روبوٹس2030 تک 80 کروڑ ملازمتیں چھین لیں گے: رپورٹ

Robots may replace up to 800 million jobs by 2030: Report
Robots may replace up to 800 million jobs by 2030: Report

:لاہور

چاہے آپ اس وقت تعلیم حاصل کررہے ہوں یا ملازمت کررہے ہوں۔ آپ کے لیے یہ بے حد کام کی خبر ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ ضرور پڑھیے۔ بروقت آنکھ کھل جائے گی ورنہ پچھتائیں گے۔ مستقبل میں ملازمتوں کی راہ آسان نہیں رہنے والی۔ آنے والا وقت روزگار شعبہ میں اتھل پتھل سے بھرپور ہوگا۔

رپورٹ ہے کہ 2030تک 80 کروڑ ملازمتیں مشکل میں ہوں گی۔ یہ ملازمتیں چھیننے والا کوئی اور نہیں روبوٹ ہوگا۔ جی ہاں انسان کو ملازمتوں کے لیے انسانوں سے ہی نہیں بلکہ روبوٹس سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت، روٹوٹکس اور بائیو ٹیکنالوجی کے نام سے جس چوتھے صنعتی انقلاب کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے اس انقلاب کے دور میں مشینوں کے آگے لوگوں کی نوکریاں قربان ہوں گی۔ فیوچر آف جابس کی رپورٹ کی بات تسلیم کریں تو صرف اگلے پانچ سال میں دنیا میں 50لاکھ سے زیادہ روزگار صرف روبوٹ کے ہاتھ ہوگا۔

عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ نے جملہ آٹھ سو سے زیادہ شعبوں کی نشاندہی کی جہاں ملازمتیں انسانوں کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ مینوفیکچرنگ، پروڈکشن سے لے کر دفتر کے کام تک روبوٹ نمٹاتے نظر آئیں گے۔ کوئی بھی شعبہ آٹومیشن تکنیک سے مبرا نہیں رہے گا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق2020 ء میں ایک آدمی نوکری پائے گا تو تین مرد اپنی نوکری گنوائیں گے جبکہ پانچ خواتین۔ وجہ ہے کہ مرد کمپیوٹر، انجینئرنگ، آرکیٹیکچر اور میتھ میٹیکل انڈسٹری میں جانا زیادہ پسند کرتے ہیں ، ان شعبوں میں روبوٹ کا زیادہ کردار نہیں رہے رہے گا کیو ںکہ یہاں صوابدید کا استعمال ہوگا ہے جبکہ روبوٹ وہی کام کرپاتا ہے جس کا فنکشن اس میں فیڈ ہوتا ہے۔ وہیں خواتین فن، رکھ رکھائو، شعبہ صحت، آرٹ اور آفس میں نوکری کو زیادہ ترجیح دیتی ہ یں جبکہ یہاں روبوٹ کی طلب بڑھ رہی ہے۔ جس سے خواتین کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ایک تو روبوٹ کام تیز کرتے ہیں ، دوسرے یہ کہ غلطیاں کم ہوتی ہیں۔ خطرے والے مقامات پر کسی کے گھائل ہونے کا بھی ڈر نہیں رہتا۔ ایسے میں کمپنیوں میں روبوٹس کی طلب بڑھ رہی ہے۔ روبوٹ اور ڈرون کس طرح سے ملازمتیں چھین رہے ہیں۔ یہ بی بی سی کی ایک رپورٹ سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اپریل 2017ء سے اکتوبر کے درمیان 89ہزار امریکیوں کی نوکری چلی گئی۔ اگلے دس سالوں میں 17فیصد امریکی نوکریاں ڈرون اور روبوٹ نگل جائیں گے۔ یہ بحران صرف امریکہ نہیں پورا دنیا میں ہے۔ آج دو ڈرون مل کر سولوگوں کی نوکریاں نمٹا دے رہے ہیں۔ ای کامرس، آن لائن شاپنگ اور ریٹیل شعبہ کی زیادہ تر کمپنیاں رکھ رکھائو کے لیے روبوٹ کا تجربہ کرتی ہیں۔ اس میں پیاکنگ سے لے کر سامان کا حساب کتاب اور اسے رکھنے کے طور طریقے شامل ہیں۔ بی بی سی کی یہ رپھورٹ کہتی ہے کہ امریکہ کی سب سے بڑی ریٹیل کمپنی وال مارٹ کے ملک بھر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ گودام ہیں۔ اس میں چھوٹے سے چھوٹا گودام بھی 17فٹ بال میدانوں کے برابر ہوتا ہے۔ ایسے وسیع گوداموں میں روبوٹ ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ آپ یہ سوچ کر نہ چلیں کہ دنیا کے مقابلے ہندوستان میں روزگار کا بحران نہیں ہوگا۔ ہندوستان میں بھی آٹومیشن سے نوکریوں کے چھننے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

امریکہ کی ایک تحقیقی کمپنی پر بھروسہ کریں تو 2022تک صرف ہندوستان میں ہی سات لاکھ افراد کی ملازمتیں چھنیں گی۔ اس گلوبل ریسرچ کمپنی نے جملہ 46ملکوں کے آٹھ سو سے زیادہ صنعتی شعبوں پر رپورٹ تیار کی ہے۔ جس میں مشین آپریٹنگ سے لے کر دفاتر اور سبھی طرح کی صنعتیں شامل ہیں۔ ملازمت جانے کی بات سن کر ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک طرف آٹومیشن کے سبب لوگوں کے ہاتھ سے ملازتیں چھنیں گی تو دوسری طرف ملازمتیں آئیں بھی۔ ملازمتوں کے نئے نئے راستے کھلیں گے۔ نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ مگر اس کے لیے آپ کو خود کو زمانے کے حساب سے ڈھالنا ہوگا۔ نئی نئی صلاحیتیں بھی سیکھنے ہوں گی۔ تبھی آپ کو نئی جگہوں پر نوکری مل سکے گی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here