سکینہ محمد یوسف ہو گئی

Sakeena Mohammad Yousuf ho gayi

AGHA WAQAR AHMED

سکینہ محمد یوسف ہو گئی

٧٠ کے عشرے کی بات ہے کہ جب میں نے  سن بلوغت  میں  نیا نیا  قدم رکھا  ہمارے گھر  روزنامہ  ” امروز” اور پاکستان ٹائمز” آیا کرتا تھا اور والد صاحب کا حکم تھا کہ ہم سب بہن بھائی  سکول سے آ کر اخبارات کا مطالعہ ہر حالت میں  کیا کریں  ایک دن میں نے اخبار پڑھا تو ایک خبر نے مجھے پریشان کر دیا اور آج تک اس خبر کی سرخی مجھے یاد ہے ۔

” سکینہ محمد یوسف ہو گئی”  خبر کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے  وہ اخبار رات سونے سے پہلے  اپنے سکول بیگ میں رکھا   اور اگلے دن ہم تمام دوست  اس  خبر  کے بارے میں متجسس رہے کہ  سکینہ کی جنس کس طرح تبدیل ہو گئی ؟

سینٹرل ماڈل سکول لوئر مال کی یہ خوبی تھی  کہ  ہمارے اساتذہ کرام بچوں پر والدین کی طرح نظر رکھتے تھے  ہمارے ساتویں جماعت کے انچارج   مشتاق صاحب ( اللہ ان پر رحمتیں نازل فرمائے آمین)  نے اخبار ہم سے لے لیا  اور گول مول طریقے سے بات گھما کر ہمیں سمجھایا  اور معاملہ  رفو  چکر ہو گیا ۔

گزشتہ روز رانا ثنااللہ نے ماڈل ٹاؤن  کی رپورٹ کی تفصیلات بھی کچھ گھما پھرا کر  بیان کی تو مجھے یہ واقع یاد آیا  اگر ” سکینہ محمد یوسف ہو سکتی ہے  تو رپورٹ کا اہم ترین صفحہ نمبر “65” تبدیل کیوں نہیں ہو سکتا ؟یہ فن  ٹیچر مشتاق صاحب  کی طرح رانا  ثنا اللہ  کو بھی بخوبی آتا ہے ۔

“انکوائری رپورٹ آف دی  ٹربیونل” کے صفحہ نمبر “65” کو تبدیل کیا گیا ۔ جس کے پیچھے کوئی نہ کوئی راز ضرور ہے  ۔ صفحہ نمبر “65” پر  انکوائری کے conclusion کی رپورٹ پر تبدیلی کی گئی  اور یہ وہی صفحہ تھا  جس پر اس تمام انکوائری کے حقائق تحریر ہونے تھے  ۔ جس کو  رپورٹ پبلک ہونے سے پہلے تبدیل کر دیا گیا  بہر کیف  یہ حقیقت ہے کہ صفحہ نمبر “65” یہ وہ نہیں  جو جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں تحریر تھا  چونکہ وہ رپورٹ 2014 میں تحریر کی گئی  تھی۔

جلد بازی میں کیا ہوا جرم   کوئی نہ کوئی نشانی چھوڑ جاتا ہے  جس طرح کہ اس صفحہ پر 2017/6/16 کی تاریخ ڈال دی گئی  اور یہاں ایک اور تبدیلی ہے  کہ  دستخط بھی باقی  صفحوں  سے مختلف ہیں اور  اس صفحے پر پین کی سیاہی بھی یکساں نہیں۔

پاکستان عوامی تحریک نے اس خدشے کا  اظہار کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ پہلے  بھی بڑی  بے باقی اور دلیری  سے پاکستان  کی سب سے بڑی عدالت  سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس  کیس کے سلسلے میں  جعلی  کاغذات  جمع کروا چکی ہے  جن کی وجہ سے  نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا   کیونکہ جلد بازی میں  کمپیوٹر کا  وہ فاؤنٹ  یا طریقہ تحریر اس زمانے میں استعمال ہونے والے فاؤنٹ یا  طریقہ تحریر سے مختلف تھا  مگر جعلسازی کرتے ہوئے  جب انہوں نے سپریم کورٹ میں جمع کروانے کے لئے “ٹرسٹ ڈیڈ” تیار کی جس میں   “کیبلری فاؤنٹ”  استعمال ہوا تھا  اور اس فاؤنٹ  کا وجود “2000” کے بعد  مائیکرو سوفٹ میں شامل  ہوا  مگر  “ٹرسٹ ڈیڈ” اس سے کئی سال پرانی  ظاہر کی گئی  اور مسلم لیگ (ن)کی لیڈر شپ اپنی نا اہلی کی وجہ سے  سپریم کورٹ کی آبزرویشن میں آئی   اور یہ حقیقت ہے کہ  یہ شروع سے  تحریر  تبدیل کرنے کے ماہر پائے جاتے ہیں  کچھ بعید نہیں کہ  انہوں نے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد  حاصل رپورٹ  کے صفحہ  کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا  ہو جس کی نشاندہی  “2017” میں مکمل ہونے والی رپورٹ پر 2017/6/16 کی تاریخ  کا درج ہونا  ایک اچھنبے کی بات ہے ۔

حقائق کیا ہیں وہ یا تو جسٹس باقر نجفی  کے ریکارڈ میں موجود  اصل رپورٹ پبلک ہونے کے بعد  منظر عام پر آئیں گے  یا  صحافی کامران شاہد  کے پاس  “2014” سے اس رپورٹ کی کاپی موجود ہے  وہ بتائیں گے لیکن پنجاب حکومت کی بد نیتی  صفحہ نمبر “65” پر چیخ چیخ کر کہ رہی ہے کہ کچھ تو ہے جس کی راز داری ہے ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here