سعودی عرب کی دو آئل تنصیبات پر سرحد پار سے ڈرون حملے

Saudi Arabia shuts major oil pipeline after Houthi drone attacks
Saudi Arabia shuts major oil pipeline after Houthi drone attacks

:ریاض

سعودی عرب کی دو آئل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں پمپنگ اسٹیشنز کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر توانائی خالد الفالیح کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کی ‘یانبو پورٹ’ پر یمن سے حوثی باغیوں نے 2 پمپنگ اسٹیشنز کو ڈرون کی مدد سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا۔

ڈرون حملے کے بعد پمپنگ اسٹیشنز میں آگ لگ گئی جس کے بعد ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو نے متاثرہ پائپ لائن سے تیل کی سپلائی روک دی۔

سعودی عرب نے یمن سے ہونے والے ڈرون حملے کو بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا مقابلہ کیا جائے۔

وزیر توانائی خالد الفالیح کا مزید کہنا ہے کہ بزدلانہ حملے میں نہ صرف سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا بلکہ یہ حملہ عالمی اقتصادیات اور دنیا کو فراہم کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب حوثی ملٹری کے ترجمان یحیٰ ساری کا کہنا ہے کہ 7 ڈرون کی مدد سے سعودی آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور یہ ایک کامیاب آپریشن تھا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہمیں سعودی عرب میں رہنے والے افراد کی مدد حاصل ہے اور ہمارے پاس بہترین انٹیلی جنس ہے’۔

حرمین شریفین کے امور کے صدر شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے آئل پمپنگ اسٹیشنوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل پائپ لائن اور تنصیبات پر حملے دہشت گردی اور اسلامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ماہ مقدس میں ایسی کارروائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی تیل کے ترسیلی نظام پر یہ دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل 12 مئی کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ پر دو سعودی جہازوں کو مبینہ طور پر سبوتاژ کیا گیا جس میں جہاز کو نقصان پہنچا۔

اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں بتانا تھا کہ اس کی فیوجیرہ بندرگاہ پر 4 لنگر انداز ہونے والے جہازوں کا آپریشن سبوتاژ ہوا جس میں 2 سعودی، ایک ناروے اور ایک اماراتی جہاز شامل ہے۔

اماراتی حکومت کی جانب سے ایک جہاز کی تصویر بھی جاری کی گئی تاہم سعودی عرب اور اماراتی جہاز کو ہونے والے نقصان کی تصاویر یا اور کوئی شواہد جاری نہیں کیے گئے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here