ش” سے شیر“

AGHA WAQAR AHMED

مذکورہ کالم 19 ستمبر 2017 کو نجی آن لائن نیوز چینل پر میرے توسط سے شائع کیا جا چکا ہے اور آج مسلم لیگ ن کا نام سیاسی جماعتوں کی لسٹ سےخارج ہوچکا ہے تو لہذا میرا وہ کالم جس میں پہلے سے ہی پیشن گوئی کر چکا تھا وہ تحریر آج دوبارہ بغیر ترمیم کے آپ کے مطالعہ کے لیے پیش خدمت ہے۔

ش” سے شیر”

شدت کا سناٹا تھا  اور ایک حادثے میں  44 کے قریب  زخمی تھے  جن میں سے  38 کو معمولی زخم آنے کی وجہ سے  فارغ کر دیا گیا تھا  باقی 6   میں  4  ایسے تھے جو کسی زمانے میں بڑا قد و کاٹھ رکھتے تھے  چاہے ان کا نام ماضی میں کچھ بھی تھا  مگر ان کی شناخت موجود تھی  اور آج بھی حادثے کے بعد  ان کی شناخت  موجود  رہے  گی  ۔ اور  دو  ایسے تھے کہ جو قد و کاٹھ رکھنے کے باوجود  ایسی حالت میں تھے کہ ان کا آپریشن کیا جائے  آپریشن تھیٹر میں  سناٹے کا ماحول تھا  جیسے موت کا فرشتہ ابھی ابھی گزر کر گیا ہو  اور ایسا کیوں نہ ہوتا ابھی ڈاکٹروں نے  جن چھ مریضوں کو  فارغ کیا  وہ اس بنا پر نہیں ہوئے کہ   وہ صحت یاب ہو جائیں گے  بلکہ اس بنا پر فارغ  ہوئے کہ  کہ وہ آخری سانسیں لے رہےتھے

دو مریضوں کی حالت انتہائی سنجیدہ تھی   اب ڈاکٹر پریشان تھے کہ  کم وقت میں دونوں کا آپریشن کیسے کیا جائے ؟   تو اسی دوران  ایک ڈاکٹر  صاحب نے فرمایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی تو  لیپرو سکوپی کر دی جائے   کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے تمام ورثا  آپریشن تھیٹر کے باہر  بیٹھے ڈاکٹروں کے فیصلے کے منتظر تھے  مگر دوسرے مریض کو جنرل سر جری کی ضرورت تھی  کیونکہ اس میں بہت ذیادہ پیچیدگیاں  تھیں  اور خونی رشتہ کے حامل ورثا   بیرون ملک تھے  چند ایک اندون ملک بھی  تھے  مگر وہ اس نا گہانی حادثے سے لا علم تھے   اور ویسے بھی اگر اس مریض کو کچھ ہو جاتا تو  اس کی وراثت  ان لا تعلق  خونی رشتہ داروں  کے حصے میں آنا تھی  ۔

سرجن حضرات نے لیپروسکوپی کرنے کے بعد  پاکستان تحریک انصاف کو  وارڈ میں منتقل کر دیا  اور اب پاکستان  مسلم لیگ (ن)  کی سرجری شروع ہوئی  اس کو بچانا اس لئے بہت ضروری تھا کہ  کیونکہ اس کے  معدے میں 20 کروڑ عوام  کا  سرمایہ  موجود تھا  جوسٹامک واش  کے بغیر نکلنا ممکن نہیں تھا  اس لئے سرجن حضرات نے  پیٹ چاک کر کے جنرل سرجری شروع  کی  تو سرجن  حضرات حیرت زدہ ہو گئے  کہ مریض کے پیٹ میں تو  ان کی توقع سے زیادہ مال و دولت  اور قوم کو لوٹنے کے  ایسے گر موجود تھے  جن کو عام عوام کو بتانا   اشد ضروری تھا   جبکہ ان کے  لواحقین  میں آپریشن  تھیٹر کے باہر کوئی بھی نہ تھا۔

