حقیقی چہرے

AGHA WAQAR AHMED

حقیقی چہرے

مختلف ادوار میں حکومتوں کی مختلف  ترجیحات رہیں مگر افسوس کہ سیاسی پارٹیوں نے  نہ تو اپنے منشور کو واضح کیا  اور نہ ہی ان پر عمل در آمد کیا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی  نے ایک مکمل منشور دے کر  عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا  مگر حالات کی ستم ظریفی ایسی تھی  کہ بانی پاکستان  پیپلز پارٹی  کا  دور حکومت  چار سال پر محیط رہا اور اس کے  سربراہ  کو بالآخر اپنے منشور اور اصولوں  کی وجہ سے تختہ دار   پر جھولنا پڑا ۔ اور اس کے بعد  پارٹی  کی کمان نصرت بھٹو  اور بینظیر بھٹو کے پاس آئی  مگر افسوس کہ  انہیں انہی طاقتوں کے  ساتھ  معاہدے کرنے پڑے  جن طاقتوں کی وجہ سے  ذولفقار علی بھٹو  کو سزائے موت  دی گئی ۔

پارٹی کا منشور  بہت عام فہم زبان  میں تھا اور حقیقت میں کوئی بھی اشرافیہ  اس منشور کو  قبول کرنے کے لئے  تیار نہ تھے جس کی بنیاد  ” روٹی ،کپڑا  اور مکان  ” کے ساتھ “جمہوریت ہماری سیاست ہے”   ایک اہم جز تھا  مگر اس پارٹی کو آمروں کے ساتھ  معاہدے کرتے دیکھا گیا  اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات  نہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی منشور  پسے ہوئے  غریب عوام کے اندر  رچ بس گیا  تھااور یہی غریب عوام پارٹی کا سرمایہ تھے  اور اس کے قائد کو  پھانسی  پر لٹکا دینے کے بعد  پاکستان میں خود ساختہ امیر المومنین  نے مفاد پرستوں کے ایک ٹولے  کے ساتھ مل کر  ملک کی سیاست کو  مذہبی رنگ دینے کے لئے  ایک ایسے نظام کی تشکیل دی  جو   نہ تو اسلامی تھا  اور نہ ہی  جمہوری   مگر اس کی مجلس شعوریٰ میں  جو افراد شامل ہوئے  وہ معاشرے کے وہ مفاد پرست انسان تھے  جنہوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ  اسلامی نظریاتی سوچ کو بھی  نا قابل تلافی نقصان پہنچایا   جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے ۔

 موجودہ  سیاسی دور میں  نواز شریف سے لیکر  عمران خان تک یہ وہ تمام افراد ہیں  جو در حقیقت  ” آئی جے آئی ” (اسلامی جمہوری اتحاد ) کی  پیداوار ہیں اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔  وقت نے ثابت کیا کہ  اسلامی جمہوری اتحاد در حقیقت  آئی ایس آئی کی بنائی ہوئی تنظیم تھی  جس میں سیاست دانوں کو خرید کر نہ صرف ذولفقار علی بھٹو کے خلاف  تحریک چلائی گئی بلکہ خود ساختہ امیر المومنین کے مارشل لاء اور آمریت کو جمہوری رنگ دینے کے لئے  ان افراد نے قومی خزانے کی رقم  بے دریغ خرچ کی جس کی حقیقت اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان  کے فیصلے میں  کھل کر بیان کر دی گئی  برگیڈئیر  امتیاز بلّا یہ  وہ شخص تھا  جس نے سیاست دانوں میں رقم تقسیم کی  اور اس وقت کے جنرل  سلیم بیگ مرزا نے جنرل ضیاء الحق  کی ہلاکت کے بعد  نواز شریف کو پاکستان میں حکومت  تشکیل دینے کے لئے پیسے کا استعمال کیا اور ضیاء الحق کی  ہلاکت کے بعد  عوامی مینڈیٹ  سے جیتی ہوئی  بینظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ضیاء الحق کے منہ  بولے بیٹے  اور اس کی سیاست  کے وارث میاں نواز  شریف کو ایک ٹاسک دیا گیا  کہ پیسے کے بل بوتے  بینظیر بھٹو کی سیاست کو سبوتاژ کیا جائے  اور اس سلسلے میں نواز شریف نے اسامہ بن لادن سے بھی بھاری  رقوم حاصل کی  اور اُس وقت اسلام کے نام نہاد  ٹھیکے دار  عورت کی حکمرانی کو  کفر سمجھتے تھے  اور انہوں نے نصرت بھٹو کے  ساتھ  بینظیر بھٹو  کے خلاف بھی ایک عیر اخلاقی مہم چلائی  اور انتہائی  فحش  لٹریچر  ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عوام الناس میں تقسیم کئے  کیونکہ ان نا خداؤں کے نزدیک عورت کی حکمرانی کفر تھی ۔

 آج اچانک نواز شریف نظریاتی لیڈر ہو گئے  اور انقلابی نظریہ  بھی تبدیل ہوا اور عورت کی حکمرانی کے حق میں ہو گئے جس کے لئے انہوں نے مریم نواز کو سر گرم عمل کر دیا  اور انقلابی اس طرح ہو گئے کہ آمر کی گود میں پرورش پانے والا  فردنواز شریف اپنے آپ کو جمہوری کہلوانا شروع ہو گیا اور عورت کی حکمرانی اس کے نزدیک جائز ہو گئی  کیا آج اسلام کی روح سے وہ نظریات تبدیل ہو گئے ؟  یا جس مذہب کی وہ دلیل دیتے تھے  وہ  مذہب (خدانخواستہ) تبدیل ہو گیا  ؟

یہ وہ سوال ہے جو قارئیں کے لئے چھوڑے جا رہا ہوں ۔

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here