شہید بے نظیر بھٹو بھی بیٹی تھی

Shaheed Benazir Bhutto was also a daughter
Shaheed Benazir Bhutto was also a daughter

ریاض صحافی…. تماشا

May 28, 2018

احتساب عدالت سے سانپ کا نکلنا اور کسی ملزمہ کا قابل احترام جج کے روبرو کٹہرے میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کومے اور فل سٹاپ پڑھنا ایک حیران کن واقعہ ہے جسے گنزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہونا چاہئے کیونکہ اس سے قبل اس طرح کی انہونی کبھی سننے اور دیکھنے کو نہیں آئی کہ ایک ملزمہ عدالت میں بیان دیتے ہوئے اس قسم کی پھلجڑیاں چھوڑے۔

ملزمہ بھی وہ جو ایک وی وی آئی پی شخصیت ہونے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو‘ حکمران جماعت کی مرکزی راہنما ہو‘ اس کے ابا حضور تین بار وزیراعظم رہ چکے ہوں‘ انکل سب سے بڑے صوبہ کے وزیراعلیٰ ہوں‘ والدہ محترمہ کے ساتھ چچازاد بھائی اور شوہر نامدار ایم این اے کے رتبے پر فائز ہوں،ماسیوں‘ مامیوں اور پھپیوں کے بیٹوں سمیت خاندان کے دیگر افراد بھی وزارتوں‘ مشاورتوں اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدوں کے جھولے جھول رہے ہوں۔

مستقبل کی وزیراعظم بننے کے خواب دیکھنے والی یہ حور سٹائل سیاست کارہ جب عدالتی کٹہرے میں اپنے بیان کے دوران جامد اور ساکت علامتوں کو بھی اپنے بیاں کا حصہ بنا رہی تھی تو تب ملک بھر کے ٹی وی چینلز ”کوما ،کوما“ اور ”فل سٹاپ، فل سٹاپ“ کا راگ الاپ رہے تھے۔

گمان گزرا ان چینلوں پر کسی کا میڈی شو کی جھلکیاں چل رہی ہیں جن میں امان اﷲ‘ سہیل احمد‘ افتخار ٹھاکر‘ ناصر چنیوٹی‘ ہنی البیلا‘ پرویز رضا اور امانت چن جیسا کوئی مخولیا یا شیبا حسن اور روبی انعم جیسی مسخری آفتاب اقبال‘ طاہر سرور میر،خالد عباس ڈار یا وصی شاہ کی کٹھ پتلی بن کر نیا تماشا رچا رہی ہے۔

یہ آرٹسٹ بات کا بتنگڑ بنانے اور اپنے سیدھے سادھے ڈائیلاگ کو الٹا پلٹا مفہوم دینے میں اپناثانی نہیں رکھتے‘ اسی طرح کا کمال ہماری فلموں میں منور ظریف‘ رنگیلا‘ البیلا‘ رضیہ‘ چن چن اور لہری سمیت دیگر مزاحیہ اداکاروں کو بھی حاصل تھا جو سنجیدہ مناظرمیںبھی مزاح کے رنگ بھر دیتے تھے مگر المیہ سینوں میں ہنسی مزاح کے گول گپے سجانے میں جو مہارت لہری کو حاصل تھی وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی‘ لہری کی یہ روایت اس کا شاگرد غفار لہری اب بخوبی نبھاہ رہا ہے۔

بات آگے بڑھانے سے پہلے”حور سٹائل سیاست کارہ“ کی بھی وضاحت ہو جائے کہ دنوں میں سیاست کی معراج چھونے والی اس شخصیت کو ”حور“ کا خطاب ہم نہیں دے رہے بلکہ انہیں یہ اعزاز ان کے مجازی خدا نے چند ہفتے قبل ایک تقریب میں دیا تھا جب ایک شرارتی رپورٹر نے موصوف سے سیاستدانوں کی ایک سے زائد شادیوں کے حوالے سے پوچھا کہ کیا وہ بھی اپنے چچا سسر کی پیروی میں دوسری شادی کا ارادہ تو نہیں رکھتے؟ جس پر ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ میری بیوی تو جنت کی حور ہے‘ اس کے ہوتے ہوئے بھلا میں دوسری شادی کیسے کر سکتا ہوں۔ تب ایک نانی اماں کی عمر کی خاتون کو حور قرار دینا ہمیں عجیب سا لگا مگر کیا کیاجائے کہ ہمارے بیوٹی پارلر اور بوتیک ایسے کمالات دکھا کر ہی تو چاندی بنا رہے ہیں۔

دوسری طرف بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کر باپ غصہ سے بلبلا اور تلملا رہا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ” میری بیٹی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والوں کو سودا مہنگا پڑے گا‘ یہ اوچھی روایت ہے کہ بیٹی باپ کے سامنے کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے‘ مگر میرے عزم کو شکست نہیں دی جا سکتی“

