یہ کالم 12 جولائی 2017 کوقومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ طاقت کا سرچشمہ

AGHA WAQAR AHMED

طاقت کا سرچشمہ

(یہ کالم 12 جولائی 2017 کو قومی اخبار میں شائع ہو چکا ہے)

دور قدیم کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ایک مراثی کا بیٹا ،خوشبو لگا کر ،سر میں تیل ڈال کر ،مانگ نکال کر، نئے کپڑے پہن کر گھرکی چار پائی پر بیٹھے نجانے کس چیز کا انتظار کر رہا تھا کہ اتنے میں اس کے والد محترم تشریف لے آئے۔

بیٹے کواس قدر تیار دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور دریافت کیا کہ کہاں جانے کا ارادہ ہے ۔میرے علم میں تو کوئی شادی ،بیاہ ،یا میلہ ٹھیلا منعقد ہونے والا نہیں ۔تم کس بات کی تیاری کیئے بیٹھے ہو؟

بیٹے نے انتہائی اضطراب کے عالم میں جواب دیا کہ ابّا جان آپ کو معلوم نہیں کہ چوہدری صاحب بستر مرگ پر ہیں ۔اور گاؤں کے حکیم صاحب نے بتایا ہے کہ ان کے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہیں ۔

باپ نے حیران ہو کر بیٹے سے سوال کیا کہ بستر مرگ پر تو چوہدری صاحب ہیں تمہیں کس چیز کی خوشی ہو رہی ہے ؟

بیٹے نے انتہائی معصومیت سے کہا کہ ابّا ابّا چوہدری صاحب مر جائیں گے تو میں چوہدری بن جاؤں گا۔

باپ نے حیرت سے سر سے پاؤں تک اپنے بیٹے کو دیکھا اور ایک لمبی سانس لی اور سوچ میں گم ہو گیا ۔اور پھر اس نے اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ ’’چوہدری مرے یا جیئے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، نیا چوہدری بھی اسی کی نسل سے ہی آنا ہے۔‘‘ ہم مراثی کے مراثی ہی رہیں گے۔

بیٹے نے مایوس ہو کرکپڑے تبدیل کیئے اور روز مرہ کے کاموں میں لگ گیا۔

پاکستان میں ایک عجیب رسم چل نکلی ہے کہ پرائم منسٹر کا عہدہ خاندانی وراثت میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے جس کی زندہ مثال ذولفقار علی بھٹو کے خاندان کی سیاست ہے جس کی بنیاد بینظیربھٹو نے ڈالی یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ محلاتی سازشوں کے نتیجہ میں ذولفقار علی بھٹو کے دونوں بیٹے غیر طبعی موت کا شکارہوکرجہان فانی سے کوچ کر گئے ۔لہٰذا ذولفقار علی بھٹو کی وارث بینظیر بنیں اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بینظیر کا وارث بلاول زرداری بنا ۔

بلاول زرداری نے عوام کو دھوکا دینے کے لئے اپنا نام بلاول بھٹو زرداری رکھ لیا اور اس کی تمام تر کمانڈ اپنے والد آصف علی زرداری کو تھما دی ۔ جو کسی زمانے میں (Mr. ten percent) کا نام سے جانے جاتے تھے ۔

پہلے نواز شریف پھر بینظیر بھٹو پھر نواز شریف اور پھر بینظیر بھٹوکی حکومت آپ لوگوں نے دیکھی وہ وقت بھی کیا سہانہ وقت تھا ۔کہ بینظیر مرحومہ کے شوہر آصف علی زرداری اورمحترم نواز شریف چھوٹے بھائی بڑے بھائی بن گئے تھے اس طرح آصف علی زرداری کی دانش مندی سے پہلی دفعہ عوامی جمہوری پارلیمانی نظام اپنا مقرر وقت پورا کر کے اختتام پذیر ہوا ۔

پاکستان میں یہ واحد جمہوری دور تھا جو 2008سے 2013تک اپنا مقرر وقت پورا کر گیا مگر اس دور میں بھی کچھ اندونی کچھ بیرونی طاقتوں نے ایک منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورِ حکومت میں ان کو نا اہل قرار دے کر محترم راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم پاکستان بنوایا ۔اور پیپلز پارٹی نے محترم آصف علی زرداری کی حکمت عملی سے اپنا دورانیہ مکمل کیا ۔

2013  میں میاں محمد نوازشریف کی سیاسی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) بر سر اقتدار میں آئی اور آج وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے مشکلات میں گھیر چکی ہے ۔بادی النظر یہ حکومت اپنا اقتدار کھو چکی ہے ۔اور عدلیہ کے ایک حکم نامے کی نذر ہو سکتی ہے۔کیونکہ مسلم لیگ بھی ایک فرد واحد میاں محمد نوازشریف کے دم سے ہے اسی لئے اس جماعت کا مکمل نام پاکستان مسلم لیگ نواز یا پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے۔

قوم کو مراثی کے باپ کے جواب کو کبھی فرا موش نہیں کرنا چاہیے کہ ’’چوہدری مرے یا جیئے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں نیا چوہدری بھی اسی کی نسل سے ہی آنا ہے۔‘‘

حالات حاضرہ پر نظر دوڑائی جائے تو باقی کے دس ماہ جو اس جمہوری حکومت کے رہ گئے ہیں ان میں بھی کوئی عام آدمی حکمران نہیں بن سکتا جبکہ مسلم لیگ (ن) میں بہت قابل افراد موجود ہیں مگر خاندانی سیاست ہونے کی وجہ سے وراثت کا قرعہ حمزہ شہباز پر نکلنے کی قوی امید ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ آج بھی یہاں دور جہالت کا قانون رائج ہے کہ چوہدری کے بعد چوہدری کا بیٹا ہی حکمران ہو گا۔اور عوام ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جائیں گے ۔یہ حقیقت ہے کہ ایوانِ اقتدار میں عام آدمی کی رسائی اور اقتدارو اختیار میں آنا ناممکن ہے مگر جو کوئی بھی آتا ہے اس کو لانے میں عام آدمی کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔

کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ’’ طاقت کا سر چشمہ ‘‘ عوام ہیں مگر پاکستانی عوام کو یہ سمجھائے گا کون؟؟؟؟

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here