ازخود نوٹس کیس میں غیر حاضری پر ثناءاللہ زہری اور مالک بلوچ اسلام آباد طلب

Sanaullah Zahi and Malik Baloch call to Islamabad for absent in suo moto notice case
Sanaullah Zahi and Malik Baloch call to Islamabad for absent in suo moto notice case

:کوئٹہ

سپریم کورٹ نے صحت، تعلیم اور پانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منصور علی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف سیکریٹریز سمیت دیگر اعلیٰ حکام سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے تاہم عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود سابق وزرائے اعلیٰ ثناءاللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ پیش نہ ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سابق وزرائے اعلی کہاں ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر عبدالمالک کی جانب سے ان کے وکیل عدالت میں موجود ہیں۔

عدالت نے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ اور نواب ثناءاللہ زہری کو آئندہ سماعت پر اسلام آباد طلب کرلیا۔

سیکرٹری صحت کی سرزنش

تاخیر سے پہنچنے پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت صالح ناصر سے کہا کہ آپ کس صوبے سے آئے ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ میرا تعلق بلوچستان سے ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘پھر صوبے کے لئے کام کریں، اسپتالوں کی حالت دیکھی ہے آپ نے’۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، سول اسپتال میں ایک بھی ایم آر آئی مشین نہیں ہے۔

ینگ ڈاکٹرز کے حوالے سے سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں کو ہر ماہ وظیفہ دیا جاتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ڈاکٹرز کو 24 ہزار روپے تنخواہ دیتے ہیں، سپریم کورٹ کا ڈرائیور 35 ہزار تنخواہ لے رہا ہے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ڈاکٹرز کی تنخواہ ادا نہیں ہوتی، آپ کی تنخواہ بند ہے۔

چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے مکالمے کے دوران کہا کہ اسپتالوں میں آلات بہتر رکھیں اور ان کی حالت بہتر بنائیں۔

تعلیم سے متعلق سماعت

چیف جسٹس نے سیکرٹری تعلیم سے استفسار کیا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی حالت کے بارے میں بتائیں۔

سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مکمل پلان ترتیب دیا ہے جسے کابینہ سے منظور کرایا جائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیشہ یہی پوچھتا ہوں کہ کون تیار کرے گا آپ کا تین سالہ پلان، پانی اور واش روم بننے میں کتنا عرصہ لگ جائے گا۔

جس پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ تین سال میں 11 ہزار اسکولوں میں واش روم بنا دیں گے، گزشتہ تین سال میں چار لاکھ بچوں کو داخلے دلوائے گئے۔

سیکرٹری تعلیم نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کے زیر انتظام ایک ہزار 135 پرائمری اسکول ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ان اسکولوں میں ساری سہولیات ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، 50 فیصد اسکولوں میں پانی نہیں، یہی شرح مڈل اور ہائی اسکولوں میں ہے۔

سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ صوبے میں سرکاری اسکولوں کی صورتحال خراب ہے لیکن اتنی بھی نہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بہترین اسکول میں آپ مجھے لے جائیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ خضدار کے علاقے کٹھان میں ماڈل اسکول ہے ، شہر میں اسکولوں کا مسئلہ نہیں، خرابی میں اساتذہ بنیادی وجہ ہیں، ہمارے اساتذہ دلچسپی نہیں لے رہے، ٹیچرز پولیٹیکل ونگ بن گئے ہیں۔

اساتذہ کی ایسوسی ایشن سے کوئی تعاون نہیں مل رہا، سیکرٹری تعلیم

سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ مجھے اساتذہ کی ایسوسی ایشن سےکوئی تعاون نہیں مل رہا، صوبے میں جے وی ٹیچر 20 گریڈ تک پہنچ جاتا ہے لیکن کارکردگی صفر ہے جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تعلیم سے متعلق پالیسی بنا کر 15 دن میں رپورٹ دی جائے۔

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنماء مجیب اللہ غرشین نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم غیر حاضر اساتذہ کے حق میں نہیں لیکن یہاں جونیئر سینیئر کی جگہ آجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سیاسی مداخلت ختم نہیں کر رہی جس سے معاملہ بگڑ رہا ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس سے پوچھوں وہ دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔

چیف جسٹس کا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما کے تبادلے کا حکم

چیف جسٹس نے مجیب اللہ غرشین کو خضدار تبادلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جا کر بچوں کو پڑھاؤ ، لیڈری مت کرو، تعلیم اور صحت کے شعبے میں کوئی سیاست قبول نہیں کی جائے گی، ایسا نہ ہو سپریم کورٹ صحت اور تعلیم میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دے۔

چیف سیکرٹری سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے سب سے زیادہ پیسے آپ کو ملے، بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے پیسے کون کھا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں کوئی گورننس نہیں ہے اور پینڈورا باکس بنا ہوا ہے، میں تو سمجھتا تھا کہ سندھ کی صورتحال ابتر ہے لیکن یہاں تو کوئی حالت ہی نہیں ہے۔

پانی سے متعلق سماعت

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا پانی کے حوالے سے رپورٹ مکمل کرلی ہے’ جس پر ایڈووکیٹ جنرل رؤف عطا نے بتایا کہ کابینہ کا اجلاس ہوا ہے، ایک ہفتے میں رپورٹ مکمل کرلی جائے گی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پالیسی تیار کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here