محققین نے جاسوسی کیلئے میسجنگ ایپس کے استعمال کے خطرے سے خبردار کردیا

Researchers warned about the use of messaging apps for spying
Researchers warned about the use of messaging apps for spying

:لندن

اسمارٹ فون کے اس دور میں صارفین اب اپنی تمام خفیہ یا کاروباری معلومات اپنے موبائل میں محفوظ رکھتے ہیں اور اکثروبیشتر واٹس ایپ جیسی میسجنگ ایپلیکیشنز کے ذریعے ہی تمام معاملات بھی طے کرلیے جاتے ہیں لیکن  سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو ایک ایسی جاسوسی مہم سے خبردار کیا ہے، جس میں جعلی میسنجگ ایپس کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق ایک جاسوسی مہم کے ذریعے جعلی میسجنگ ایپس میں مال ویئر کا استعمال کرتے ہوئے 20 سے زائد ممالک کے افراد کی خفیہ معلومات چوری کی گئیں، جن میں وکلا، صحافی، فوجی اہلکار، سماجی کارکن اور دیگر افراد شامل ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس گروپ الیکٹرونک فرنٹیئر فاونڈیشن (ای ایف ایف) اور لک آؤٹ سیکیورٹی کمپنی کی رپورٹ کے مطابق جاسوسی کرنے والوں نے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے لیکن ان کا بنیادی مقصد موبائل فونز کی معلومات چوری کرنا ہے۔

ای ایف ایف کی رپورٹ کے مطابق جاسوسی کی اس مہم میں ملوث نیٹ ورک کو  ‘ڈارک کاراکل’  کا نام دیا گیا ہے، جو جعلی میسجنگ ایپس یعنی واٹس ایپ اور سگنل کے ذریعے صارفین کی تصاویر، آڈیو، ویڈیو، لوکیشن اور دیگر معلومات چوری کرتا ہے۔

ای ایف ایف کی سائبر سیکورٹی ڈائریکٹر ایوا گالپرن کا کہنا ہے کہ ڈارک کارل کے خطرے سے امریکا، کینیڈا، لبنان، فرانس اور جرمنی کے متعدد صارفین متاثر ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاسوسی کرنے والے گروپ کو یہ بات معلوم ہے کہ ہر کوئی اپنی معلومات موبائل فون میں محفوظ رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تک ہزاروں گیگابائٹس پر مشتمل ڈیٹا چوری ہوچکا ہے۔

سائبر جرائم پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ صارفین اس مشکل کا شکار اُس صورت میں ہوتے ہیں جب وہ کوئی ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔

محققین نے خبردار کیا ہے کہ ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرتے وقت صارفین اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ وہ جعلی نہ ہوں یا اس میں کوئی وائرس نہ ہو، تاکہ ڈیٹا چوری کے نقصان سے بچا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here