسی انٹر ویو کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ایک چبھنے  والی چمک ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ مجھے امید ہے کہ بہت سے فحش سوالات کئے جائیں گے اور میں فحش سوالات پسند کرتی ہوں ۔ خواہشات کے معاملے میں  آزاد خیال فریال گوہر  جتنا دوسروں کو برانگیختہ کرنا پسند کرتی ہے اتنا ہی خود کو برانگیختہ کیا جانا پسند کرتی ہے۔

 ایک بار دونوں کے بارے میں خبر آئی کہ ان دونوں شخصیات نے ایک ہی طیارے میں اسلام آباد سے شارجہ تک سفر کیا  اور بعد ازاں ایک ہی ہوٹل میں قیام رکھے ہوئے ہیں  جبکہ دونوں سارا سارا دن اکٹھے گھومتے پھرتے اور ساحل سمندر پر تفریح کرتے ہیں ۔ ان کی اس قسم کی مصروفیات نے وہاں کئی قسم کی قیاس آرائیوں  کو جنم دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ  اس کے بعد فریال گوہر نے شیخ رشید کو شادی کی پیش کش کی ہے جس پر وہ سنجیدگی سے غور کر رہے تھے ۔

……ابھی جاری ہے

شیخ رشید کی انجمن اور ریما کےساتھ رنگین راتیں – پارٹ 1

(ماخذ : پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here