آپریشن تھیٹر میں سرجنوں کی مدد کے لئے آئے ہوئے  نیب کے   افراد با آواز بلند پکار رہے تھے  کہ  پاکستان مسلم لیگ  (ن) کے ورثا کہاں ہیں وہ   آئیں اور اپنے مریض کی زندگی کے لئے جستجو کریں  مگر بار بار پکارنے کے با وجود بھی کوئی نہ آیا  کیونکہ تمام ورثا  بیرون ملک اپنی زندگی انجوائے  کر رہے تھے۔

ورثا  میں سے جو اندرون ملک میں تھے  وہ آپریشن کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے  کیونکہ مریض کے صحت مند ہونے پر  وہی تو ہوں گے جو اس کی نئے سرے  سے پر ورش کریں گے مگر پھر یہ مریض اپنے بیرون ملک بیٹھے ہوئے ورثا کا  سوچے گا  اور  جو پاکستان میں  موجود  ہیں  ان کی حیثیت دوبارہ ایک غلام کی سی بن کر رہ جائے گی  ۔

یہ حقیقت ہے کہ مریض کی ملکیت اور سوچ و بچار اپنے حقیقی ورثا کے متعلق  ہو گا  اور اگر یہ مریض صحت مند بھی  ہو  جائے تو  بھی اس کی کمائی  ہوئی دولت  پر بھی  انہی ورثا  کا ہو گا  جو آج آپریشن تھیٹر کے باہر نہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس خطر ناک حالت میں  چھوڑ کر بیرون ملک چلے جانے   والے ورثا کو   کوئی غرض نہیں  کہ مریض جیئے یا مرے انہوں نے  مفادات حاصل کیئے اور  مزید مفادات حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں  ۔

فرض کرو یہ مریض آپریشن تھیٹر سے زندہ باہر نکل  بھی آتا ہے  تو اس کی پرورش اور صحت یاب ہونے پر   جو خرچ آئے گا اور جو  وزیز و اقارب یئہ خرچ کریں گے  بعد میں  وہ  اس کی کمائی  بھی کھائیں گے  جو آج آپریشن تھیٹر کے باہر ہیں  کیونکہ انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مریض بچ گیا تو  اس سے (ن) ہٹا کر (ش) لگا دیں گے ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ (ن) سے  نحوست، نجاست، نخوت  اور نفرت  بر آمد ہوئی تو مریض کو  آپریشن تھیٹر  میں جنرل سرجری ہونے  کے بعد  باہر پھینک دیا جائے گا  اور اس کی بیاآپسی  کروانے کے لئے اعلی لیبارٹریز  کی خدمات حاصل کی جائیں گی  مریض کو  وہ لواحقین  اپنے گھر لے جائیں گے جو ابھی تک  آپریشن تھیٹر کے باہر موجود ہیں  ۔

جب یہ مریض ان کی ملکیت بن جائے گا تو  وہ کوشش کریں گے کہ  اس کے ساتھ (ش) لگا دیا جائے  جس سے اس میں  شرم، شرافت ، شہر ت ،شہادت اور شیر کی خوبیاں نمودار ہوں گی ۔

ہم بھی اپنے خون کا عطیہ دیں  تا کہ آپریشن کامیاب ہو سکے  اور  مریض کو نئی زندگی ملنے پر حقیقی طور میں (ش) لگ جائے   جس سے شرم، شرافت ، شہرت، شہادت  اور شیر کا عنصر  پیدا ہو کیونکہ یہ وہ مریض ہے  جس کی رسائی پاکستان کے چاروں  صوبوں  تک  ہے  اور اس وقت پاکستان کو حقیقی طور پر  شرم، شرافت ، شہرت  ، شہادت اور شیر کی ضرورت ہے

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت  نہ کشور کشائی

Columnist1958@gmail.com

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here