ممکنہ حقائق

AGHA WAQAR AHMED

ممکنہ حقائق

سناٹا، رات کا اندھیرا اور آدھی رات کا پہر تھا۔ باہر تو ایسے لگتا تھا کہ جیسے کوئی انسان اس شہر میں موجود ہی نہیں اور ہوا کے تیز جھونکے درختوں سے گزر کے خوفناک آوازیں پیدا کر رہے تھے اسی درمیان ایک اعلٰی شان ڈرائینگ روم میں چند افراد پریشانی کے عالم میں گفتگو میں مصروف تھے اور اُن کی تمام تر کوشش کے باوجود ایک انسان جسے ضدی انسان کہہ دوں تو کوئی حرج نہیں، بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ ڈرائینگ روم میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق، وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بڑی کوشش کر رہے تھے کہ کسی طریقے سے وہ نواز شریف کو قائل کر لیں کہ نواز شریف اپنی رائے تبدیل کریں جو کہ انہوں نے دیرینہ ساتھی چودھری نثار کے متعلق قائم کر رکھی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ چودھری نثار پاکستان مسلم لیگ ن کے وفادار اور قدیم ترین ساتھی ہیں

لیکن نواز شریف کے انکار اور نا ماننے کی ضد قائم تھی اس تمام گفتگو اور میٹنگ کا قطعاََ علم نہیں تھا پاکستان کے وزیراعظم شاھد خاقان عباسی کو اور جب وہ صبح قومی اسمبلی کی راہداری میں چودھری نثار سے ملے تو انہوں نے کہا کہ چودھری صاحب کیا آپ ووٹ ڈالیں گے؟ تو چودھری نثار نے جواب دیا کہ ڈالوں گا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ مسلم لیگ کو ووٹ ڈالیں گے، چودھری نثار صاحب نے مثبت انداز میں سر ہلایا اور اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ چودھری نثار اس تمام تر یکطرفہ ناراضگی کے باوجود  بھی آج  مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈالنےقومی اسمبلی کی رایداری میں پہنچ چکے تھے اور ان کا سامنا وزیراعظم پاکستان سے ہو چکا تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ قوتیں جو  یہ نہیں چاہتیں کہ چودھری نثار اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان اختلافات ختم ہوں اور ان اختلافات کو تقویت دینے کے لیے نا تو چودھری نثار کو وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں بلایا گیا اور نا ہی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں، اس کے پیچھے بھی کوئی راز ہے جو وقت آنے پر عیاں ہو گا لیکن میں کوشش کرتا رہوں گا کہ گائےبگاہے آپ کو اپنے تجزیے سے آگاہ کروں اور اس راز سے پردہ اٹھاؤں کہ وہ کون سی طاقتیں ہیں جو نواز شریف اور چودھری نثار کے 30 سالہ دوستی میں دراڑ ڈالنے کی کوشش میں سرگرمِ عمل ہیں۔

لیکن جب ان تمام حالات کو غور سے دیکھا جائے تو ایک اور احساس  ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر دو دھڑے اپنے اپنے طور پر کام کر رہے ہیں، ایک دھڑا جس میں شہباز شریف، سعد رفیق، چودھری نثار اور اس طرح کے بہت سے وفادار نام موجود ہیں جو مسلم لیگ ن کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں جبکہ دوسرا دھڑا نواز شریف، مریم نواز اور ان کے دربار میں موجود چند مسخرے، خوشامدیوں کی وجہ سے جنم لے رہا ہے۔ اس کی تصدیق وہ  قارئین  کریں جنہوں نے نواز شریف کو باغور دیکھا جب وہ شہباز شریف صاحب کو مستقبل کا قائم مقام صدر نامزد کر رہے تو نواز شریف کے چہرے سے عیاں تھا۔

حالات کس طرف جائیں گے؟ کیا مسلم لیگ ٹوٹنے سے بچ جائے گی؟ کیایہ مزید حصوں میں تقسیم تو نہیں ہو گی؟

حقیقت ہے کہ عوام میں پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے متعلق چہ مگوئیاں تو ضرور ہو رہی ہیں مگر پھر بھی ووٹ کی اکثریت آج بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہے یہ کوشش کریں گے کہ ہم کھلی آنکھ کے ساتھ اس پر نظر رکھیں اور آپ کو اس سے بروقت مطلع فرمائیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here