حقیقی صحافت

AGHA WAQAR AHMED

حقیقی صحافت

 حکومت کو چاہیے کہ نشریاتی اداروں پر کوئی قوانین نافذ کرے اور رات 8 بجے جب ٹی وی پر اینکر حضرات بیٹھ کر حکومت کی پالیسیاں فائنل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے اداروں پر تبصرہ کرتے ہیں انہیں اخلاقیات کی حدود کے اندر رہنا چاہیے کیونکہ صحافت کا کام صحافت ہےشہنشاہیت نہیں۔

1973 کے آئین کے مطابق عدلیہ کے فیصلے پر اظہار خیال کیا جا سکتا ہے اور فیصلے کو پسند نہ پسند کرنے کا اختیار بھی ہے اس کے اوپر اپنی رائے دی جا سکتی ہے مگر عدلیہ پر رائے دینا کی بجائے جج صاحبان کی ذاتیات پر گفتگو کرنا اور ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی کرنا یا لوگوں کے دماغ میں کسی خاص سیاسی پارٹی کی ہمدردیاں پیدا کرنا صحافت کا کام نہیں ہے اور جو صحافی یہ کام کر رہے ہیں وہ در حقیقت اپنے صحافی شعبے سے بد دیانتی کر رہے ہیں بلکہ اس قوم کو تباہی کی طرف لے جانے میں ایک اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ اس لئے نشریاتی اداروں پر ایک خاص قسم کے اصولوں و ضوابط لاگو کرنا منسٹری آف انفارمیشن کا فرض ہے۔

 کسی کو سزا ہو کسی کی ضمانت ہو یا کوئی بری ہو جب عدلیہ نے فیصلہ دے دیا تو اس فیصلے کو اس طرح پیش کرنا کہ جیسے ادارے نے جرم کر دیا ہے درحقیقت وہ فیصلے کے اوپر تنقید نہیں بلکہ فیصلہ دینے والے ادارے پر تنقید کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ صحافت قطعاََ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ لوگوں کو ذہنی طور پر کسی خاص سیاسی پارٹی کے حق میں سوچنے کے لیے ایک ماحول دیا جائے۔

ٹی وی اور دوسرے نشریاتی ادارے جو بے لگام گھوڑے ہو چکے ہیں ان کو کسی پیمانے میں لانا حکومت کا کام ہوتا ہے جسے حکومت سر انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس ناکامی کو زیادہ نمایاں کرنے کی بجائے اسے اصلاح کے راستے اور طریقوں کی ایک تجویز کی صورت میں پیش کرنا صحافیوں کا کام ہے۔

پاکستان کی سلطنت اندرونی و بیرونی مسائل میں گھری ہوئی ہے ان کا حل تجویز کرنا اور اس کے متعلق ایک مثبت رائے دینا تو صحافت میں شامل ہو سکتا ہے مگر سیاسی وابستگیوں کی دکان داری لے کر شام کو آٹھ بجے بیٹھ جانا درحقیقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ وفاداری نہیں دشمنی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here