اے پی سی میں شرکت کا معاملہ، ایم کیو ایم میں نیا تنازع پیدا ہوگیا

Sattar attends APC against Rabita Committee's advice
Sattar attends APC against Rabita Committee's advice

:اسلام آباد

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں نیا تنازع پیدا ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق مبینہ دھاندلی کیخلاف ہونے والی اے پی سی میں شرکت کے لیے ایم کیو ایم کی جانب سے فاروق ستار اور کنور نوید جمیل اسلام آباد پہنچ چکے تھے تاہم عین موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین نے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد جمیل سے کراچی میں رابطہ کیا اور وفاق میں حکومت سازی میں ساتھ چلنے کی دعوت دی۔

اس رابطے کے بعد ہی ایم کیو ایم نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم اسلام آباد میں موجود فاروق ستار پارٹی فیصلے کے باوجود اے پی سی میں شریک ہوگئے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پارٹی نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آپ شرکت کررہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’میں رابطہ کمیٹی سے رابطے میں نہیں ہوں، کنور نوید رابطے میں ہیں‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا مجھے علم نہیں۔

دوسری جانب کراچی میں موجود ایم کیو ایم رہنما عامر خان کا کہنا ہے کہ فاروق ستار کو اے پی سی میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا تھا۔

عامر خان نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اے پی سی میں شریک نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں جیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ انتخابات تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ شکست تسلیم نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ ’میں اسی لیے تو یہاں آِیا ہوں،جو لائحہ عمل طے ہوگا اس کا اعلان یہاں ہوگا‘۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان گزشتہ کئی عرصے سے اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔

سینیٹ الیکشن کے موقع پر امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر ایم کیو ایم میں پھوٹ پڑ گئی تھی اور رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے ہٹا کر خالد مقبول کو کنوینر منتخب کرلیا تھا۔

اس طرح ایم کیو ایم میں بہادرآباد گروپ خالد مقبول صدیقی اور پی آئی بی گروپ فاروق ستار کی حمایت میں سامنے آگیا تھا۔

عام انتخابات سے قبل بہادرآباد اور پی آئی بی گروپ نے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے الیکشن پتنگ کے انتخابی نشان پر ہی لڑنے کا فیصلہ کیا تاہم اختلافات کا نتیجہ کراچی میں ایم کیو ایم کی نشستوں میں نمایاں کمی کی صورت میں سامنے آیا اور متحدہ کراچی سے قومی اسمبلی کی صرف 4 نشستیں اپنے نام کرسکی۔

ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے ایم کیو ایم کو اس کے مرکز نائن زیرو کے حلقے سے بھی شکست دی جبکہ فاروق ستار این اے 247 اور 245 میں تحریک انصاف کے عارف علوی اور عامر لیاقت سے شکست کھاگئے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here