پنجاب یونیورسٹی تصادم: ملوث طلبہ کے خلاف 3 مقدمات درج

Punjab University clash: 3 cases registered against the involved students
Punjab University clash: 3 cases registered against the involved students

:لاہور

جامعہ پنجاب میں گزشتہ روز اسلامی جمعیت طلبہ اور پختون بلوچ کونسل میں تصادم اور ہنگامہ آرائی میں ملوث طلبہ کے خلاف 3 تھانوں میں مقدمات درج کرلیے گئے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہنگامہ آرائی میں ملوث 35 طلبہ کو کلاسوں میں بیٹھنے سے روک دیا۔

دوسری جانب اسلامی جمعیت طلباء کے کارکن آج بھی احتجاج کرتے ہوئے کینال روڈ پر نکل آئے اور کیمپس پل پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث نہر کے دونوں جانب ٹریفک کانطام متاثر ہو کر رہ گیا۔

کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ گذشتہ روز کے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب ترجمان پختون بلوچ کونسل نے الزام لگایا ہےکہ ان کے 2 ساتھی غائب کردیئے گئے ہیں، تاہم اسلامی جمعیت طلباء کا کہنا ہےکہ ان پر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں طلبا گروپوں کے جھگڑے کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہونے پر جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ذکریا زاکر نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز جامعہ پنجاب کے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے ہونے والے پائنیر فیسٹیول کی تیاریاں جاری تھیں کہ بلوچ طلبہ گروپ نے رات گئے دھاوا بول کر ڈپارٹمنٹ میں توڑ پھوڑ کی اور ایک کمرے کو آگ بھی لگادی، ہنگامہ آرائی کے دوران کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے گئے، جس کے بعد پولیس کی نفری نے طلبا کو منتشر کرکے حالات پر قابو پایا۔

اس واقعے کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے گذشتہ روز بھی کنال روڈ پر مظاہرہ کیا اور پولیس کی گاڑی کا گھیراؤ کرلیا، جس سے حالات کشیدہ ہو گئے اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، تاہم بعدازاں صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی میں صورتحال معمول پر، تعلیمی سرگرمیاں جاری

 گذشتہ روز ہونے والے تصادم کے بعد جامعہ میں صورتحال معمول پر آگئی، تمام شعبہ جات میں تدریسی عمل جاری ہے، تاہم حاضری معمول سے کم ہے۔

کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی کی حدود اور ہاسٹلز میں موجود ہے جبکہ ہاسٹلز میں واٹر کینن بھی کھڑے ہیں۔

ہنگامہ آرائی میں ملوث طلبہ کے خلاف مقدمات درج

پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبہ گروپوں میں تصادم، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں لاہور کے مختلف تھانوں میں 3 مقدمات درج کرلیے گئے، جن میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبا گروپوں میں تصادم، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں پہلا مقدمہ پنجاب یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر کی مدعیت میں دوسرا ایس ایچ او نواں کوٹ اور تیسرا ایس ایچ او ساندہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمات دونوں گروپوں کے 15 نامزد اور 100 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیے گئے ہیں اور ایف آئی آرز میں دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔

ہنگامہ آرائی میں ملوث 35 طلبہ کے کلاسوں میں بیٹھنے پر پابندی

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث طلبہ کےخلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے اور 35 طلبہ کا اپنے ڈپارٹمنٹس اور کلاسوں میں آنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ذکریا ذاکر نے متعلقہ شعبہ جات کے سربراہوں کے نام مراسلے میں حکم دیا کہ توڑپھوڑ اور ہنگامہ آرائی میں ملوث 35 طلبہ کو کلاسوں میں بیٹھنے سے روک دیا جائے۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق ان طلبہ کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here