درست بالکل درست‘ ایسا نہیں ہونا چاہئے‘ بیٹیوں کو کٹہرے میں نہیں لانا چاہئے‘ بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں‘ آبرو اور عزت کی علامت‘ جن کی عزت و تکریم سب پر فرض ہے…. مگر کیا وہ بتانا پسند کریں گے کہ ایسی اوچھی اور گھناونی روایت کسی نے ڈالی تھی۔ بی بی بے نظیر بھٹو (شہید) تو ایک دن میں دو دو مقدمے بھگتتی رہی ہیں‘ صبح کراچی کی عدالت کا کٹہرا ہوتا اور دوپہر کو راولپنڈی کی عدالت میں پیشی۔ اسی طرح عرصہ تک ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر لگواتے رہے‘ جہاں بی بی کے بغل میں ایک بچہ ہوتا اور دوسرا بچہ ہاتھ میں…. کیا یہ سچ نہیں کہ جب بی بی ماں بننے والی تھیں تو ان کے روحانی باپ نے عین انہی دنوں الیکشن کرائے تا کہ وہ انتخابی مہم نہ چلا سکیں۔ یہ تو ماضی کا عبرتناک اور واہیات قصہ ہے مگر حالیہ عہد میں ماڈل ٹاﺅن میں خون کی ہولی کس نے رچائی تھی جس میں مردوں کے ساتھ حاملہ عورتوں کو بھی ٹھڈوں‘ ڈنڈوں اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ کیا وہ قوم کی بیٹیاں نہیں تھیں۔

ابھی تو اپنی بیٹی صرف کٹہرے میں آئی ہے، بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے، یہ مکافات عمل ہی تو ہے…. جناب ثابت قدم رہنے کیلئے بی بی بے نظیر بھٹو کا خط ملاحظہ فرمائیے جو شہید بی بی نے اسیری کے دوران سکھر جیل سے اپنی والدہ محترمہ نصرت بھٹو کے نام لکھا تھا۔”یہاں سکھر میں گرمی بہت ہے، چھت بھی بہت اونچی ہے، یہاں بارک میں ایک پنکھا ہے، جس کی ہوا نیچے نہیں آتی، گرمی سے پورے جسم پر لال نشان پڑ گئے ہیں، لیکن میں یہاں خوش ہوں، جب میرا حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے تو میں گڑھی خدابخش کی جانب رخ کرکے گہرا سانس لیتی ہوں اور پھر سے حوصلہ مل جاتا ہے“۔

اب اس معاملہ پرپیپلز پارٹی کے رہنما عارف ظفر کی پوسٹ ملاحظہ کیجیے جو سوشل میڈیا کی زینت بنی ہے ۔ شہید بی بی کہتی تھی٭ ”ڈکٹیٹر سے دور رہو، وہ کسی کا نہیں ہوتا…. مگر یہ ہنستے تھے۔٭ رات کے اندھیرے میں جرنیلوں سے مت ملو، دن بھی تاریک ہو جائیں گے…. مگر یہ آنکھیں دکھاتے تھے۔ ٭خواتین کی عزت کرو، تمہارے گھر میں بھی عورتیں ہیں…. مگر یہ مذاق اڑاتے تھے۔ ٭کرپشن کے جھوٹے مقدمے قائم نہ کرو، خود بھی پھنس جاﺅ گے…. مگر یہ اتراتے تھے۔٭ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا طریقہ کار ٹھیک نہیں، اسے بدلنا چاہیے…. مگر یہ سیٹیاں بجاتے تھے۔٭ میڈیا کو ہمارے خلاف استعمال نہ کرو، یہ تمہارے خلاف بھی استعمال ہوگا…. مگر یہ منہ چڑاتے تھے۔ ٭ہماری حکومت کے خلاف سازش مت کرو، تمہاری حکومت بھی چل نہ پائے گی…. مگر یہ باز نہیں آتے تھے۔ اب پہاڑ کے نیچے آئے ہو تو بھگتو۔عارف ظفرکی اس پوسٹ سے کوئی متفق ہو یا نہ ہو مگر یہ حالات کا بہترین تجزیہ ہے۔

اسی طرح احتساب عدالت سے سانپ کا نکلنا اچھا شگون ہے۔ ماہر طلسمات سید اقبال بخاری کا کہنا ہے کہ موٹے تازے ساپنوں کے نرغے میں ایک بڑا خزانہ بھی چھپا ہوتا ہے۔ احتساب عدالت سے پکڑا جانے والا سانپ بھی کافی ہٹا کٹا تھا، اس کی لمبائی چھ فٹ تھی جسے عدالتی عملہ اور سکیورٹی اہلکاروں نے سر کچل کر مار دیا، دیکھتے ہیں کہ اس کے قبضے کا خزانہ کب برآمد ہوتا ہے۔

اب چلتے چلتے ”کومے اور فل سٹاپ“ کے بارے میں کچھ بیان ہو جائے۔ یہ تحریری علامتیں کسی بھی عبارت اور بیان کا لازمی جزو ہوتی ہیں جو اسے خوبصورتی دلکشی اور رعنائی بخشتی ہیں۔ بظاہر یہ علامتیں ساکت اور جامد رہتی ہیں مگر ان کے بغیر کوئی بھی مفہوم اجاگر نہیں ہوتا، معاملہ سمجھنے کیلئے یہ فقرہ کافی ہے۔ روکو مت، جانے دو…. اگر اس فقرہ میں استعمال ہونے والا کومہ اسی طرح استعمال کیا جائے۔ روکو، مت جانے دو تمام معاملہ الٹ پلٹ ہو جاتا ہے۔ دیکھا کس طرح ایک کومہ کا غلط استعمال سارے مفہوم کی مت مار دیتا ہے۔ یہ فقرہ موجودہ حالات میں بھی بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ کیونکہ ان کی مت بھی ماری جا چکی ہے اور جانے میں محضایک دن باقی ہے۔، فاتح ناصر نے کیا خوب کہا

فل سٹاپ تو فل سٹاپ کو مے بھی نہ چھوڑے ہم نے
عدالت میں دوڑا دیئے جہالت کے گھوڑے ہم نے

(کالم نگار، سماجی، ثقافتی اور سیاسی امور پر لکھتے ہیں)

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here