نوازشریف نے جو کہا ایسا کچھ پاکستان کے ریکارڈ میں نہیں: رحمان ملک

Rehman Malik demands Nawaz retract 'Mumbai attacks' statement
Rehman Malik demands Nawaz retract 'Mumbai attacks' statement

:اسلام آباد

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہےکہ میاں نواز شریف نے جو کچھ کہا ہے پاکستان کے ریکارڈ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ متنازع بیان پر کہا کہ پاکستان کسی بھی طرح ممبئی حملہ کیس میں ملوث نہیں، میں نےپہلے روز ہی کہا تھا ممبئی حملہ کیس میں بھارت ملوث ہے، ممبئی حملہ ’را‘ کا اسٹنگ آپریشن تھا، یہ پورا حملہ ’را‘ نے کرایا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کےبھارتی وزیرداخلہ سے کہا کہ ثبوت دیں ایکشن لوں گا، میں نے ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی بنائی، کیس کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے رکی، اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت نہیں دی گئی، اجمل قصاب بھی بھارت کا اپنا مہرہ تھا، اس لیے رسائی نہیں دی گئی۔

پی پی رہنما کا کہنا تھاکہ بھارت اپنے ریاستی عناصر بھیج کر پاکستان میں دہشت گردی کراتا رہا ہے، ڈیوڈ ہیڈلے کے سنڈیکیٹ کو بھارت کی خفیہ ایجنسی نے تیار کیا، بھارت نےفہیم انصاری اور صباح سے کیوں تحقیقات نہیں کرائیں؟ مطالبہ رہا ہے کہ انصاری برادرز کو پاکستان کے حوالے کیا جائے، انصاری برادر نے ’را‘ کے ایما پر ممبئی حملوں میں سہولت سہولت کار کا کردار ادا کیا، ڈیوڈ ہیڈلے کی بھی ’را‘ نے مکمل حمایت کی تھی۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ میاں نواز شریف پر آرٹیکل 6 نہیں لگتا، پاکستان کے ریکارڈ میں ایسا کچھ ہے ہی نہیں جو نواز شریف نے کہا، ان کے بیان پر افسوس ہوا، نوازشریف نے یہ بیان دیا ہے تو اقوام متحدہ کے طلب کرنے پر وہ کیا کہیں گے؟ نواز شریف قوم پر رحم کریں اور اپنا بیان واپس لیں، قوم کے سامنے کہیں کہ غلطی ہوئی۔

رحمان ملک کا کہنا تھاکہ نان اسٹیٹ ایکٹر وہ ہوتا ہے جس کو حکومت کی پشت پناہی نہیں ہوتی، کلبھوشن تو بھارت کا سرونگ افسر تھا، یہ ہوتا ہے اسٹیٹ ایکٹر۔

انہوں نےکہا کہ آج میاں صاحب نے پہلی مرتبہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے خلاف بیان دیا، پاکستان میں ہزاروں لوگ کلبھوشن کی وجہ سےجاں بحق ہوئے، ان کے لیے بھی وہ کچھ کہہ دیتے، میں نے بار بار کہاکہ کلبھوشن کے معاملے کو فوراً نمٹایاجائے، کلبھوشن کے معاملے پر تاخیر ہوئی تو بھارت انٹرنیشنل عدالت میں چلا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here