ہر دوا کو بے اثر بنانے والے کینسر کے علاج میں پیش رفت

Progress in cancer treatment
Progress in cancer treatment

:سان فرانسسكو

بعض اقسام کے کینسر ہر دوا کو بے اثر کرتے ہوئے اپنی رفتار سے بڑھتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرطان پھیلنے کے سگنل اور ان سے وابستہ حیاتی کیمیائی تعاملات کا مجموعہ (بایوکیمیکل پاتھ ویز) اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ ان کا علاج محال ہوجاتا ہے۔ لیکن اب ایک نئی دوا سے کئی لاعلاج سرطانوں کے معالجے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

سیل سگنلنگ کی پاتھ ویز (خلیوں کے درمیان پیغام رسانی کےلیے ہونے والے کیمیائی تعاملات یا کیمیکل ری ایکشنز) جو طبی زبان میں آر اے ایس اور ایم اے پی کے کہلاتے ہیں، وہ خلیات کی پیدائش، نشوونما اور ان کی ازخود موت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تقریباً نصف اقسام کے سرطان میں یہ سگنلنگ متاثر ہوکر پیچیدہ ہوجاتی ہے اور دوائیاں ان متاثرہ پاتھ ویز پر اثرانداز ہونے سے قاصر رہتی ہیں؛ اور یوں وہ دوائیں ان سرطانوں کے خلاف بے اثر ہوجاتی ہیں۔

اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو نے ایک کمپنی کے تعاون سے آر اے ایس اور ایم اے پی کے کےلیے نئی معالجاتی تکنیک وضع کی ہے جسے ایم اے پی کے اور ای آر کے پاتھ وے کانام دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات نیچر سیل بایولوجی میں شائع ہوئی ہیں۔

ماہرین کا تیارکردہ نیا مرکب آر ایم سی 4550 کہلاتا ہے جس نے تجربہ گاہ میں پھیپھڑوں، جلد، آنت اور لبلبے کے سرطانی خلیات پر مؤثر وار کرتے ہوئے رسولیوں کی افزائش کو کامیابی سے روکا ہے۔ اس کے علاوہ چوہوں میں کاشت کی گئی، انسانی پھیپھڑوں کی سرطانی رسولیوں کو بھی کامیابی سے تباہ کیا ہے۔

ماہرین اس پیش رفت پر بہت خوش ہیں کیونکہ اس سے نئے سگنلنگ پاتھ وے پر کام کرنے والی نئی دوا کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ آخرکار یہ لاعلاج کینسر کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

وجہ یہ ہے کہ نئے پاتھ وے کی دریافت سے کینسر خلیات کی تقسیم اور بڑھوتری کو مؤثر انداز میں ٹالا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آر اے ایس طریقے سے وہ پروٹین بھی ختم ہوئے جو کینسر کو بڑھا رہے تھے۔

جب اس بنیاد پر بنائی جانے والی ایک دوا کو کینسر زدہ چوہوں پر آزمایا گیا تو ان میں سرطانی عمل بہت حد تک رک گیا۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here