شیخ رشید اپنے لیڈر کی معشوق پر بھی ڈورے ڈالتے رہے – پارٹ 3

Sheikh Rasheed kept stalking on beloved of his leader
Sheikh Rasheed kept stalking on beloved of his leader

جن دنون مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے دلشاد بیگم سے عشق کے چرچے زبان زد عام تھے، نواز شریف کے دست راست  شیخ رشید احمد نے دلشاد بیگم پر بھی ڈورے ڈالنے کی کوشش کی ۔ اس وقت شیخ رشید وفاقی وزیر تھے وہ معروف بھارتی صنعت کار  گودریج کی اہلیہ کی فرمائش پر شارجہ میں منعقد ہونے والا کر کٹ ٹورنا منٹ  دیکھنے کے لئے وہاں گئے تھے  اس ٹورنامنٹ میں بھارتی اداکار فیروز خان کی فیملی  جس میں دلشاد بیگم بھی شامل تھی ، مسز گودریج کی مہمان تھی  ٹورنامنٹ کا ایک میچ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جا رہا تھا اسے دیکھنے کے لئے شیخ رشید  نے مسز گودریج  سے انتہائی اصرار کے بعد فیروز خان فیملی کے قریب نشست حاصل کر لی ۔شیخ رشید کو جو نشست ملی وہ دلشاد بیگم کے دائیں ہاتھ پر تھی

شیخ رشید کی انجمن اور ریما کےساتھ رنگین راتیں – پارٹ 1

شیخ رشید نے اپنی نشست سنبھالتے ہی سگار سلگایا اور اس کا دھواں  دلشاد بیگم کے منہ  پر پھینکنا شروع کر دیا ۔ دلشاد بیگم کافی دیر تک شیخ رشید کی اس حرکت کو برداشت کرتی رہی ۔ جب شیخ رشید کی” گھوریاں” اور سگار کا دھواں  برداشت سے باہر ہونے لگا تو دلشاد بیگم نے  اس کی شکایت اپنے بھائی فیروز خان سے کر دی ۔ فیروز خان نے  دلشاد بیگم کو اس کی نشست سے اٹھا کر  اپنی سیٹ پر بٹھا دیا  اور خود شیخ رشید کے قریب بیٹھ گئے ۔ شیخ رشید فیروز خان فیملی کے اس خاموش احتجاج  پر بھی باز نہ آئے  اور آگے کو جھک کر دلشاد بیگم کو تاڑنا شروع کر دیا ۔ شیخ رشید کی اس حرکت پر فیروز خان نے  ٹانگ پر ٹانگ کر کر اپنا جوتا وفاقی وزیر  کی طرف کر دیا اور مسلسل بڑبڑاتا رہا ۔ شیخ رشید یہ صورتحال زیادہ دیر برداشت نہ کر سکے اور اٹھ کر اسٹیڈیم سے ہوٹل چلے گئے ۔ یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ  ٹی وی کیمرے نے نہ صرف شیخ رشید کی حرکتوں کو قلمبند کیا بلکہ یہ سارا منظر ٹی،وی پر بھی دکھایا جاتا رہا ۔

فریال گوہر کو دیکھتے ہی شیخ رشید کی رال ٹپکنے لگی – پارٹ 2

(ماخذ : پارلیمنٹ سے بازار حسن تک)

میرا آپ کو مشورہ ہے کہ لیڈروں کے انتخابات میں ہمیشہ احتیاط کریں۔ آدھی جنگ تو لیڈروں کے صحیح انتخابات سے ہی جیت لی جاتی ہے۔

بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح’جلسہ عام حیدرآباد دکن 11 جولائی 1946ء

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here