یوٹیلٹی سٹور کارپور یشن آف پاکستان کے مسائل

Utility Stores Corporation of Pakistan to the edge of destruction
Utility Stores Corporation of Pakistan to the edge of destruction

یوٹیلٹی سٹور کارپور یشن آف پاکستان کے مسائل

جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن آف پاکستان کے مسائل روز بروز اضافے کی جانب گامزن ہیں ایک طرف تو پچھلے 5 سال سے اس ادارے کو مستقل بنیادوں پر کوئی مینجنگ ڈائریکٹر نہیں دیا گیا اور دوسری طرف حکومت پاکستان کے کئی ادارے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کے مقروض ہیں مگر افسوس نہ تو  ریاستی ادارے اس ادارے کو رقم ادا کرتے ہیں اور نہ ہی اس ادارے کے اخراجات برداشت کرنے کے لئےکسی اور جانب سے کوئی امدادی رقم ملتی ہے۔

اس وقت اس ادارے نے 20 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے واجبات دوسرے ریاستی اداروں سے لینے ہیں اور جبکہ اس ادارے نے صرف چار ارب روپے اپنے وینڈر زکو دینے ہیں

حکومت وقت دانستہ طور پر اس ادارے کو تباہی کی طرف لے کے جانا چاہتی ہے کیونکہ وہاں سے پرائیوٹائزیشن کے مراحل لاکر اپنے من پسند افراد کو دینے کی خواہاں  ہیں۔

جس ادارے نے حکومت سے 20ارب روپے لینے ہو ں اور صرف چار ارب روپے اس کے ذمے واجب الادا  ہو ں اور رقم نہ ملنے کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹور کا پوریشن آف پاکستان کے ونڈر مال کی سپلائی بند کردیں اس سے زیادہ افسوس ناک اور کوئی بات نہیں ہو سکتی۔

پچھلے ماہ اس ادارہ  کو  ایک ایم ڈی  دیا گیا جو انتہائی قابل ایم ڈی تھا جس نے تمام وینڈر کے ساتھ مذاکرات کیے اور اس کی ذاتی ایمانداری کو مدنظر رکھتے ہوئے ونڈر نے یوٹیلٹی سٹور کو مار دینا شروع کردیا مگر افسوس کے  واجد  سواتی صاحب کو صرف ایک ماہ کے لیے اس عہدہ پر رکھا گیا اور بعد میں اپنے من پسند کے ایم ڈی کو لگا دیا گیا۔

وجوہات کیاتھیں واجدسواتی صاحب حکومت  کی  کون سی بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ؟

وہ  کہانی  ان کی زبانی  اس میں ویڈیو کلیپ   میں  موجود ہے ہم  لگا رہے اآپ اسے غور سے دیکھیں تو آپ پر ہ  یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ حکومت وقت  اور پرائم منسٹر آف پاکستان کے ایک ذاتی دوست کو یوٹیلٹی سٹور کا چیئرمین منتخب کروا دیا گیا

وزیراعظم پاکستان جس طرح اپنے وزرا کے اوپر نظر رکھے بیٹھے ہیں اسی طرح انہیں چاہئے کہ اداروں کے چیئرمین لگاتے وقت بھی ان افراد کی قابلیت کو مدنظر رکھا جائے اور قطع نظر اس کے کوئی بھی زیادتی ایجنڈے یا مفادات ہوں عمران  خان انہیں صرف اور صرف پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے پر مرکوز مجبور  کرے۔

پاکستان خوشحال ہے تو ہم ہیں ورنہ تحریک انصاف کی طرز حکومت اور پاکستان مسلم لیگ کے طرز حکومت میں کوئی فرق نہ رہے گا اور عرصہ 5 سال کے بعد تحریک انصاف کے وزرا  اور محکموں کے چیئرمین حضرات نیب  کی عدالت میں ہونگے جہاں وعدہ معاف گواہوں کی قطار لگ جائے گی اور یہ مفاد پرست فرد اور افراد جو اس وقت مختلف اداروں کی چیئرمین شپ لینے کے لئے بے قرار ہیں پانچ سال کے بعد وہ وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے بے قرار ہوں گے۔

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے وزیراعظم پاکستان عبرت کا نشان بننے سے بچیں اور قابل افراد کا انتخاب کریں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here